کچھ دُکھّی، کچھ سُکھّی!

نون لیگ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جبکہ تاریخی طور پر یہ پیپلز پارٹی کے بعد سب سے پرانی جماعت ہے۔ چند تحفظات کے باوجود نون لیگ کا پاکستان کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔

اس نے5دفعہ ملک کو وزیر اعظم دئیے ، پنجاب کو6وزرائے اعلیٰ دئیے، دوسرے صوبوں میں بھی ان کی حکومتیں رہی ہیں، 3بار نواز شریف وزیر اعظم بنے۔ انہی کی مرضی سے شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے اور اب شہباز شریف بھی اسی جماعت کے نامزد کردہ وزیر اعظم ہیں۔ پنجاب میں نواز شریف، غلام حیدر وائیں، شہباز شریف ، دوست محمد کھوسہ، حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف سمیت 6وزرائے اعلیٰ خالصتاً اسی جماعت سے متعلق تھے۔ گویا پاکستان کی تاریخ وسیاست میں نون لیگ کا اہم ترین کردار ہے۔ آج کل وفاق میں نون کی اکثریتی کابینہ بھی ہے اور کمان بھی شہباز شریف کی شکل میں انہی کے پاس ہے۔ پنجاب میں تو نون مریم نواز کی صورت میں اکیلی ہی حکومت کررہی ہے۔ اب وفاقی اور پنجاب حکومتیں مڈٹرم تک پہنچ چکی ہیں تو اب وقت ہے کہ نون کے لیڈرز، اراکین اسمبلی اور ورکرز کے حالات کیا ہیں، اس بارے میں جانیں اور تبصرہ کریں۔

سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو نونیوں کو3بڑے گروپس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک نمایاں گروہ دکھی گروپ کا ہے، دوسرے کو سکھی گروپ کا نام دیا جاسکتا ہے جبکہ تیسرا دکھی سکھی گروپ ہے جو کبھی دکھی اور کبھی سکھی ہونے کے متضاد احساسات سے گزرتا ہے۔ کچھ لیڈر وفاق سے دکھی اور پنجاب سے سکھی ہیں جبکہ کچھ بڑے نام وفاق سےپذیرائی پاتے ہیں مگر پنجاب سے دکھی ہیں اور کچھ درمیان درمیان میں رہتے ہیں۔ جدھر سے شفقت کا پروانہ آجائے وہاں سے سکھی ہوجاتے ہیں اور جدھر سے لاتعلقی ہو ادھر سے دکھی رہتے ہیں ۔

پاکستان میں اس وقت ویسے ہی سیاست زیرو ہوگئی ہے تحریک انصاف دباؤ اور عدم تنظیم کی وجہ سے عملی طور پر بے اثرہے اور نون نے اپنی پارٹی کو بالکل نظر انداز کررکھا ہے۔ ضلعوں، تحصیلوں اور ٹاؤنز کی تنظیموں کا حکومت سے نہ کوئی رابطہ ہے، نہ ہی حکومتیں انہیں کوئی اہمیت دینے کو تیارہیں۔ اس لئے زیادہ تر کارکن دکھی گروہ میں شامل ہیں۔ ان سب کی خواہش ہے کہ وہ بھی ستھرا پنجاب، سستی ٹرانسپورٹ اور دوسرے اہم ترین منصوبوں کی ولدیت کا دعویٰ کرسکیں۔ مگر تاحال ان کی خواہش پوری ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔ ضمناََ پیپلز پارٹی کے پیپلوں کا ذکر کیا جائے تو لاہور میں کچھ تیز حرکت نظر آئی ہے وگرنہ اکثر کارکن اتنی گہری نیند سوچکے ہیں کہ انہیں شاید شورِ قیامت بھی اٹھانے میں کامیاب نہ ہو۔

نونی بڑے لیڈروں میں دکھی اور سکھی کی تقسیم بہت گہری ہے۔ نواز شریف کے عہد حکومت میں دوبیوروکریٹس اہم ترین رہے، سیاسی فیصلے ہوں یا انتظامی ان سب میں وہ شریک رہے۔ دونوں نواز شریف حکومت ختم ہونے کے بعد جیلوں میں رہے ۔ کون نہیں جانتا کہ سعید مہدی اور فواد حسن فواد نواز شریف دور میں کتنے اہم تھے۔ مگر شہباز شریف کی موجودہ حکومت میں ان کیلئے کوئی جگہ نہ بن سکی۔ سینیٹر پرویز رشید کو نواز شریف کے تیسرے دور میں وزارت سے فارغ کیا گیا۔ اب وہ پنجاب میں گو مکمل طور پر سُکھّی ہیں لیکن وفاق کے حوالے سے دُکھّی ہیں کہ وہاں نہ انہیں کسی اجلاس میں بلایا جاتا ہے، نہ مشورے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں وی وی آئی پی اور وفاق میں پرسونا نان گریٹا۔ یہ اعزاز ’دُکھّی سُکھّی‘ پرویز رشید کو حاصل ہے۔

