خود ملامتی سے قومی مسائل حل نہیں ہوتے!

دنیا  کے حالات اور پاکستان کو درپیش مشکلات سے قطع نظر پاکستان میں ہر تھوڑی مدت بعد کوئی ایسا معاملہ سامنے آتا ہے جس پر قیاس  آرائیوں، دعوؤں اور الزام تراشیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ملک بھر بلکہ دنیا میں  پاکستان سے تعلق رکھنے والے والے نام نہاد صحافی   ’انکشافات‘ کا ایسا سلسلہ دراز کرتے ہیں جیسےوقوعہ اور اس کے کرداروں کے بیچ وہ خود بھی  موجود تھا لیکن دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔

گزشتہ چند روز سے دو یورپی خواتین کے لاہور میں   مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کا معاملہ  ہر چھوٹے بڑے  ’صحافی‘ ، مبصر یا وقائع نگار کا موضوع گفتگو ہے۔ ہر ’ماہر‘ اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق اس کہانی میں دلچسپ موڑ تلاش  کرنے کی کوشش کرتا  ہے۔ حتی کہ پنجاب پولیس نے بھی اس کہانی نویسی میں  اپنا کردار ادا کرنے اور بعض واقعات ایجاد کرکے کہانی میں دلچسپی پیدا کرنے کی اپنی سی  کوشش کی ہے۔ اب مختلف زاویوں سے اس کہانی کا تیاپانچہ  کیا جارہا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے  کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی بھی خاتون کا  اغوا یا اس کے ساتھ ہونے والی کسی بھی قسم کی زیادتی ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس بارے میں  سیاہ یاسفید، ملکی یاغیر ملکی کی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔  اگر   خواتین اغوا ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ کچھ افراد غیر قانونی سلوک کے مرتکب ہوتے ہیں تو ایسے  معاملہ   میں پولیس کو ترجیحی بنیاد پر دیکھنے اور قصور واروں کو سزا دلوانے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اس کے لیے  پولیس سربراہ کو کسی صوبے کی سیاسی قیادت کی ہدایت یاحکم موصول ہونا ضروری نہیں  ہونا چاہئے۔ یہ پولیس کی ابتدائی اور اہم ترین ذمہ داری ہے۔ پھر ایسے کسی وقوعہ کے بعد  جس میں غیر ملکی خواتین  اور پاکستانی مرد ملوث ہوں ، پولیس کو وزیر اعلیٰ کے حکم  پر کارروائی کرنے اور پھر اپنی مستعدی دکھانے کے لیے من گھڑت تفصیلات بتانے کی  ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔  بلکہ اگر کسی معاملہ  کی حساس نوعیت کی وجہ سے کوئی اعلیٰ سرکاری عہدیدار پولیس حکام سے رابطہ کرکے مستعد ہونے کی ہدایت کرتا بھی  ہے تو اس کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستانی نظام میں بھی یہ طریقہ معمول کا حصہ سمجھنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں اور جرائم بھی سرزد ہوتے ہیں۔ لیکن پولیس جب کسی خاص معاملہ میں سیاسی حکومت کو کریڈٹ دینے اور اپنی کارکردگی کو غیر معمولی طور سے الجھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے پولیس کی نااہلی اور ناکامی کا تاثر قوی ہوتا ہے۔ زیر بحث معاملہ میں بھی یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے۔

دو یورپی خواتین کے اغوا  اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا وقوعہ اور ان کی بازیابی کے سلسلہ میں سنائی گئی  لاہور پولیس کےڈی آئی جی فیصل کامران کی  کہانی   یہی واضح کرتی ہے کہ  پولیس عام طور سے مستعد نہیں  ہوتی لیکن جب اسے حکام بالا سے ہدایات ملتی ہیں تو وہ  اپنی  پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے بارے  میں غیر ضروری دعوے شامل کرنا ضروری سمجھتی ہے۔  ڈی آئی جی کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کا جذباتی رویہ اور نعرے بازی سے یہ قیاس قوی ہوتا ہے کہ ملک میں سنگین جرائم کے حوالے سے بھی     پسند ناپسند  کی تخصیص موجود  ہے اور صحافی جنہیں بنیادی طور پر ایک غیر جانبدار مبصر ہونا چاہئے،  ایسے معاملات میں   ’فریق‘ بن کر اسے خود ساختہ اخلاقی معیار کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری سمجھتا ہے۔  یہ رویہ درحقیقت ملک میں حقیقی خبر کی مناسب اور پیشہ وارانہ ترسیل کے  لیے شدید نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔  حکومت صحافیوں کی ایسی کمزوریوں کی بنیاد پر من مانی کو اپنا حق سمجھنے لگتی ہے اور خبروں کی  فراہمی پر ناپسندیدہ پابندیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

