سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن
- تحریر آصف محمود
- منگل 07 / جولائی / 2026
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت وہی غلطی کر رہا ہے جو اس نے آپریشن سیندور میں کی تھی۔ وہاں بھی بھارت نے اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن کی تھی اور دنیا میں رسوائی سمیٹی تھی۔
سندھ طاس کے معاملے میں بھی بھارت ویسی ہی مس کیلکولیشن کر رہا ہے اورا سے ابھی تک یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس معاہدے سے انحراف کی قیمت کیا ہوگی جو بھارت کو دینا پڑے گی۔ مودی جی کا خیال ہے کہ سندھ طاس کو یکطرفہ طور پر پامال کرکے اور پانی کو ہتھیار بنا کر وہ پاکستان کو دبا لیں گے لیکن انہیں ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس ہی نہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی پامالی کا زیادہ نقصان پاکستان کو نہیں، بھارت کو ہوگا۔ یہ کوئی دور کی کوڑی نہیں ہے، یہ نوشتہ دیوار ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدہ نہ رہا تو بھارت ایک ایسی دلدل میں اترے گا جس کا ابھی مودی جی تصور نہیں کر پا رہے۔
ابھی تک تو پاکستان اسٹریٹیجک رسٹرینٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے اور بھارت اس کا غلط مطلب سمجھ رہا ہے اور اسے پاکستان کی کمزوری تصور کر رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اور ہر معاملے میں ذمہ داری اور احتیاط کا ثبوت دیا ہے لیکن جب پاکستان نے جواب آں غزل کہہ دیا تو شریمان مودی جی نے پھر حیرت سے پوچھتے پھرنا ہے کہ ’ ہائیں، یہ کیا ِالٹا پاکستان نے ہمارے اوپر ہی حملہ کر دیا‘۔ آپریشن سیندور کے جواب میں بھی پاکستان نے وقت لیا تھا، اس کے بعد جواب دیا تھا اور وہ جواب بہت ہی تسلی بخش تھا۔ سندھ طاس کے معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ پاکستان پہلے اتمام حجت کر رہا ہے۔ دنیا کو بتا رہا ہے کہ بھارت کے ہاتھوں بین الاقوامی قانون پامال ہو رہا ہے اور بھارت کروڑوں لوگوں کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔ یہ جو اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار ہوا ہے، یہ کس لیے تھا؟ یہ اتمام حجت تھا۔ ایک بھر پور جواب سے پہلے ایک آخری اتمام حجت۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کا منظر نامہ کیا ہو گا۔ فرض کریں کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کو پامال کرنے کے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ا س کے بعد کیا ہو گا؟ اگر سندھ طاس معاہدہ نہیں رہتا توکیا یہ ضروری ہے کہ شملہ معاہدہ ہر حال میں برقرار رہے؟ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر، بھارت کے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود، ابھی تک شملہ معاہدے کا احترام کیا ہوا ہے لیکن کب تک؟ کیا ضمانت ہے کہ جواب آں غزل کے طور پر پاکستان شملہ معاہدے کے خاتمے کا اعلان کر دے۔ اگر شملہ معاہدہ برقرار نہ رہا تو کیسی لائنن آف کنٹرول اور کیسا اس کا احترام؟ معاملات کی بہت ساری ترتیب الٹ ہو جائے گی۔ ( تاہم یہ آج کا موضوع نہیں ہے، اس لیے اس پر تفصیلی بحث کسی اور وقت پر کریں گے۔ آج کا موضوع چونکہ سندھ طاس ہے، اس لیے اسی تک محدود رہتے ہیں)۔
سندھ طاس معاہدے نے 3 دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کر رکھا ہے اور 3 پر بھارت کا۔ اگر سندھ طاس معاہدہ نہیں رہتا تو مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کا حق 3 کی بجائے 6 دریاؤں پر ہو گا۔ جن 3 دریاؤں پر پاکستان نےا س وقت بھارت کا حق تسلیم کر رکھا ہے، سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کا مطلب ان دریاؤں پر بھارت کے مکمل حق کا خاتمہ ہے۔ بھارت اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرکے وہ سارے دریا ہتھیا لے گا تو یہ حماقت اور مس کیلکولیشن ہے۔ معاہدے کے خاتمے کا مطلب یہ ہوگا یہ 6 کے 6 دریاؤں پر پاکستان کا جائز حق بحال ہو جائے گا۔