موجودہ حکومت میں جہلم سے ایک تازہ انٹری بلال اظہر کیانی اور ان کے والد ریٹائرڈ جنرل اظہر کیانی کی ہے۔ نون کے رکن اسمبلی چوہدری فرخ الطاف اور راج گان دارا پور کی بجائے صرف کیانی خاندان سُکھّی ہے۔ لازماً باقی سیاسی خاندان دُکھّی ہوں گے۔ چوہدری فرخ الطاف گورنر پنجاب چوہدری الطاف کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین کے کزن ہیں۔ اس خاندان کو جہلم کے پرانے روایتی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ راجگانِ داراپور کے نوابزادہ اقبال مہدی اور ان کے بیٹے مطلوب مہدی کا خاندان کئی دہائیوں سے نون سے وابستہ ہے مگروہ دُکھّی شمار ہوتے ہیں کہ نہ انہیں ٹکٹ ملا اور نہ ہی لفٹ۔ بلال اظہر کیانی وفاقی کابینہ میں ہیں جبکہ ان کے والد پنجاب کے ہیلتھ سیکٹر کو ایڈوائز کرتے ہیں۔

وفاقی کابینہ میں دُکھّی اور سُکھّی دونوں طرح کے وزیر ہیں۔ ایک سب سے لاڈلے ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا ذہن کمپیوٹر سے بھی تیز اور ان کا تجزیہ چانکیہ سے بھی زیادہ پُرمغز ہے۔ ان کا مزاج تُنک ہے وگرنہ مقتدرہ اور وزیروں کے پردھان کے وہ پسندیدہ ترین ہیں۔ مگر کئی وزیر ان کے رویےکے شاکی بھی ہیں اور شاید حسد کا شکار بھی۔ مگروہ لاڈلے وزیر اور ان کی متعلقہ افسر شاہی ساری کی ساری سُکھّی ہے مگر دوسری افسر شاہی کی وہ لابی جو کبھی ان کے خلاف رہی یا جسے یہ پسند نہیں کرتے، وہ ساری کی ساری دُکھّی ہے مگر ان کا کوئی بس نہیں چل رہا۔

پنجاب کابینہ میں بھی لاڈلے اور لاڈلیاں سُکھّی ہیں جبکہ کئی ایک دُکھّی وزیر بھی ہیں اور وہ عزت بچانے کی خاطر خاموشی کا روزہ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ صوبائی اراکین اسمبلی دُکھّی ہیں کہ ان کے لئے وزیراعلیٰ اور ایوانِ وزیر اعلیٰ کے دروازے ویسے کھلے نہیں ہیں جیسے پرویزالٰہی اور کم از کم شہباز شریف کے زمانے میں کھلے ہوتے تھے۔

سندھ کی طرف چلیں تو وہاں متحدہ پاکستان کچھ زیادہ ہی دُکھّی لگ رہی ہے۔ متحدہ کے وفاقی وزیر خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال تو سُکھّی لگتے ہیں لیکن فاروق ستار تجربہ کار اور گہرے سیاستدان ہیں۔ وہ مہاجر بیانیے کے حساس اور نازک حصوں کو چھو کر خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال سے آگے نکل رہے ہیں۔ دوسری طرف سندھ حکومت بار بار وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود شہری سندھ میں کوئی نمایاں تبدیلی لانے سے قاصر رہی ہے۔ حالانکہ کراچی کی ترقی سندھ حکومت کیلئے ماڈل شو پیس بن سکتی تھی۔ مگر بڑی سڑکوں اور بڑے کاموں کو تو چھوڑیں شہر کے اندر کوئی نمایاں تبدیلی نہیں۔ لاہور اور راولپنڈی کے اندر ترقی اور تبدیلی ہر آنے والے کو محسوس ہوتی ہے تو آخر کیا بات ہے کہ کراچی کے بارے میں ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ شہری سندھ اس لئے دُکھِی ہی دُکھّی ہوگا ۔ دیہی سندھ میں صحت، تعلیم انفراسٹرکچر اور ملازمتیں دینے سے ووٹ بینک تو قائم ہے لیکن کراچی کی بہتری سے ساکھ اور تاثر بہتر ہونا تھا۔ یہ تاثر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو بھی سُکھّی کرتا مگر تاحال ایسا نہیں۔

بلوچستان میں تبدیلی کی افواہیں دم توڑ چکیں سرفراز بگٹی اور مراد علی شاہ کی صدر زرداری سے ملاقات کے بعد صدر اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی دب سی گئی ہیں۔ لگتا ہے کہ سرفراز بگٹی سُکھّی ہی سُکھّی ہیں البتہ ان کی تبدیلی کی خواہش کرنے والے دوبارہ دُکھّی ہوگئے ہوں گے۔

اندازہ ہے کہ نائب وزیراعظم اسحق ڈار شدید دُکھّی ہوں گے کیونکہ سب سُکھّی ان کے درپے ہیں۔ اگر ان کے نواسے کی گرفتاری ہوگئی تو اس کے بعد ان کو ذمہ دار ٹھہرانا کسی بھی طرح جائز نہیں۔ کوئی والد اپنے بیٹے کے جرائم کا ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہے؟ مذہبی، قانونی اور اخلاقی طور پر ان کے سیاسی خیالات اور ان کے سیاسی فیصلوں پر تنقید بجا لیکن اس معاملے میں انہیں رگڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں۔ بے شک نواسے کو قانون کی سُولی پر چڑھا دیں مگر نانا کی عزت کا جنازہ نہ نکالیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??