غزہ کے بچوں کی نسل کشی

غزہ میں جاری نسل کشی کا سب سے ہولناک پہلو جو امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث اخبارات کے صفحۂ اول سے اوجھل ہو گیا ہے، اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنانا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ 32 ماہ کے دوران صہیونی افواج کے ہاتھوں غزہ میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی بچے یا تو شہید ہوئے ہیں یا زخمی، اور جنگ بندی کے باوجود یہ نسل کشی جاری ہے۔ یونیسیف کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اوسطاً ہر روز ایک فلسطینی بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ دستاویزی تاریخ میں شاید ہی بچوں کے خلاف نسل کشی کی اس سے ملتی جلتی کوئی مثال موجود ہو۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے قائم مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی تین رکنی رپورٹ نے اس المیے کی مزید دل دہلا دینے والی تفصیلات پیش کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20179 بچے شہید اور 44143 زخمی ہوئے۔ زخمی ہوئے۔

کمیشن نے اس بات کا جائزہ لیا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ زندگی کے حالات کس طرح "بچوں کی قابلِ تدارک اموات" کا سبب بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شدید جسمانی و ذہنی زخم، اجتماعی صدمہ، یتیمی، خاندانوں سے جدائی، معذوری، بار بار نقل مکانی، بھوک، اور تعلیم و صحت کے نظام کی تباہی نے غزہ میں بچپن کا وجود تقریباً مٹا دیا ہے۔ یہ حالات وہاں کے بچوں کی پوری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ، بھارتی جج سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ ’بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی عوام کے وجود برقرار رکھنے اور اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے اور اس کی آبادیاتی قوت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یتیم بچوں کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے، جبکہ زخمی بچوں کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا ہے، جو اب غزہ کے بچوں کی آبادی کا ایک نمایاں حقیقت بن چکی ہے۔ محاصرے نے تولیدی صحت اور نومولود بچوں کی نگہداشت کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جبکہ صحتِ عامہ کے نظام کی تباہی نے آئندہ نسل کی صحت مند نشوونما کے لیے ضروری بنیادوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کی ایک پوری نوجوان نسل کو تقریباً مٹا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم ان جنگی جرائم کے مرتکب ملک پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔ نام نہاد مہذب مغربی دنیا کی مجرمانہ خاموشی اور خطے کی حکومتوں کی بے حسی نے صہیونی ریاست کو مسلسل استثنا اور بے خوفی فراہم کی ہے۔ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود تقریباً تین سو مزید بچے غزہ میں شہید ہو چکے ہیں، جہاں کا بیشتر حصہ اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔ یونیسیف کے مطابق بچوں کو ’گولی مار کر، بمباری کر کے اور کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ وہ خیموں، اسکولوں، فٹ بال کھیلتے ہوئے یا مچھلیاں پکڑتے ہوئے بھی مارے گئے‘۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کی ایک پوری نوجوان نسل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ہے۔

غزہ سے باہر بھی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ تحقیقاتی کمیشن نے مغربی کنارے میں، جو 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے، فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم، جبکہ مغربی کنارے میں جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا‘۔ رپورٹ میں دستاویزی شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے کے بچوں، خصوصاً نوعمر لڑکوں، کو ’گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا‘۔ اس کے علاوہ گرفتاریوں اور حراست کے دوران فلسطینی بچوں کے خلاف جنسی اور صنفی تشدد کے متعدد واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ اسرائیل پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اور خبردار کرتی ہے کہ انسانی امداد پر عائد پابندیوں نے غزہ کے بچوں میں شدید اور طویل المدتی غذائی قلت پیدا کر دی ہے، جس سے ان کی بقا کے لیے ضروری بنیادی حالات بھی ختم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں اسرائیلی فوج کی بعض مخصوص ڈویژنوں، بریگیڈز اور یونٹس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں غزہ اور مغربی کنارے میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعض واقعات کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ "Unshielded Childhood" میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کی غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر ہلاکتیں اسرائیل کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت فلسطینیوں کو بغیر کسی جوابدہی کے قتل کیا جاتا ہے۔ فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیل کی اس نسل کش جنگ میں امریکہ کی شراکت بھی بالکل واضح ہے۔ توقع کے عین مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کو اسرائیل کی طرح جانبدار قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔ اس نے نہ صرف صہیونی ریاست کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کا کردار ادا کیا بلکہ عملاً ان کی سرپرستی بھی کی۔ بعض مغربی ممالک کا ردِعمل بھی مایوس کن رہا، اور کچھ نے تو رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف پہلے ہی جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیے گئے اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے، جس کی حمایت 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت 65 دیگر ممالک بھی کر رہے ہیں۔ اس مقدمے میں اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے غزہ میں فلسطینی عوام کو تباہ کرنے کے ارادے سے اقدامات کیے ہیں۔ جنوری 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ نسل کشی کی روک تھام کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام اقدامات کرے اور غزہ تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔ مارچ 2024 میں عدالت نے ایک اور حکم جاری کرتے ہوئے خوراک، پانی، بجلی، ایندھن اور طبی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فلسطینی عوام کے نسل کشی سے تحفظ کے حق کو حقیقی خطرہ لاحق ہونے کا امکان موجود ہے۔ اسرائیلی اعلیٰ حکام کے وہ بیانات، جن میں فلسطینیوں کو ’انسانی جانور‘ کہا گیا، غزہ کو ’مکمل طور پر مٹا دینے‘ کا مطالبہ کیا گیا اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ عدالت کی نظر میں نسل کشی کنونشن کے تحت اسرائیل کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اسرائیل اس مقدمے کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے خارج کرانا چاہتا ہے کہ یہ معاملہ نسل کشی کا نہیں بلکہ مسلح تنازع کا ہے۔ امریکہ، جو اکثر بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے اختیار کو تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے، اسرائیل کے اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔

فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے سے متعلق اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ ان شواہد کو مزید مضبوط کرتی ہے جو اسرائیل کی مبینہ نسل کشی کی نیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ غزہ اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت سے لوگوں کو ہولوکاسٹ کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی بچوں کی یہ نسل کشی انہی لوگوں کے ہاتھوں انجام دی جا رہی ہے جو خود کو اس تاریخی سانحے کے متاثرین کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی غزہ کے بچوں کے خلاف جاری اس نسل کشی کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے کہا، بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل ’فلسطینی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے، اس کی آبادیاتی قوت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور فلسطینی عوام کی اس صلاحیت کو ختم کر رہا ہے کہ وہ ایک قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکیں اور اپنے مستقبل کا خود تعین کر سکیں‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا فلسطینی ماؤں اور بچوں کی درد بھری پکار سن رہی ہے؟

(بشکریہ: روزنامہ ڈان)