مڈل ایسٹ میں نئی ہلچل
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 04 / جولائی / 2026
اسلام آباد ڈیل یا مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ہمارے یہاں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ شاید اب مڈل ایسٹ میں امن و سلامتی کے حوالے سے حالات بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔ لیکن جلد یا بدیر سب پر یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ سب محض خام خیالی یا کھوکھلی لفاظی تھی۔
پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ ٹرمپ ایک ایسا انوکھا امریکی پریزیڈنٹ ہے جس کے متعلق کوئی بھی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی اور نہ ہی کوئی اس پر اعتماد کر سکتا ہے۔ مخالف تو مخالف، حمایتی بھی اسے رنگ باز خیال کرتے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس سے لے کر ہمارے بلند پرواز تک جو لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ یہ جے ڈی وینس وہی شخص ہے جس نے ایک وقت ٹرمپ اور اس کی اپروچ کو ہٹلر سے تشبیہ دی تھی، جبکہ ہمارے گھر کی اتنی پتلی صورت حال ہے کہ ہم کسی بھی امریکی صدر کی قصیدہ گوئی کے سوا اور کوئی آپشن ہی نہیں رکھتے ہیں۔
ٹرمپ ایک ہی سانس میں ایرانی رجیم کی وکالت کرتے یہاں تک جاتے دکھتا ہے کہ اسے تباہی پھیلانے والے میزائل رکھنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دیگر امن پسند ہمسایہ عرب ممالک کو، دوسری سانس میں ہانکتا ہے کہ ایران کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، ایرانی تہذیب کو برباد کر دیں گے، ایرانی رجیم نے رویہ نہ بدلا تو ہرمز اور ایران پر قبضہ کر لیں گے۔ ایٹمی ہتھیار بنائے تو ایران پر قیامت ڈھا دیں گے۔ کبھی تین سو ارب ڈالر دلوانے کی بات کرتا ہے اور کبھی ہانکتا ہے کہ ایک سینٹ بھی نہیں دیں گے۔ دوسری طرف ایرانی پاسداران ہی نہیں ایرانی صدر اور مجلس کے سپیکر تک ٹرمپ کی ان گیدڑ بھبھکیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ باقر قالیباف نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ٹرمپ ہم تمہاری دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اگر تمہاری دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو تم آج مایوسی کی اس حالت تک نہ پہنچے ہوتے، اسی طرح امن بات چیت کے ساتھ حملے بھی چل رہے ہیں۔
تیسری جانب اندرون ملک بھی ٹرمپ پر خوب تنقید ہو رہی ہے، حتیٰ کہ اس کی پارٹی کے اپنے لوگ بلبلا رہے ہیں کہ تم یہ سب کیا کر رہے ہو؟ گلف میں امریکا کے روایتی حلیف تقریباً تمام ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان تک میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکا خود اپنا تحفظ کرنے میں ناکام ہوا ہے اور وہ ہمارا تحفظ کیا کرے گا؟ اپنی حماقتوں سے ٹرمپ نے اپنی مضبوط ترین اسرائیلی لابی کو بھی بڑی حد تک بدگمان کر لیا ہے، اسی لیے اب اس نے اسرائیل کو دھمکانے کے بعد پینترا بدلا ہے اور حزب اللہ کو دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ اپنے امریکی ناقدین کو مطمئن کرنے کے لیے اب ٹرمپ اور وینس دونوں نے اس نوع کے شوشے چھوڑنے شروع کر دیے ہیں کہ جو منجمد ایرانی اثاثے ہم واگذار کرنے جا رہے ہیں، ان کی رقوم تو ایران کو نہیں ملیں گی، البتہ ان ڈالروں کے بدلے ہم انہیں امریکی سویا بین، مکئی اور گندم دیں گے۔ اس سے ایرانی عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا اور امریکی کسان بھی امیر ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ پہلے بولے گئے جھوٹوں جیسا ہی ایک جھوٹ ہے، اپنے ووٹرز کو نرم کرنے کے لیے۔
چوتھی جانب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو خصوصی طور پر عرب خلیجی ممالک بھیجا گیا ہے تاکہ اپنے عرب اتحادیوں کےنئے شبہات و سوالات پر انہیں مطمئن کیا جا سکے اور یہ یقین دہانی کروائی جا سکے کہ ایرانی رجیم کے ساتھ اضطرار یا مجبوری میں ہم نے جو بھی معاملات کیے ہیں، اس سب کے باوجود ہم آپ کی سیکیورٹی اور مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ایرانی میزائلوں کی صورت میں، آپ کے ممالک اور یہاں موجود امریکی بیسز پر جو حملے ہوئے ہیں، آئندہ کے لیے از سر نو ان کی بہتر پیش بندی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ کچھ مقامات پر کمانڈ سینٹرز زیر زمین منتقل کیے جا رہے ہیں، موجودہ جنگ بندی ایک عارضی وقفہ ہے نہ کہ تنازعہ کا مستقبل حل۔ خلیجی ممالک نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ حالیہ جنگ میں نقصان بھی ہمارا ہی ہوا ہے اور الٹے ہم ہی ایران میں اربوں ڈالروں کی انویسٹمنٹ کریں، آخر کیوں؟
مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں شریک تمام خلیجی عرب ممالک کی نہ صرف یہ کہ شکایات سنیں بلکہ انہیں مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی۔ سعودی عرب کی طرف سے آبنائے ہرمز، لبنان اور غزہ کے ایشوز بھی اٹھائے گئے۔ سب سے بڑھ کر سلطنت اومان کے تحفظات دور کیے گئے۔ پچھلے دنوں ٹرمپ نے اومان کے حوالے سے شدید زبان استعمال کی تھی۔ سٹریٹ آف ہرمز میں ایران کے بالمقابل دوسری جانب جغرافیائی طور پر اومان ہے۔ دونوں کے بیچ ایک مقام پر چوڑائی محض 33 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ اس تناظر میں ایران نے کوشش کی تھی کہ اومان کو شیشے میں اتارتے ہوئے باہم مل کر جہاز رانی کو دی جانے والی مبینہ سہولیات کے نام پر کچھ فیسز رکھوا لی جائیں مگر روبیو کی اس میٹنگ میں دیگر خلیجی ممالک سے کامل اتفاق کرتے ہوئے اومان نے امریکا کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلنے کا اعلان کیا، جس پر ایران تلملا اٹھا۔
خلیجی تعاون کونسل کے اس اجلاس میں مارکو روبیو نے کہا کہ سٹریٹ آف ہرمز کسی ریاست کی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ریاست یہاں ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی مجاز ہے۔ اگر ایران نے ایسی کوشش کی تو یہ عالمی آبی راستوں میں وبا کی طرح پھیل جائے گی۔ اس سے پوری دنیا ایک نوع کے انتشار اور افراتفری میں ڈوب جائے گی۔ ہم امن معاہدہ ضرور چاہتے ہیں لیکن کسی ایسی قیمت پر نہیں جو ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہو یا اس سے ہمارے خلیجی اتحادیوں کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو کسی نوع کی گزند پہنچے۔ انہوں نے اپنے عرب حلیفوں کو یقین دلایا کہ کسی بھی ڈیل کی صورت میں، آپ کے مفادات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔
پانچویں جانب اپنے عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے ایرانی پراکسیوں بالخصوص حزب اللہ اور حوثی باغیوں کے خلاف ڈپلومیسی تیز کر دی گئی ہے۔ امریکی نگرانی میں اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ہونے والا حالیہ فریم ورک معاہدہ بھی اس کی کڑی ہے، جس کا مقصد لبنان میں ایرانی پراکسی حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔ معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیلیوں پر حملہ کرے گی تو اسرائیل کو بھی جوابی کارروائی کا حق حاصل ہوگا۔ جامع معاہدے کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔ اس معاہدے میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ حزب اللہ کو بہرصورت غیر مسلح کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں امریکا لبنانی فورسز کی مدد بھی کرے گا۔ یوں لبنانی حکومت ریاست کے اندر حزب اللہ کی ریاست کا خاتمہ کرنے کی پابند ہوگی۔ مزید یہ کہ جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا، اسرائیلی فورسز ساؤتھ لبنان میں موجود رہیں گی۔یہ معاہدہ واشنگٹن میں ہونے والے فریم ورک کا تسلسل ہے۔ اس کے ساتھ شامی صدر احمد الشرع کو بھی ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ ایرانی پراکسی حزب اللہ کو کچلنے میں معاونت کریں۔
چھٹی جانب نئے عراقی پرائم منسٹر علی زیدی نے ایران کے ساتھ منسلک تمام مسلح ملیشیاؤں کو آخری الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ عراقی افواج کی ماتحتی میں آ جائیں یا پھر 30 ستمبر تک اپنے ہتھیار حکومت کو جمع کرواتے ہوئے پوری طرح غیر مسلح ہو جائیں۔ اس نوع کی اطلاعات بھی ہیں کہ عراقی حکومت نے 47 ایران نواز شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ عراق میں مسلح شیعہ گروہ، جو خود کو مزاحمت کا محور قرار دیتے ہیں، یہ امریکی و اسرائیلی مفادات پر حملے کرتے رہے ہیں۔ نئے عراقی پرائم منسٹر چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایران کے فارن منسٹر عباس عراقچی نے عراق کا ہنگامی دورہ کیا، لیکن عراقی پرائم منسٹر نے اپنی پالیسی میں رد و بدل سے انکار کر دیا۔
درویش کا ماننا ہے کہ مڈل ایسٹ کی موجودہ صورتِ حال تا دیر برقرار نہیں رہ پائے گی۔ اسرائیل کسی بھی طرح سرنگوں ہوتا نہیں دکھتا، بلکہ ولایتِ فقیہ کو اپنی سوچ بدلنی پڑے گی، یا پھر ایرانی عوام کو راستہ دینا ہوگا۔ اس حوالے سے ٹرمپ جو بھی حماقتیں کر رہا ہے، نومبر کے بعد ابر آلود مطلع صاف ہو جائے گا۔ اگر نومبر میں ٹرمپ بچ بھی گیا، تو اگلے الیکشن میں ٹرمپ ہی نہیں، اس کی پارٹی بھی رخصت ہو جائے گی۔ یوں امریکی ڈیموکریٹک سسٹم حالیہ حماقتوں کی تلافی کرتے ہوئے عالمی سپر پاور کو نئے اندازِ حکمرانی کے ساتھ اصل ڈگر پر لے آئے گا لیکن ٹرمپ کے ڈالے ڈینٹس دور ہونے میں عرصہ لگے گا۔