دہشت گردی: عزم تو ہے، حل دکھائی نہیں دیتا
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 08 / جولائی / 2026
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن کے پراکسی نیٹ ورکس کو پاکستان کے امن سے کھیلنے نہیں دیں گے‘۔ اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا تھا کہ پاکستان میں سب دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے جبکہ اس کی منصوبہ بندی اور تیاری افغانستان میں ہوتی ہے۔
ان دونوں فوجی لیڈروں نے واضح اور بے لاگ انداز میں ملک دشمن طاقتوں کا تعین کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’ہر قیمت پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ریاست کی پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا۔جبکہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا‘۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا ایہ اعلان پاکستانی عوام کے لیے عام طور سے اور متاثرہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے خاص طور سے اطمینان کا سبب ہونا چاہئے۔ تاہم بدقسمتی سے فوجی لیڈر کی طرف سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے اعلانات کے باوجود ملکی عوام مایوسی کا شکار ہیں اور ملک سے دہشت گردی، بدامنی اور شدت پسندی کے خاتمہ کے بارے میں پر امید نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو دہشت گرد کارروائیوں میں تسلسل ہے ، دوسرے سرکاری اداروں کی طرف سے اس حوالے سے صرف طاقت کے استعمال پر اصرار مسئلہ کو پیچیدہ کرتا ہے۔
حکومتی و عسکری قیادت کے یہ دعوے مانے جاتے ہیں کہ افغانستان، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ملک میں ہونے والے بیشتر حملے اسی ملک سے تربیت یافتہ عناصر کی طرف سے دیکھنے میں آتے ہیں۔ یا بعض دہشت گردی گروہوں نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں اور وہ وہیں بیٹھ کر پاکستان میں اہداف کا تعین کرتے ہیں اور پھر کسی ایک سانحہ میں نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ’ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ریاست پاکستان کا موقف اس معاملے پر نہایت واضح اور دوٹوک ہے ۔دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کا ہر حد تک پیچھا کیا جائے گا‘۔ تاہم اس حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان جن دو خود مختار ہمسایہ ممالک کو دہشت گردی کا ذمہ دار سمجھتا ہے، ان کی گرفت کیسے کی جائے گی؟
گزشتہ چند ماہ سے پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بھائی چارے کے تعلقات کے باوجود وہاں فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے ہیں اور مفسد عناصر کو ہراساں کیا ہے۔ ا س کے باوجود دہشت گردی میں وقتی طور سے کمی واقع ہوتی ہے لیکن موقع ملتے ہی یہ عناصر ایک بار پھر متحرک ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں منظم ہونے اور اسلحہ حاصل کرنے کے مواقع بدستور میسر ہیں۔ پاکستان کو فضائی طور سے افغانستان پر برتری حاصل ہے ، اس لیے وہ اپنی اس صلاحیت کی بنا پر کسی حد تک کابل میں افغان حکومت کو دباؤ میں لاسکتا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ غیر ضروری طور سے طاقت کا مسلسل استعمال دشمن طاقت کو اس کا سامنا کرنے اور جنگی ماحول میں تیاری اور اہداف تک پہنچنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے گزشتہ دنوں کراچی میں رینجرز کے مرکز پر حملہ ہؤا اور گزشتہ روز بلوچستان میں پولیس چوکی پر حملہ کرکے متعدد اہلکاروں کو جاں بحق کیا گیا۔
یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے جس طاقت سے افغانستان میں دہشت گردوں کے اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، ویسی کوئی کوشش بھارت کے خلاف دیکھنے میں نہیں آتی۔ اسی لیے بھارت پر شاید صرف سہولت کا ری کا الزام لگا کر یہ اطمینان کرلیا جاتا ہے کہ دشمن کا تعین ہوگیا ہے۔ البتہ اس سے مسئلہ تو حل نہیں ہوگا۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ بھارت بھی پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے حوالے سے تقریباً ویسے ہی الزامات عائد کرتا ہے جو پاکستانی لیڈر اب بھارتی حکومت پر عائد کررہے ہیں۔ بلکہ بھارتی انتہاپسند لیڈروں نے تو اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر گزشتہ مئی میں پاکستان کو سزا دینے کے لیے ’آپریشن سندور‘ کا آغاز کیا۔ ان حملوں کے بارے میں بھارتی حکومت کا مسلسل دعویٰ ہے کہ اس نے ایسے دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا جو پاکستان میں بیٹھ کر بھارتی علاقوںمیں دہشت گردی کرتے ہیں۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ جنگ میں شکست کے باوجود بھارتی حکومت مسلسل ’آپریشن سندور‘ جاری رکھنے پر اصرار کررہی ہے۔ اس سے یہ سبق سیکھا جاسکتا ہے کہ الزام لگانا جتنا آسان کام ہے، کسی خو مختار ملک کو اس کام سے روکنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ یہ کام صرف عسکری قوت کے بل بوتے پر نہیں کیا جاسکتا۔ ایران امریکہ جنگ کا بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے جس میں پاکستانی قیادت نے بڑی تندہی سے ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔ امریکہ ، ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دیتا ہے لیکن جنگی کارروائیاں روکنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہے۔
پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے خلاف جس شدت سے الزامات عائد کیے ہیں، اتنی توجہ باہم مواصلت اور بات چیت پر مرکوز نہیں کی گئی۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کو یہ ماننا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو عسکری طور سے نیچا دکھانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے باہمی تناعات پر الزام تراشی چھوڑ کر سفارتی راستہ تلاش کیا جائے تاکہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی شکایات سنی جائیں اور ان کا متفقہ حل تلاش کیا جاسکے۔ پاکستان اگر بھارت کے ساتھ مفاہمت کا کوئی فریم ورک تیار کرنے پر آمادہ ہو اور اس منصوبے کو حتمی شکل دی جاسکے تو اس کا لامحالہ پاک افغان تعلقات پر بھی اثر پڑے گا۔ ایک تو بھارت ، افغانستان کے راستے پاکستان دشمن عناصر کی براہ راست یا بالواسطہ امداد بند کرے گا تو کابل کی حکومت بھی چاہے گی کہ وہ بھی ایسی کسی مفاہمت کا حصہ بنے۔ اس طرح وہ چینی لیڈروں کو مزید سرمایہ کاری پر آمادہ کرسکیں گے۔
متوازی سفارتی کوششوں کے بغیر یک طرفہ عسکری دباؤ تشدد میں اضافہ کا سبب تو بنے گا لیکن اس سے دہشت گردی مکمل طور سے ختم نہیں ہوگی۔ البتہ عسکری طاقت کو مذاکرات میں بہتر نتائج کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر پاکستانی افواج جب کسی دہشت گردی کے بعد آپریشن کلین اپ کے نام پر لوگوں کو گھیر کر مارتی ہیں تو اس سے بھی معاشرے میں خوں ریزی ہی ہوتی ہے اور بعض گھرانوں یا قبائل کو شکایات بھی ہوتی ہیں کہ انہیں ناجائز طور سے نشانہ بنایا گیا۔ کسی بھی ملک میں تسلسل سے تشدد کا استعمال مزاحمت اور ناراضی کے ایسے مزاج کو جنم دے سکتا ہے جو کسی ملک کے اتحاد اور فلاح و بہبود کے لیے خوش آئیند نہیں ہوتا۔
بیرونی عناصر سے نبرد آزما ہونے کے علاوہ پاکستانی حکام کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ملک میں شدت پسندی و انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چند روز پہلے ایک نوجوان نے ایک لڑکی کو ہراسان کرنے سے روکنے پر ائرفورس کے ایک گروپ کیپٹن کو شہید کردیا۔ وہ اسلام آباد کی ایک مصروف شاہراہ پر بھرا ہؤا پستول جیب میں رکھے گھوم رہا تھا۔ یہ شخص کوئی باقاعدہ مجرم یا پیشہ ور قاتل نہیں تھا لیکن اسے اسلحہ تک رسائی حاصل تھی اور کسی بھی صورت میں اسے استعمال کرنے ہر بھی آمادہ تھا۔ اس سے ملک میں امن و امان کی صورت حال اور معاشرے میں تشدد کے عمومی رجحان کا پتہ چلتا ہے۔
یہ رجحانات کئی دہائیوں کے دوران غلط پالیسیوں کی وجہ سے راسخ ہوئے ہیں۔ انہیں ختم کرنے کے لیے صبر و تحمل کے علاوہ ایک ٹھوس علمی منصوبہ ضروری ہوگا۔ تاہم اس کا آغاز سب سے پہلے سرکاری اداروں میں پائی جانے والی انتہا پسندانہ ذہنیت ختم کرنے سے ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی و عسکری لیڈروں کو گفتگو میں تشدد کو گلوری فائی کرنے کی بجائے اسے مجبوری کے عالم میں اختیار کیا جانے والا راستہ سمجھنااور بتانا چاہئے۔