کون ’اِن‘ اور کون ’آؤٹ‘؟

یادش بخیر سرور سکھیرا نے دھنک میں ایسے رنگ جمائے کہ اردو نثر اور صحافت کے نئے نئے دروازے کھول دیئے۔ دوسری طرف شکیل عادل زادہ نے سب رنگ کے ذریعے اردو ادب اور اردو کہانی کا مرتبہ سربلند کردیا۔

مجھے لڑکپن سے پڑھنے کی چاٹ لگی ہوئی ہے، اس لیے دھنک اور سب رنگ میرے تحت الشعور کا حصہ ہیں۔ سرور سکھیرا ہر شمارے میں ’اِن اور آؤٹ‘ کے نام سے ایک تحریر لکھا کرتے تھے جس میں سیاست، فیشن اور سوسائٹی میں اُبھرنے والوں اور طاقت پانے والوں کا وہ ’اِن‘ کہہ کر ذکر کرتے اور زوال پذیر یا کمزور پڑنے والوں کے نام ’آؤٹ‘ ہونے والوں میں لکھتے۔ عرصہ ہوا یہ روایت دم توڑ چکی۔ مگر دھنک نے جو رجحانات دیئے آج وہ چاہے کمزور شکل میں ہی سہی، کہیں نہ کہیں ان پر تجربات جاری ہیں۔

فضا اس قدر کشیدہ ہوچکی ہے کہ سیاست، مذہب اور معاشرت میں طنز، مزاح اور تنقید سے لطف لینے کی بجائے مصنف یا رائٹر کی ایسی تیسی کردی جاتی ہے۔ حالانکہ مصنف کی بجائے اس کے مواد پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ مصنف تو ہر طرح کی چیزیں لکھتا ہے اس کی ذات کو مسخ کرنا اعلیٰ ادبی، سیاسی یا سماجی ذوق کا حصہ نہیں ہوتا۔ ایک زمانے میں ظفر اقبال اوکاڑوی سیاست پر جو اُس وقت لکھتے رہے ہیں، وہ آج بھی لکھنا محال ہے۔ طنز، مزاح اور دلچسپ تشریحات جو وہ کیا کرتے تھے، اب ان کی پیروی میں ویسا قلم اُٹھانا بھی ممکن نہیں رہا۔ میرے مہربان حسن نثار، فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں پر جس طرح بولڈ اظہار کرتے تھے، وہ عنقا ہوا۔

ماضی کے مقرر کیے گئے معیارات سے آگے کیا جانا تھا، اردو نثر، صحافت اور ادب پیچھے سے پیچھے چلے جارہے ہیں۔ سیاسی، سماجی اور سرکاری پابندیوں نے ادب اور صحافت میں طنز و مزاح اور نئے تجربات کا راستہ بند کر رکھا ہے۔ مگر سرور سکھیرا کی پیروی میں اِن اور آؤٹ لکھنے کی کوشش کی ہے، کہاں سرور سکھیرا جیسا بااثر تخلیق کار اور کہاں ابنِ سرور سلطان جیسا بے اثر اور خام صحافی۔

اپوزیشن پر لکھنا سب سے آسان ہوتا ہے، اس لیے اسی سے شروع کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی اندرونی لڑائیوں کی خبریں تو روز ہی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں مگر ایک خام صحافی کو ایک سوال بار بار پریشان کرتا ہے کہ عمران خان جیل گئے تو شروع شروع میں تحریک انصاف کے مرکزی اسٹیج پر بطور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نمایاں نظر آتے تھے یعنی وہ اس زمانے میں ’اِن‘ تھے مگر اب کیا ہوا ہے وہ بالکل غائب ہوگئے گویا وہ اپنی سیٹ کا الیکشن کیا ہارے تحریک انصاف کی مرکزی سیاست سے بھی ’آؤٹ‘ ہوگئے۔ مزاحمت اور رومان کے شاعر احمد فرازؔ کے ہونہار فرزند شبلی فراز بھی اس زمانے میں ’اِن‘ ہوا کرتے تھے، عمر ایوب کیا گئے شبلی فراز بھی ’آؤٹ‘ ہوئے لگتے ہیں۔ ایک اور نمایاں ترین نام پرویز خٹک کا ہوتا تھا۔ آخری خبروں سے پتہ چلا تھا کہ اُنہیں وفاقی وزارت داخلہ میں مشیر کا عہدہ ملا تھا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ بڑی مشکل سے انہیں وزارت داخلہ میں ایک دفتر مل گیا ہے لیکن یہ آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں ’اِن‘ ہیں۔ عام تاثر تو یہی ہے کہ وہ ابھی تک ’آؤٹ‘ چلے آرہے ہیں۔