ابھی تو یہ صورت حال ہے کہ جو دریا بھارت کے حصے میں آئے ہیں، ان کا پانی وہ سارے کا سارا ہی استعمال کر رہا ہے اور جو دریا پاکستان کے حصے میں آئے ہیں، وہ چونکہ بھارت کے تصرف سے گزر کر پاکستان آتے ہیں، تو ان کا پانی بھی وہ ا ستعمال کرتا ہے۔ قانونی طور پر بھی ا ور غیر قانونی طور پر بھی۔ یعنی بھارت عملاً 6 دریاؤں کا پانی استعمال کر رہا ہے اور پاکستان تین دریاؤں سے تو پہلے ہی محروم ہو چکا تھا اور باقی کے تین پر بھی اب بھارت رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ سندھ طاس کے خاتمے کے بعد پاکستان کا حق 6 کے 6 دریاؤں پر ہو گا اور یہ حق اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت مسلمہ ہے۔
یہ بھارت کی مس کیلکولیشن ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر پامال کرکے وہ پاکستان کے حصے کا پانی روک لے گا اور 6 کے 6 دریاؤں پر قابض ہو جائے گا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق بھارت پابند ہے کہ چھ کے چھ دریاؤں کا پانی پاکستان پہنچنے دے۔ وہ کسی ایک دریا کا پانی بھی نہیں روک سکتا۔ یہ پانی اس کی ملکیت نہیں ہے۔ پانی پر انسانوں کا مشترکہ حق ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ نے پانی جیسی چیز کسی فاشسٹ ملک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ رکھی کہ وہ چاہے تو پاگل ان میں پانی کو ہتھیار بنا کر انسانیت کو پانی سے محرو کر دے۔ بلکہ اقوام متحدہ نے ایسے قوانین وضع کر رکھے ہی جن پر عملدرآمد ہر حال میں لازم ہے۔ اقوام متحدہ کا واٹر کنونشن ہے، پروٹوکول آن واٹر ہے، اقوام متحدہ کا چارٹر ہے، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ ہے، اسٹاک ہوم اعلامیہ ہے، ڈبلن اعلامیہ ہے، ایجنڈا 21 ہے، سنہ 2016 کا پولیٹیکل ڈکلیئریشن ہے، مارڈل پلیٹا ایکشن پلان ہے، ہیلسنکی رولز ہیں، یو این ای سی ای کا واٹر کنونشن ہے۔ بہت سارے ضابطے ہیں جن میں کچھ کا تعلق کسٹمری انٹرنیشنل لا سے بھی ہے۔
بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو پامال کرکے وہ پاکستان کا پانی روک لے گا تو اسے معلوم ہونا چاہیے اقوام متحدہ کا واٹر کنونشن صاف طور پر اس کی ممانعت کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے واٹر کنونشن کے مطابق بھارت پر قانونی طور پر یہ لازم ہے کہ وہ اتنا پانی پاکستان آنے دے گا جس سے 3 کام ہو سکیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان میں پینے کے لیے پانی کی کمی نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اس کی زراعت بھی متاثر نہ ہو۔ اور تیسرا یہ کہ اس کی ماحولیات بھی متاثر نہ ہوں۔ مکرر عرض ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ہو یا نہ ہو، یہ پابندیاں بھارت پر ہر حال میں رہیں گی۔
اس کے باوجود اگر بھارت پاکستان کا پانی روکتا ہے تو یہ انسانیت کے خلاف جرائم میں شمار ہوگا اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی تصور ہو گا۔ اس کا آسان مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان ہر اس ڈیم کو تباہ کر دینے کا حق رکھتا ہے جس سے بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کرے۔ ابھی پاکستان اتمام حجت کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور بھارتی قیادت ا س کو سمجھ نہیں پا رہی۔ اتمام حجت کے بعد کا مرحلہ معرکہ حق جیسا بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تو ممکن ہی نہیں کہ پاکستان جیسا زرعی ملک اپنے حصے کے پانیوں سے محروم کر دیا جائے اور وہ اس پر خاموش رہے۔ ہرگز نہیں۔ ضرورت ہوئی تو ایسا جواب آئے گا کہ دنیا دیکھے گی۔ بھارت بہت بڑی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن کر رہا ہے۔ یہ ا سے بہت بھاری بھی پڑ سکتی ہے۔
(بشکریہ: وی نیوز)