اس معاملہ میں  ملوث نوجوان کا تعلق  نائب  وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار سے بتایا جارہا ہے۔ اسی لیے اس معاملہ میں پولیس کو غیر ضروری ہوشیاری دکھانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اسی لیے میڈیا کے نمائیندے ، سوشل میڈیا پر رائے زنی کرنے والے  یا تجزیہ نگار  احتساب کی  صلیب اٹھا ئے پھرتے ہیں۔ یہ سب ’ملزموں‘ کو کسی مناسب عدالتی کارروائی کے بغیر  ’جائز‘ سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی فرض  کرلیا گیا ہے کہ ملزموں میں شامل ایک شخص کی اسحاق ڈار سے رشتہ  داری کی وجہ سے پولیس اور نظام لازماً   ’ناانصافی‘ کا مرتکب ہوگا۔  اس قسم کے گمان کی کوئی بنیاد نہ بھی ہو لیکن  ملک میں عام تاثر یہی  ہے کہ طاقت ور لوگوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور وہ سنگین ترین جرم میں ملوث ہونے کے باوجود بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کبھی  حوصلہ مندی سے سامنے آنے اور حقائق بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسی لیے قیاس  آرائیاں، افواہیں اور جھوٹے سچے الزامات سامنے آتے  ہیں اور جواب نہ ملنے کی وجہ سے عوامی حافظے کا حصہ بن کر  شبہ  کویقین میں بدلتے ہیں کہ اقتدار پر قابض لوگ نہ صرف خود کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں بلکہ ملکی نظام بھی کبھی ان کی گرفت نہیں کرسکتا۔

اس پس منظر میں کوئی پولیس افسر خواہ جیسی مرضی اتھارٹی سے یقین دہانی کی کوشش کرے کہ کسی ملزم کو کسی وزیر سے تعلق کی بنیاد پر رعایت نہیں ملے گی، کوئی اسے ماننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔  زیر نظر معاملہ میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ اسحاق ڈار  یا ان کے اہل خاندان نے یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد  کوئی بیان  جاری کرنے، متعلقہ ملزم سے نسبت و رشتہ کی وضاحت کرنے اور اس کے فعل سے لاتعلقی ظاہر کرنے کی ضرورت  محسوس نہیں کی۔  یہ  رویہ انکساری اور قانون پسندی کی بجائے  غرور و تمکنت اور  خود کو قانون سے بالا سمجھنے کے سبب اختیار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض ایسے معاملات میں بھی سنسنی پیدا ہوجاتی ہے جو درحقیقت بہت بڑے نہیں ہوتے اور اس پر متعلقہ لیڈر یا عہدیدار صاف گوئی سے کام لے کر یا میڈیا کا سامنا کرکے  غلط فہمیوں کا سدباب کرسکتا ہے۔ اسحاق ڈار اور ان کے اہل خاندان کو بھی اس معاملہ میں قومی سطح پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینا چاہئے۔

