سرکاری یونیورسٹیوں کا پنڈورابکس
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 10 / جولائی / 2026
جب نظام سے باخبر کوئی شخصیت کسی رائے کا اظہار کرے تو اُسے غور سے سننا چاہیے۔ کیونکہ اس میں جہاں بگڑے حالات کی منظرکشی ہوتی ہے وہاں ان خطرات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو اندر ہی اندر منڈلا رہے ہوتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی ایک دبنگ شخصیت کے مالک ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں رہے اور بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔وہ بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے چار سال تک وائس چانسلر بھی رہے۔ حال ہی میں اس یونیورسٹی میں دو اساتذہ کے حوالے سے خبریں گردش میں آئیں تو انہوں نے ان خبروں پر یہ کمنٹ کیا: ’اگر میں ذکریا یونیورسٹی میں اپنے وائس چانسلر کے چار سالہ دور پر کتاب لکھوں تو یہ کتاب نہ صرف بیسٹ سیلر ہوگی بلکہ اس حوالے سے نقاب کشا بھی ہو گی کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے۔ان یونیورسٹیوں کو چلانا بہت مشکل کام ہے۔ ہر وی سی کے بس کا کام نہیں کہ ان کے امور کو چلا سکے۔ سب نہیں لیکن بہت سے اساتذہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ جاری ہے‘۔
میں نے جب ان کی یہ تحریر پڑھی تو اس لئے چونکا کہ وہ ہمیشہ اپنی رائے کا اظہار سوچ سمجھ کے کرتے ہیں۔ انہوں نے مجبور ہو کر اگر اس رائے کا اظہار کیا ہے تو یہ بہت سنجیدہ نوعیت کی صورت حال ہے۔ پبلک سیکٹر یعنی سرکاری یونیورسٹیاں ہر وقت سکینڈلز کی زد میں کیوں رہتی ہیں، اس پر کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اب اگر ایک سابق وی سی یہ کہتے ہیں کہ ان یونیورسٹیوں کو چلانا ہر وی سی کے بس کا کام نہیں اور ایسے واقعات جو اساتذہ کے حوالے سے سامنے آتے ہیں ان کے عظیم پیشے سے لگا نہیں کھاتے تو ہمارے نظام تعلیم اور اخلاقی اقدار کے لئے کس قدر تباہ کن ہیں۔ ذکریا یونیورسٹی میں ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ایک شعبے کے سربراہ پر شعبے کے اندر خاتون کی آبروریزی کا الزام لگا جس پر اس استاد کو برطرف بھی کر دیا گیا، لیکن عدالتی حکم سے وہ واپس آ گیا۔ تازہ خبر جس پر پروفیسر منصور اکبر کنڈی نے مندرجہ بالا تبصرہ کیا وہ سرائیکی سنٹر کے ایک لیکچرار کی طالبہ سے زبردستی شادی سے متعلق ہے جس کے بعد دو بیٹیاں پیدا ہوئیں تو طلاق دے دی، نکاح بھی رجسٹر نہیں کرایا۔ اخبارات میں یہ قصہ بہت اچھالا جا رہا ہے۔ اب اگر پروفیسر منصور اکبر کنڈی یہ کہتے ہیں ان کے پاس ایسے اتنے زیادہ واقعات ہیں جو انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں دیکھے اور ان پر اگر کتاب لکھی جائے تو وہ بیسٹ سیلر ہوگی تو ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کس سمت کو چل نکلے ہیں اور اس طوفانِ وحشت کے آگے بند باندھے کی کوئی صورت کیسے نکالی جا سکتی ہے۔
اس بات کو کرتے تو کئی دہائیاں گزر گئیں کہ جس سمیسٹر سسٹم کو ہم نے بے لگام گھوڑے کی طرح یونیورسٹیوں پر مسلط کیا تھا، وہ کئی خرابیوں کا باعث بنا ہوا ہے۔ اساتذہ کے ہاتھ میں بغیر کسی مانیٹرنگ نظام اندھے اختیارات دینا گویا استحصال کی ایک ایسی صورت کو جنم دینا ہے۔ خاص طور پر طالبات کے لئے کہ وہ طوفان کی زد میں آنے سے کیسے بچیں اور اپنے کیرئر و کردار کو کیسے بچائیں۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں جن سے طالبات نے خودکشی کی، حتیٰ کہ طالب علم بھی دل برداشتہ ہو کر جان ہار گئے۔ ہائرایجوکیشن کمیشن ایک ایسا سفید ہاتھی ہے جس نے سوائے فنڈز کی تقسیم کے اور کوئی کام نہیں کیا۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ویسے تو اتنے بااختیار بنا دیئے گئے کہ جسے چاہیں رکھ لیں، جسے چاہیں شعبے کا چیئرمین بنا دیں جو مرضی قانون منظور کرالیں، جیسے چاہیں فنڈز کا استعمال کریں۔ یونیورسٹیوں میں طالبات کو استحصال سے بچانے کیلئے کوئی بڑا ایکشن لیتے ہوئے انہیں اپنی نوکری جانے کا خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں اساتذہ کی تنظیمیں جو درحقیقت مافیا بن چکی ہیں، ان کے خلاف نہ ہو جائیں، جلوس نہ نکالیں، جلسے نہ کریں، جن میں ان کی کرپشن کے قصے سامنے نہ آ جائیں۔ اساتذہ کی تنظیموں کو میں نے مافیا اس لئے کہا ہے کہ آج تک یونیورسٹیوں میں ہراسانی کے جتنے بھی واقعات سامنے آئے ہیں، ان میں کبھی ان تنظیموں نے اپنے اساتذہ کا احتساب نہیں کیا۔ الٹا انتظامیہ کی طرف سے اُٹھائے جانے والے اقدامات کی مخالفت کی ، وائس چانسلر کو دھمکیاں دیں۔ شاید اسی وجہ سے پروفیسر منصور اکبر کنڈی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ہر وی سی کے بس میں نہیں کہ وہ یونیورسٹی کو چلا سکے۔ بہت سے صرف اپنی نوکری اور مراعات بچانے کے لئے مصلحت سے کام لے کر وقت گزارتے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت تعلیم چاہے وہ صوبے کی ہو یا وفاق کی اگر ان سب معاملات پر اسی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہتے ہیں اور وائس چانسلروں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جامعات میں پلنے والی کرپشن اور اساتذہ کی معاندانہ سرگرمیوں یا سوچ کو بدل دیں گے تو یہ بہت بڑی خام خیالی ہے۔ ہر یونیورسٹی کا وائس چانسلر اساتذہ کے کسی نہ کسی گروپ کا محتاج ہو جاتا ہے۔اسی کو عہدے دیتا ہے، اس کے ہر معاملے پر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ جب تک کسی ایسے واقع کے سامنے آنے پر وائس چانسلر کو شوکاز نوٹس نہیں دیا جاتا، بات نہیں بنے گی۔ وائس چانسلروں کو مقدس گائے کی طرح ہر احتساب سے دور رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ دوسری بات اس سمیسٹر سسٹم میں اصلاح کی ضرورت ہے جو اس وقت یونیورسٹیوں میں رائج ہے۔ کل ایک استاد یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی ہوتا ہے اور اگلے دن وہ طلبہ و طالبات کی تقدیر کا مالک بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وزیٹنگ فیکلٹی کے اساتذہ بھی اس روش کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یونیورسٹیاں ایک بڑی سرجری کی متقاضی ہیں، اس کے لئے اب مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔ وگرنہ اندر کے قصے باہر آئے تو بات بہت دور تک چلی جائے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)