آیت اللہ خامنہ ای کے جنوس جنازہ میں دو کروڑ افراد کی شرکت

  • سوموار 06 / جولائی / 2026

ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر جاری ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا میں کی جائے گی۔

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں رکھے ہیں اور گاڑی تہران کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر سوگواروں کا ایک ہجوم ہے جو غم زدہ ہیں اور غصے میں ہیں۔

ایران کی نئی قیادت چاہتی ہے کہ سوگواروں کے اس بڑے اجتماع کے ذریعے ملک کے اندر اور باہر موجود اپنے مخالفین کو طاقت اور مزاحمت کا ایک پیغام دیا جائے۔ تہران میں تین روزہ عوامی سوگ کا آج آخری دن ہے۔ اس کے بعد یہ رسومات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے دیگر شہروں کی طرف منتقل کر دی جائیں گی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ’ایران کی عزت، ترقی اور عظمت کے راستے‘ پر گامزن رہیں گے۔ انہوں نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سب کو یہ سکھایا کہ ملک کا ’سب سے بڑا سرمایہ‘ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس کی تصاویر میں کچھ سوگواروں کو ٹرمپ مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن پر تشدد پر مبنی پیغامات، بشمول جان سے مارنے کی دھمکیاں، درج ہیں۔ ان بینرز میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف نعرے بھی درج ہیں۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے جس میں سوگواروں کو ایک پل پر امریکی صدر کے پوسٹر پوسٹر پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے تابوت کے راستے میں تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) طویل سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ سوگوار نعرے لگا رہے ہیں جبکہ کئی اشک بار ہیں۔

جنازے کا جلوس مشہور انقلاب سکوائر سے گزرے گا۔ اس چوک پر ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے،جو مضبوطی سے بندھی ہوئی مٹھی کی شکل میں ہے اور اسے ’مزاحمت کی مٹھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ان تقریبات کی نمایاں علامت ہے، جس پر درج نعرہ ہے: ’ہمیں اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔‘ ایک اور نعرہ بھی مسلسل سنائی دے رہا ہے جو حکومت کے وفادار حامیوں میں گونج رہا ہے: امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام۔

انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ جھنڈے اب ہجوم میں نمایاں نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی پوسٹروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ اس کا ایک حصہ محض نعرے بازی ہے لیکن آیت اللہ کے قتل پر غم و غصہ ایران کی نئی قیادت کے اندر بھی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ سخت گیر حلقے خاص طور پر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام اور حضرت علی کے روزہ مبارک والے شہر نجف منتقل کیا جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی کل نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔

علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تقریبات بدھ کے روز عراق کے شہروں کربلا اور نجف میں منعقد کی جائیں گی۔ اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کو جمعرات کے روز مشہد میں حرمِ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

آج علی الصبح، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً چار ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر روانہ کیے گئے۔ یہ جلوس آزادی سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کرے گا۔

توقع ہے کہ اس تقریب، جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہے، کو 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگے گا۔