اس معاملہ میں ’اغوا و ریپ‘ کے الزامات محض ایک پہلو ہیں لیکن ملک میں بحث کا موضوع صرف ان دو الزامات کو سمجھا جارہا ہے۔  اس معاملہ  میں دو غیر ملکی خواتین کا چند پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ لین دین کا جھگڑا تھا۔ ان کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں خطیر رقم  لگائی گئی تھی اور اسی کی ادائیگی کے لیے تنازعہ  نے  سنگین صورت اختیار کی۔   پولیس کے اعلیٰ افسر نے  پریس کانفرنس میں سارا زور اس بات پر صرف کیا کہ کیسے مستعدی سے دو غیر ملکی لڑکیوں کو  ملزموں کے چنگل سے آزاد کرایا گیا اور پھر  مجسٹریٹ کے سامنے ان کا قانونی بیان ریکارڈ کرانے کے بعد انہیں ملک سے جانے دیا گیا۔   بلکہ ڈی آئی جی نے یہ بھی بتایا کہ ان خواتین  کے  فضائی ٹکٹ   پر روانگی کی تاریخ  تبدیل ہونے پر اٹھنے والے اضافی  مصارف پنجاب پولیس نے  برداشت کیے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پنجاب  پولیس تمام ’متاثرین‘ کو ایسی ہی مالی مدد فراہم کرتی ہے یا یہ  سہولت خاص طور سے اس معاملہ میں ملوث خواتین کو دی گئی؟  پولیس وقوعہ کی متاثرین کے بیرون  ملک چلے جانے کے بعد کیسے یقینی بنائے گی کہ عدالت میں  پیروی کے دوران مجسٹریٹ یا  کوئی جج محض ایک بیان کو کافی سمجھے گا؟  ہر  تنازعہ  میں دو فریق ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ان خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن انہوں نے بھی کرپٹو کرنسی  میں سرمایہ کاری کے حوالے سے معاملات میں کچھ گڑ بڑ ضرور کی ہوگی۔ کیا  جرم  کے اس پہلو پر غور کرنا پولیس کا کام نہیں تھا؟ کیا پولیس کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے تھا کہ کرپٹو کرنسی میں لگایا گیا سرمایہ کس حد تک جائز ذرائع  سے حاصل ہؤا اور متعلقہ خواتین درحقیقت اس کاروبار سے کیا مقاصد حاصل کرتی ہیں؟ کرپٹو کرنسی کے لین دین میں ملوث لوگ ایسے گرے  ایریا میں کام کررہے ہوتے ہیں جن میں ناجائز ذرائع آمدن،  منی لانڈرنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے پہلو بھی ملوث ہوسکتے  ہیں۔ کیا پولیس نے ’متاثرہ‘ خواتین کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے سے پہلے ان سارے پہلوؤں کی تفتیش کرلی تھی اور  یہ جانچ  لیا تھا کہ وہ  خود بھی کسی غیر قانونی حرکت  کی  مرتکب تو نہیں ہوئیں؟

اس سارے قضیے میں اس سفارت خانے کا ذکر موجود نہیں ہے جس کی براہ راست مداخلت سے ان خواتین کو ’بازیاب‘ کرایا گیا اور پھر پولیس انہیں  ملک سے روانہ کرنے میں سہولت کاری پر مجبور ہوئی۔ کیا حکومت پاکستان واضح کرسکتی ہے کہ کوئی  پاکستانی کسی دوسرے ملک میں کسی معاملہ میں ملوث ہو تو  اس کے سفارت خانے  کیااس ملک کے  قانونی عمل میں مداخلت کرسکتے ہیں؟  پھراسلام  آباد میں دوسرے ملکوں کے سفارت خانوں کو یہ حق کیسے حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے اصل کردار کے بارے میں معلومات فراہم کیے بغیر انہیں ملک سے باہر بھجوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؟

یہ سارا معاملہ سیاسی ناکام، انتظامی نااہلی  کے علاوہ قومی سطح پر خود   کو  مورد الزام ٹھہرا نے اور اپنے آپ کو ہی غلط سمجھنے کے طرز عمل  کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر  کوئی پاکستانی کسی قانون شکنی میں ملوث ہؤا ہے تو عدالت سے سزا دلائی جائے۔  اس کی بنیاد پر پوری قوم کو نہ تو شرمندہ ہونا چاہئے اور نہ ہی   قانون کی بالادستی کے نام نہاد چیمپئنز  کو اسے قومی مزاج بنا کر پیش کرنا چاہئے۔ اسی طرح ملک میں موجود سفارت خانوں  پر واضح ہونا چاہئے کہ  عدالتی معاملوں میں مداخلت سے گریز کریں۔ تاہم  اس کے لیے حکمرانوں کو کوئی جرم سرزد ہونے کے بعد منہ چھپانے اور ’مٹی پاؤ‘  والا رویہ اختیار  کرنے کی بجائے  قانون و میڈیا کا سامنا کرنا  ہوگا۔