مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے ملزم سپریم کورٹ سے بری
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو بھٹے میں جلا کر مارنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔
چار نومبر 2014 کو توہین مزہب کے الزام میں شہزاد مسیح اور ان کی حاملہ بیوی شمع بی بی کو مشتعل ہجوم نے تشدد کے بعد اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا تھا۔ پولیس نے مسیحی جوڑے کے قتل کے الزام میں سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
نومبر 2016 میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پانچ ملزمان کو سزائے موت اور نو دیگر ملزموں کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے 92 دیگر ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت پانے والے پانچ میں سے دو ملزمان کو بری کر دیا تھا جبکہ تین کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔
اس دوران عدالت نے مسیحی جوڑے کو بھٹے میں زندہ جلا کر مارنے کے الزم میں سزائے موت پانے والے تینوں ملزمان عرفان، مہدی اور ریاض کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے 102 ملزمان کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست بھی خارج کر دی۔