سیاسی جماعتیں اور خواجہ سعد رفیق کی وارننگ

’دہائیوں کی محنت اور محلاتی سازشوں کے بعد ہماری پیاری سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ بے وقعتی کی حدوں کو پہنچ  چکی ہیں‘۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا خواجہ سعد رفیق نے اپنی فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھی ہے۔ یعنی یہ لنکا گھر کے بھیدی نے ڈھائی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق نے سیاست کے بہت سے گرم و سرد موسم دیکھے ہیں۔ کبھی آمر کی کابینہ میں رہے اور کبھی منتخب وزیراعظم کے ساتھ چلے۔ تاہم ان کی سوچ ہمیشہ سیاسی رہی ہے۔ ان کی سیاسی سوچ کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی شکست کو تسلیم کیا اور مانگے تانگے کی فتح سے انکار کر دیا۔وہ آج کل ایک ایسے مصلح کا کردار ادا کر رہے ہیں جو حالات کی کروٹوں پر حیران بھی ہے اور کڑھ بھی رہا ہے۔ ان کا مندرجہ بالا جملہ ایک تفصیلی پوسٹ کا آغاز ہے، جس میں انہوں نے یہ بنیادی بات کی ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے ہاتھ سے خود کو اس گڑھے میں دھکیلا ہے جہاں سے نکلنے کا اب راستہ نظر نہیں آ رہا۔ ان کا یہ کہنا بہت بروقت ہے۔

”اس سے ایک تہائی محنت جماعتوں کی تنظیم،اندرونی جمہوری رویوں کے قیام، میرٹ پر مبنی سیاست اور مخالفانہ آوازوں کو برداشت کرنے پر کرلی جاتی تو ہم ایک پرامن، مستحکم اور جمہوری معاشرہ بن چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں کسی جماعت یا ادارے کے ہاتھ صاف نہیں“۔اسے کہتے ہیں بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی تاہم رسوائی کی اس بات کو خواجہ سعد رفیق نے اپنی پوسٹ میں بہت آگے تک بڑھا دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں  ”امر واقعہ یہی ہے کہ مخالفین کو دبانے کے لئے ریاستی اداروں کے کندھے استعمال کرتے کرتے سول پیس برائے نام رہ جاتی ہے اور آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے مفاد میں یہ سب  سہانا دکھائی دیتا ہے۔ تاآنکہ ہماری باری آجاتی ہے“۔زمینی حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے انہوں نے وارننگ دی ہے۔ ”آئین پاکستان کی روح کے مطابق حل کرنے والوں کے لئے سیاست میں رہنے کی گنجائش کم ہو رہی ہے اور دائروں میں ہمارا سفر جاری ہے۔ یہی حالات رہے تو مختلف ناموں اور ٹائٹلز سے بننے والے جتھے، کمیٹیاں اور مسلح لشکر راج کرتے نظر آئیں گے۔ ایک دوسرے کو پچھاڑنے،گڑنے اور رگیدنے سے فرصت ملے تو اپنی غلطیوں پر غوروخوض کرکے دلالوں کی جانب اجتماعی پیش قدمی روکنے پر غور کر لیا جائے“۔

موجودہ سیاسی فضا میں شاید خواجہ سعد رفیق کی یہ باتیں بے وقت کی راگنی ثابت ہوں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو بالکل ان باتوں کا ہوش نہیں جن کا ذکر خواجہ سعد رفیق نے کیا ہے۔ سول سپرمیسی تو اب ایک خواب و خیال بن چکی ہے۔ جمہوریت کے بارے میں بھی عوام بددلی کا شکار ہیں ایسے میں وہی ہوگا جس کی طرف خواجہ سعد رفیق نے اشارہ کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جتھے، گروہ اور مسلح لشکر اس ملک کے نمائندے بن جائیں گے۔ ان کی یہ بات اس لئے غلط نہیں کہ بلوچستان میں ہم یہ منظر دیکھ رہے ہیں جہاں مین سٹریم کی جماعتیں اپنا اثر کھو چکی ہیں اور مسلح گروپ حاوی ہو چکے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں، وگرنہ شاید وہ یہ باتیں اسمبلی کے فلور پر کرتے۔ بظاہروہ اس وقت اپنا ایک باغیانہ کردار ادا کررہے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ (ن) موجود ہائبرڈ نظام سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہے۔ اس کے وزرا میں ایک تکبر اور انانیت نظر آ رہی ہے۔ ”خریدا ہے بھئی“ جیسے جملے کسی بھی طرح جوابدہ سیاست کے زمرے میں نہیں آتے، مگر دھڑلے سے اسمبلی کے فلور پر بولے جاتے ہیں۔