تحریک انصاف کے بانی تو خانوں کے خان ہیں اور پارٹی میں اُنہیں خان کے نام سے ہی بلایا اور یاد کیا جاتا ہے مگر اس کے خاندان میں کئی خان اور بھی ہیں، ان کی بہن علیمہ خانم صاحبہ خان صاحب کا زنانہ چہرہ ہیں۔ لیکن کئی معاملوں میں وہ خان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ اس لیے وہ ’ڈیڑھ خان‘ کہلاتی ہیں۔ جب سے خان جیل میں گیا ہے، اس دن سے ’ڈیڑھ خان‘ مسلسل ’اِن‘ ہیں جبکہ پارٹی کے باقی عہدیدار اور وزیراعلیٰ ان کی مرضی اور صوابدید پر ’اِن‘ اور ’آؤٹ‘ ہوتے رہتے ہیں۔ واقفانِ حال بشریٰ عمران کو ’ڈبل خان‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں عمران خان کے فیصلے ’ڈبل خان‘ کی مرضی اور اشارے سے ہوتے ہیں۔ انصافی فیصلوں کے طوطے کی جان ’ڈبل خان‘ میں ہے۔ گویا اصل ’اِن‘ ڈبل خان یا بشریٰ خان ہیں۔ ڈبل خان جب تک جیل میں ہیں، ڈیڑھ خان کا ڈنکا بجے گا اور وہ ’اِن‘ رہیں گی جس دن ’ڈبل خان‘ باہر آگئیں۔ اس دن کے بعد صرف وہی ’اِن‘ ہوں گی، باقی سب آؤٹ ہوجائیں گے اور تو اور ڈیڑھ خان کا اقتدار بھی گہنا جائے گا۔ ڈبل خان نے خان کیلئے جیل میں رہنا پسند کیا ہے حالانکہ وہ جیل سے باہر لائی گئیں کہ ڈیڑھ کو ’اِن‘ سے ’آؤٹ‘ کیا جائے مگر ڈبل خان نے سیدھا حکومت کو ’آؤٹ‘ کرنے پر کمر باندھ لی۔ ظاہر ہے اس کا نتیجہ جیل واپسی ہی نکلنا تھا اور وہی نکلا۔

تالی بازوں کے بقول حکومتی عروج کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔ ظاہر ہے جب تک کوئی مادی ثبوت نہیں مل جاتا، ان دعوؤں میں وزن ہے۔ گو زوال کے اسباب موجود ہیں اور اُنہیں ٹھیک نہ کیا گیا تو حکومت ’اِن‘ نہیں رہے گی بلکہ اس کا ’آؤٹ‘ کی طرف سفر شروع ہوجائے گا۔ سب سے بڑا اور فوری مسئلہ معیشت کا ہے۔ معیشت کی دُہری ولدیت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طرف بینکر اورنگ زیب رمدے ہیں اور دوسری طرف اکاؤنٹینٹ اسحاق ڈار ہیں۔ اورنگ زیب رمدے بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں اور وہ اپنے مقام و مرتبے کے بارے میں بہت حساس ہیں جبکہ خزانہ سے متعلق کئی درجن کمیٹیوں کے سربراہ نائب وزیراعظم ڈار صاحب ہیں۔ اگر معاشی فیصلے کیے گئے تو دونوں ’اِن‘ نہیں رہ سکتے، ان میں سے ایک کو ’آؤٹ‘ یا ’سائیڈ لائن‘ ہونا پڑے گا۔ حکومتی سیاست میں ایک نئی اور دبنگ انٹری اٹارنی جنرل ملک منصور اعوان کی ہوئی ہے۔ وہ حکومت میں مکمل ’اِن‘ ہیں اور مقتدر حلقوں میں اور بھی زیادہ ہی ’اِن‘ ہیں۔ ان کے والد ملک حیدر عثمان گو ملتان آباد رہے مگر ان کا آبائی علاقہ خوشاب میں وادی سون ہے۔ ملک منصور اعوان خوشاب میں آئی ٹی یونیورسٹی، کرکٹ اسٹیڈیم اور بہت سے ترقیاتی فنڈز لے چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں وہ اس علاقے سے الیکشن لڑیں گے۔ یوں پدھراڑی اعوان خاندان یعنی شاکر بشیر اعوان، سمیرا ملک اور عمراسلم ملک کیلئے ایک نیا چیلنج سامنے آنے والا ہے۔ حالانکہ کئی دہائیوں سے علاقے کی سیاست پدھراڑی اعوانوں کے مکمل کنٹرول میں تھی۔

دیکھنا یہ ہے کہ اب خوشاب میں کیا کیا سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کیا منصور اعوان ’اِن‘ ہوں گے تو پدھراڑی اعوان ’آؤٹ‘ ہو جائیں گے یا ان میں کوئی مفاہمتی فارمولا طے پاجائے گا۔ پنجاب کی سیاست میں مریم اورنگ زیب سب سے زیادہ ’اِن‘ ہیں اور حمزہ شہباز شریف مکمل طور پر ’آؤٹ‘ ہیں حالانکہ حمزہ تجربہ کار اور ذہین ہیں مگر ان کا دل ٹوٹا ہوا ہے، وہ حکومتی ذمہ داری لے کر ’اِن‘ ہونے کو تیار بھی نہیں۔ علی ڈار کو کلب روڈ پر وسیع دفتر ملنا ان کے ’اِن‘  ہونے کی نشانی ہے، وہ صرف نام کے مشیر نہیں کام کے مشیر بھی ہوں گے۔ ان کے والد نے اُنہیں داتا دربار امور میں بھی علانیہ شامل کرکے پنجاب میں اپنا نائب بنا دیا ہے۔

موسم اور حالات کب بدل جائیں، کسی کو خبر نہیں۔ جونہی حالات کی آندھی چلی ’اِن‘ آؤٹ اور ’آؤٹ‘ اِن ہوجائیں گے۔ یہ اِن اور آؤٹ کا کھیل صدیوں سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??