عمران خان سے ملاقات
- تحریر مجیب الرحمن شامی
- اتوار 05 / جولائی / 2026
عمران احمد خان نیازی یعنی کہ عمران خان۔73سالہ نوجوان،ایک شخص ہزار داستان۔ والد اکرام اللہ خان نیازی، والدہ شوکت خانم،دونوں کی جان۔ چار بہنیں، اکلوتے بھائی پر قربان۔
علیمہ خان کے اپنے تیور، اپنی پہچان۔نورین نیازی،عظمیٰ خان،روبینہ خان۔دِل ہی میں رہ گئے دِل کے ارمان۔اہلیہ اول جمائما خان۔ طلاق کے بعد بھی مہربان۔ دو بیٹے قاسم اور سلیمان،جن کا بسیرا انگلستان،ان سے معطر باپ کا گلستان۔ دوریوں میں ہلکان۔بھانجا حساّن مبتلائے امتحان، طالبِ رحمتِ رحمان۔بہنوئی حفیظ اللہ خان،الحفیظ الامان……
فرزند میانوالی، نیازی قبیلے کی شان۔ جغرافیے میں پنجابی، تاریخ میں افغان، حلقہ انتخاب پورا پاکستان۔ کرکٹ کا بادشاہ،خدمت میں یکتا، سیاست کا پہلوان۔ناکامی اُس کی لغت سے غائب،اعترافِ شکست سے ناواقف، جہد ِ مسلسل کا عنوان، مار کر رہا ہر میدان۔ایک بحر بے کران، جس میں غوطہ زن، حشرات الارض، انواع و اقسام۔ موتی اور جواہر بھی ان کے درمیان۔ خوبیاں، خامیاں، ناکامیاں، کامرانیاں اُلجھی ہوئی، ہر ایک کے ہاتھ میں دوسرے کا گریبان۔ کرکٹ اور خدمت کے ذریعے قوم کو کِیا یک جان۔ سیاست تقسیم اور تفریق کا عنوان،گھر گھر میں لڑائی کا سامان۔
وہ ریاست ِ مدینہ کا داعی، اس کی منزل مدینہ کا حکمران، نشاۃِ ثانیہ کا نقیب،ملت اسلامیہ کا ترجمان۔ میر و سلطان سے بیزار، پرانی سیاست گری خوار، تبدیلی کا اعلان۔دم بھرنے لگے نوجوان، خوابوں میں کھلائے نخلستان۔ان کی زمین، آسمان۔حمید گل کی اُمید،جنرل پاشا کی نوید، ظہیر الاسلام کی روشنی، جنرل باجوہ اس پر مہربان، فیض حمید اس کا سائبان۔ یک قالب دو جان۔ باجوہ سمجھا طفل ِ نادان،اس کے نام پر بنوں گا حکمران، دونوں ایک دوسرے کی سیڑھی،دونوں کی اونچی دکان۔ پھیکا پکوان۔دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے کی کمان۔ ہوئے ایک دوسرے کے در پے، دونوں کا ہوا نقصان۔
وزیراعظم بن کر کِیا سب کو حیران۔ تیسری شادی نے دکھلایا نیا جہان۔غیبی اشاروں پر انحصار ہر آن، دلیل و منطق کی دنیا ویران۔ مضبوط ارادوں کا مالک، گھڑی میں تولہ،گھڑی میں ماشہ، اُوجھل ہوئی میزان۔ رفقاء سے بیزار، مخالفوں پر عتاب، اس کا انتخاب اشخاصِ نادان۔ حریف خوش، حلیف پریشان۔ ناراض عوام، سلطنت لرزہ براندام۔ زمین بوس ہوا، اقتدار کا پختہ مکان۔ محرومِ اقتدار، خالی ہاتھ، بغاوت کا اعلان، تباہی کا سامان۔دِلوں میں گھر، سڑکوں پر حکمران۔ اٹھایا طوفان، جوش غالب ہوش غائب، اپنے ہاتھ اپنا گریبان۔ سینکڑوں، ہزاروں حوالہ زندان۔ راستہ مسدود، بے سرو سامان۔کل کا وزیراعظم، آج سرکاری مہمان۔
الزامات کی بھرمار، مقدمات کا طوفان، پس ِ دیوارِ زندان۔ تحریک انصاف کا بانی،انصاف کے لیے سرگردان، عدالتوں سے مایوس، اداروں سے بدگمان۔حریفانِ سیاست کے نزدیک بڑا مجرم، عشاق کے لیے مظلومیت کا نشان،طاغوت سے برسر پیکار، علی الاعلان۔قید ِ تنہائی اس کا مقدر،وہ ہے اور اس کا آسمان۔وہ ریاضی کا ایسا سوال، جسے حل کرنا محال، دیکھنے میں آسان۔نیا آغاز کب ہو گا،یہ جانے خدا، اسے کرنا ہو گی ایک نئی ابتداء۔اس کے دُعا گو، گلی گلی، قریہ، قریہ، نہ گن سکے کوئی، انسان۔ سورہ یوسف کی تلاوت میں مصروف اس کی زبان، اسی میں پوشیدہ حیاتِ نو کا پیغام،اگر ہو اللہ مہربان :
جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)