ایک دوسرے کو رگیدنے کی پالیسی سیاست وجمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے۔ جیسا کہ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے، مخالفوں کو دبانے کے لئے ریاستی اداروں کو استعمال کرتے کرتے ایک دن ایسا آ جاتا ہے، جب اپنی باری بھی آجاتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق کی اس بات میں تو گویا ملک کی تاریخ رقم ہو گئی ہے“ جب بھی ملک کو چند قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی،  جمہوریت، انصاف، ترقی، استحکام اور قومی سلامتی کی آڑ میں انہیں ریورس گیئر لگا دیا گیا“۔ اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ ایسی باتیں اگر خواجہ سعد رفیق کے ذہن میں آ سکتی ہیں تو باقی سیاسی قیادت کیوں ان سے محروم ہے۔ کیا وہ سب کسی اور ملک یا کسی اور دنیا میں رہتی ہیں۔ یہ  اپنے مفاد کے لئے کندھا پیش کرنے والی عادت کب چھوٹے گی۔ اور کچھ نہیں تو سیاسی جماعتیں اپنی سیاست اور جمہوریت کا ہی دفاع کرلیں اور اس ایک ایجنڈے پر متفق ہو جائیں  کہ موجودہ حالات میں عوام کی اپنی ہی سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیارائے ہے ۔اگر اس کو سنجیدگی سے لیا جائے تو اندازہ ہو جائے کہ سیاسی جماعتیں بقول خواجہ سعد رفیق کیوں پارلیمنٹ سمیت بے وقعتی کی حدوں کوپہنچ چکی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اقتدار سب سے زیادہ ناقابلِ اعتبار شے ہے۔ آج ہے کل نہیں ہے، والی صورت ہر دور میں رہی ہے۔منتخب وزرائے اعظم پتوں کی طرح جھڑتے رہے ہیں۔ اب اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ کسی حقیقی جمہوری نظام کی بجائے ہائبرڈ نظام بنا لیا جائے تاکہ چلتا رہے، وہ چلتا رہے گا لیکن اس کی صورت اور وقعت تو وہی ہوگی جو اس وقت ہے۔ یہ تاثر کیوں گہرا ہورہا ہے کہ سیاسی قوتیں برابری کی حیثیت بھی کھو چکی ہیں۔ اب وہ فیصلہ ماننے والوں کی پوزیشن پر کھڑی ہیں۔خواجہ سعد رفیق جیسے سیاست دانوں کی آوازیں غنیمت ہیں کم از کم سیاسی آواز کو تو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

دیکھا جائے تو اس وقت صحیح معنوں میں اپوزیشن کی آواز خواجہ سعد رفیق بنے ہوئے ہیں۔ وہ اصولی، سیاسی اور جمہوری بات کررہے ہیں۔ یہ بات اسٹیبلشمنٹ کو بھی سمجھنی چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو بھی کہ پاکستان کی بقا  اس میں ہے کہ یہاں سیاست اور جمہوریت زندہ رہے۔ باقی سب تجربے کرکے دیکھ لئے ہیں، انتشار بڑھا ہے،کم نہیں ہوا۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو کم از کم دو نکات پر متفق ہونا چاہیے کہ سیاست چلے گی اور جمہوریت قائم رہے گی ان کے بغیر عدم استحکام بڑھے گا۔ اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)