امریکی آزادی کے ڈھائی سو سال!
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 08 / جولائی / 2026
برطانیہ عظمیٰ کے زیر تسلط 13ریاستوں نے آزاد ہوکر اکٹھے مل کر ایک متحدہ ریاست، امریکہ کے نام سے تشکیل دی۔ 4جولائی 1776 کو اعلان آزادی کے ساتھ ہی ریاست ہائے متحدہ امریکہ معرض وجود میں آئی۔ اس بات کو ڈھائی سو سال ہو چکے ہیں۔
اس دوران دنیا کی عظیم ریاست برطانیہ عظمیٰ نے عروج بھی دیکھا ایک وقت تھا کہ اس ریاست کے زیر تحت دنیا کی اتنی زمین تھی کہ اس کے ایک طرف سورج غروب ہو رہا تھا تو اس کی مقبوضات میں سورج طلوع ہو رہا ہوتا تھا ۔اسی لئے کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمیٰ کی مقبوضات میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا، انگریز دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے سو ان کا ڈنکا بج رہا تھا۔ مسلمانوں کی بغدادی سلطنت، عثمانی سلطنت اور مغلیہ سلطنت اپنی اپنی جگہ موجود تھیں لیکن جو عظمت برطانیہ عظمیٰ کو حاصل تھی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی تھی۔
برطانوی بادشاہت نے یورپی ہم مذہبوں کے ساتھ مل کر پوری دنیا پر قبضہ کرنے کاجومنصوبہ بنایا تھا وہ تو کامیاب نہ ہو سکا لیکن وہ سب مسلمانوں کا اقتدار ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ عربوں کو عثمانیوں کے خلاف کھڑا کرکے کمزور خلافت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی حتیٰ کہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ بغدادی، مغلیہ و عثمانی سلطنتیں فنا کی گھاٹ اتر گئیں۔ مسلمان تقسیم در تقسیم کے عمل کے ذریعے کمزور کر دیئے گئے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تہذیبی و سیاسی عروج کے دور میں بلکہ ارتقائی عمل کے دوران ہی سائنس و فنون، ادب وغیرہ کی ترویج کیلئے منظم انداز اختیار کیا۔
یورپ میں اندھیرے دور سے نکلنے کی ابتدااسی دور میں ہوئی۔ یورپ، برطانیہ اور پھر امریکہ کی ترقی کی بنیادیں اسی اسلامی دور میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ پیسے کی دریافت، بھاپ پر قابو پانا، انجن بنانا جیسے تاریخی واقعات نے انقلاب فرانس کو جنم دیا جس کے بطن سے دورحاضر کا جدید نظام نکلا۔ سفید انسان نے ایک نئے جمہوری نظام کے تحت زندگیاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہی نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کی آبیاری اور رہنمائی کا فریضہ بھی اپنے تئیں سنبھال لیا۔ دور حاضر کی تہذیب مغرب اگر رہنما تہذیب اور مغربی نظام پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے تو اس کی بنیادیں اسی دور میں تلاش کی جا سکتی ہیں جب انسان نے مل جل کر رہنا سیکھا۔ سائنسی علوم کے فروغ نے کلیسیا کی چودھراہٹ میں کمی کی۔ کلیسیا اور جاگیردار کے اتحاد کو کمزور کیا پھر ایک جمہوری نظام نے ایک خوشحال معاشرے کو جنم دیا۔
افکار جدید کی ابتدا یورپ میں ہوئی۔ برطانیہ نے اس نظام کو مستحکم کیا،فروغ دیا۔ اس طرح وہ خود بھی عظمیٰ یعنی برطانیہ عظمیٰ کے مقام علیا پر فائز ہوا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا قیام اسی دور کی بنیاد ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تہذیب مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام کو ایک عالمی نظام کے مقام تک امریکہ نے پہنچایا۔ اس وقت جو عالمی نظام دنیا کو گرفت میں لئے ہوئے ہے وہ امریکی قیادت کا ہی کمال ہے۔ امریکی نظام سیاست اور معیشت ہی نہیں بلکہ نظام معاشرت بھی دنیاپر غالب ہے۔ امریکہ معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر دنیا کی ایک غالب حقیقت ہے اپنے ڈھائی سو سالہ قیام کے دوران شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزراہو جب وہ دن گیا حالتِ جنگ میں مبتلا نہ رہا ہو۔ جنگ ہی اس کی معاشی تعمیر و ترقی کا ذریعہ ہے اس کی سفارتی حکمت عملی بھی جنگ اور معیشت کے فلسفے پر ترتیب پاتی ہے۔
دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کی عظمت کو فنا کر دیا اور وہ اپنی عظمت برقرار نہ رکھ سکا اس طرح امریکہ دنیا کی سپرپاور بن کر ابھرا۔ اس سے پہلے فکری اور نظری اعتبار سے اشتراکیت ایک مدمقابل نظریے کے طورپر سامنے آ چکی تھی۔ 1923 میں سوویت یونین کے قیام نے سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک کے مقابل دشمن پیدا کر دیا تھا۔ امریکہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے چودھری کے طور پر اشتراکیت کو پچھاڑنے میں مصروف ہو گیا کیونکہ جنگ ایک معاشی حکمت عملی کے طور پر امریکی منصوبہ سازوں کیلئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے اس لئے اشتراکیت کے خلاف محاذ قائم کیا گیا بلکہ مختلف اتحاد قائم کئے گئے۔ناٹو، سیٹو، نیٹو جیسے عالمی معاہدے و اتحاد اشتراکی اثر و نفوذ روکنے اور اسے محدود رکھنے یا شکست دینے کیلئے ترتیب دیئے گئے تھے یہ دور 1991 میں اشتراکی ریاست کے خاتمے تک قائم رہا۔ اس دوران چھوٹی بڑی جنگیں بھی جاری رہیں انسانی اور قدرتی وسائل بے دریغ ان جنگوں کی نذر کئے جاتے رہے لیکن ساتھ ساتھ سائنسی،فنی اور علمی ترقی و ارتقاء کا عمل بھی جاری رہا۔ امریکہ قائد کے طورپر موجود رہا۔
اشتراکیت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے تہذیبی و تمدنی طو رپر اسلام و مسلمان کو ایک دشمن کے طور پر اپنایا تاکہ اس کی جنگ باز حکمت عملی پر کام جاری رہ سکے۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسے کسی موثر اپوزیشن کا بھی سامنا نہیں تھا اس لئے اس نے خلیجی جنگوں کے ذریعے مسلمانوں کی بربادی کا آغاز کیا۔ طاقت کے غرور اور تکبر کےساتھ،پنی جنگی مشین کے استعمال کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے نئے جغرافیے پر کام شروع کیا حتیٰ کہ 2001میں نائن الیون ہو گیا۔ امریکی ہیبت پر حملہ ہو گیا۔ امریکہ نے دہشت گردی کےخلاف عالمی جنگ شروع کر دی۔ پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کرکے امریکہ نے اپنی عسکری ہیبت بحال کرنے کی کوشش کی۔ 20سال تک وہ افغانستان میں الجھا رہا، لیکن اسے ذلیل و خوار ہو کر وہاں سے نکلنا پڑا۔
ویت نام میں شکست کے بعد امریکہ سنبھل گیا تھا لیکن یہاں اسے جب شکست ہورہی تھی تو اس دوران چین چپکے چپکے اپنی معاشی قوت بڑھا رہا تھا چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا گویا عالمی معاشی طاقت بننے کا اعلان تھا۔ امریکہ چینی حکمت عملی کے سامنے ٹھہر نہیں سکا۔ چین نے غیر اعلانیہ امریکی چودھراہٹ کو چیلنج کیا۔ پاک بھارت جنگ کے دوران چینی جنگی ٹیکنالوجی نے جو معجزہ کر دکھایا ہے۔ دنیا ابھی تک اس کے سحر سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔ 28فروری 2026 میں ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے امریکی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔ ایران نے ڈرونز اور راکٹوں کے ساتھ جس طرح اسرائیل کا ناطقہ بند کیا اور خلیج میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا وہ حیران کن ہے۔ ہرمز کی ناکہ بندی اور اس پر امریکی بے بسی دنیا کے سامنے ہے۔
امریکہ ایک عظیم طاقت ہے لیکن اس کی عظمت کا سورج غروب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود وہ چینی معیشت کے مدمقابل کمزورنظر آرہی ہے۔ ایران نے امریکی عسکریت کا بھانڈا بھی پیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ نئی دنیا ترتیب پا رہی ہے۔ علاقائی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ توازن طاقت تبدیل ہو رہا ہے جو امریکہ کے حق میں جاتانظر نہیں آ رہا۔ امریکہ سپر طاقت کے منصب جلیلہ سے ہٹتا نظر آ رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)