ہم زندہ قوم ہیں؟
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 07 / جولائی / 2026
ایک اسلامی ایٹمی قوت کی حیثیت سے پاکستان دنیا میں ایک اہم مملکت شمار ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کی اہمیت اور بھی دو چند ہو گئی ہے۔
ایک وقت تھا کہ پاکستان کے تنہا ہونے کی باتیں کی جاتی تھیں مگر وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر نہ صرف پہلے سے زیادہ اہم ثابت ہواہے۔ بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کو بھی سراہا گیا ہے۔ موجودہ امریکہ ایران جنگ میں پاکستان اور پاکستانی حکومت کی بہترین ثالثی کے چرچے ہیں۔ اب کیا ہی بہتر ہو کہ ہم بحثیت قوم بھی اپنا تشخص قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔
ایک زندہ قوم بننے اور عملی طور پر اہنی شناخت بنانے کے بھی کئی تقاضے ہوتے ہیں۔ من حیث القوم ہمیں اپنے رویوں فکر اور سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی بجا ہے کہ ایک بہتر نظام زندگی اور گڈ گورننس ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ تاہم ہمیں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ: ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بظاہر ہم اک زندہ قوم کا نعرہ لگاتے ہیں مگر ایک زندہ قوم کے تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم قوم سے زیادہ ایک بھیڑ دکھائی دیتے ہیں۔ ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک ہونے کے لئے ایک قوم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے بہت سے مسائل ہوتے ہیں جن پر قابو پانا اور انہیں حل کرنا ایک کامیاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور امن وامان جیسے مسائل حل کر کے ہی ایک مضبوط حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ مسائل کے حل کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جہاں حکومت کو اپنے فرائض ادا کرنے ہیں وہاں عوام کی بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔
بہت سے ترقی پزیر ممالک کی طرح امن و امان مہنگائی اور بے روزگاری جیسے اہم مسائل حکومت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی گھٹتی قیمتوں کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے عوام کو بھی کفایت شعاری مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت کی کفایت شعاری مہم اور لاک ڈاؤن میں تاجروں کی طرف سے اوقات کار میں تحفظات بھی دیکھنے میں آ ئے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں سورج کی روشنی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہم بھی دن کے اجالے میں کاروبار شروع کریں اور باقی وقت اپنی فیملی کو دیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
من حیث القوم ہم لوگ حفظان صحت کے اصولوں کا کم ہی خیال رکھتے ہیں۔ باہر کے مرغن کھانوں رات دیر سے سونے صبح جلد نہ اٹھنے صبح کی سیر نہ کرنے اور ہر وقت موبائل سے جڑے رینے کی وجہ سے بہت سے لوگ صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ لہذا صحت کے معاملات اور دواؤں سے بچنے کےلئے بھی ایک صحت مند اور خوشگوار رہن سہن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں بے روزگاروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے لیے جہاں حکومت کو مربوط پالیسی اور حکمت عملی وضع کرنا ہوگی وہاں تعلیم کے میدان میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
اب ڈاکٹروں اور انجینئر کی کھیپ تیار کرنے کی بجائے دیگر فنون اور ہنر مندی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ طالب علموں کا بغیر کسی ہنر کے بیرون ملک ہجرت کرنا مناسب نہیں۔ باہر کے ممالک میں کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر جانے سے ہی ملازمت کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ اس وقت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ قومیں تعلیم سے ہی ترقی کرتی ہیں۔ معاشرے میں استاد کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی پنشن اور صحت کی بحالی کا خیال رکھا جائے۔
ترقی یافتہ ممالک میں سینئر شہریوں اور ملازمت سے ریٹائرڈ لوگوں کے لئے خاص مراعات ہیں۔ ملازمین کے جائز مطالبات حل کرنے اور انہیں بہتر مراعات کی فراہمی سے آ ئے روز کے ہنگاموں اور افراتفری سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ صحت روزگار اور مہنگائی جیسے مسائل پر قابو پاکر ہی ملکی وسائل کو صحیح استعمال کیا جا سکتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کے عمل کو فروغ مل سکتا ہے۔ ایک زندہ قوم کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام اہم ستون اور عناصر اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
حکومتی اور سیاسی نظام کی بہتری کے لئے حکومت اپوزیشن عوام اور تمام قومی ادارے مل جل کر کام کریں۔ عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ اہنے فرائض دیانت داری اور بغیر کسی دباؤ کے انجام دیں۔ انسانی حقوقِ کی پاسداری ہو اور قانون سب کے لئے برابر ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی کی وجہ نظام کی مضبوطی قانون کا سب کے لئے یکساں ہونا اور سب کو مساویانہ انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی مزید بہتر بنانے اور انہیں سیاسی مقاصد اور تسلط سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔ پارلمینٹ میں مؤثر قانون سازی اور میڈیا کے آ زادانہ مثبت کردار کا ہونا بھی خاصا اہم عنصر ہے۔
ہمارے ہاں ایک عرصے سے خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے جسے ہر حکومت عوام دوست قرار دیتی ہے اور عوام بھی سارا سال اپنی محرومیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ بجٹ میں تعلیم، صحت اور نئے روزگار کی فراہمی کے لئے وافر فنڈز کا فراہم ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی تعلیم کے لئے نصاب تعلیم میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ جبکہ غیر ضروری ڈگریوں کی جگہ نئے جدید ٹیکنالوجی سے ہم آ ہنگ علوم و فنون کا فروغ زیادہ ضروری ہے تاکہ ہمارے تعلیمی اِدارے ڈگری ہولڈرز پیدا کرنے کی بجائے ہنر مند افراد پیدا کریں۔
مہنگائی کے خاتمے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے جہاں حکومتی سطح پر فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے، وہاں ہمیں انفرادی احتساب کی بھی ضرورت ہے۔ معلم کائنات اور محسن کائنات خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سچ بولنے ملازموں سے نرمی کا برتاؤ کرنے، ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی سے روکن،ے ایک دوسرے سے نرمی کا برتاو کرنے اور دوسروں کے لئے آ سانیاں ہیدا کرنے کی نہ صرف تلقین کی ہے بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھایا ہے۔
اکثر مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں اسی نسخہ کیمیا پر عمل کر کے ہی ترقی کی منازل طے کی جا رہی ہیں۔ ہم بھی اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر اپنے دین اور دنیا کو بہتر بنا کر ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