حماس کا غزہ حکومت سے دستبرداری کا اعلان، انتظامی کمیٹی تحلیل

  • سوموار 06 / جولائی / 2026

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے اور انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہری انتظام ایک ٹیکنوکریٹک قومی کمیٹی کے سپرد کرنے کی راہ ہموار کر دی۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کی قیادت نے اس فیصلے کا اعلان کیا، جس کا مقصد نیشنل کمیٹی برائے سول مینجمنٹ کی بنیاد پر ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام ہے۔حماس کے ایک عہدیدار کے مطابق تحریک نے موجودہ حکومتی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک عوامی سطح پر قابلِ قبول شخصیت کو عبوری ذمہ داری سونپی جائے گی۔ جب تک غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال نہیں لیتی۔

حماس نے واضح کیا ہے کہ سول حکومت سے دستبرداری کا مطلب تنظیم کا مکمل غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہونا نہیں۔تنظیم کے مطابق انتظامی اختیارات منتقل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اسلحے اور عسکری ونگ سے متعلق معاملہ ایک الگ موضوع ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے 2007 میں مسلح تصادم کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور اس کے بعد سے علاقے کی سول انتظامیہ چلا رہی تھی۔موجودہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد جاری سیاسی مذاکرات اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل، اسرائیل کے ردعمل اور جاری امن مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ گروپ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ کے روزمرہ انتظام سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے غیر مسلح کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ حماس کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’محمد فرا، ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے تاکہ انتظامی اور حکومتی امور کی منتقلی کو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے میں آسانی ہو۔‘

غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی، جو اس وقت قاہرہ میں قائم ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فریم ورک کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ امریکی صدر نے یہ فریم ورک اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے دوران متعارف کرایا تھا۔

حماس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا: ’حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ دار نہیں رہی، تاکہ قابض قوتوں کے لیے کسی بھی بہانے کو ختم کیا جا سکے جو اب بھی جارحیت اور تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