احتجاج میں طلبا کو شامل کرنے کی ذمہ داری کالعدم ایکشن کمیٹی ہوگی: حکومت آزاد جموں و کشمیر

  • اتوار 12 / جولائی / 2026

ترجمان حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے اپنے احتجاج میں 14 اور 15 جولائی کو طلبہ و طالبات سے شرکت کی اپیل کی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی۔ 

ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ ترجمان نے کہا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی۔ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں منظور کیے گئے۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کے مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف مقاصد کی جانب مائل ہوئی۔ ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث عوامی ایکشن کمیٹی کو قانون کے مطابق کالعدم قرار دیا گیا۔

انہوں ںے کہا کہ گزشتہ 36 روز سے جاری دھرنے کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے عام شہریوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل کی گئی، کئی علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے ضروریہ کی کمی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لیے بند راستے کھلوائے۔ بند شاہراہیں کھلوانے کی ہر کوشش کے دوران کالعدم کمیٹی کی جانب سے مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ شجاع آباد میں راستہ بحال کرنے والی ٹیم پر ملحقہ علاقوں اور جنگلات سے شدید فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے۔ ارجہ جھنڈالہ میں بند راستہ کھولنے کے دوران بلڈوزر پر فائرنگ سے آپریٹر زخمی ہوا،  زخمی آپریٹر کو منتقل کرتے وقت سیکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کی گئی۔  اشیائے خوردونوش لے جانے والے ٹرکوں پر حملے، لوٹ مار اور ڈیزل نکالنے کے واقعات کسی پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے۔

ترجمان نے کہا کہ  خواتین اور بچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خواتین اور بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف دھرنے میں رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خواتین اور بچوں کے ہاتھوں میں قرآنِ مجید اور سفید جھنڈے دے کر آگے لانے کی منصوبہ بندی قابلِ مذمت ہے۔  قرآنِ مجید کو کسی بھی تصادم یا محاذ آرائی میں استعمال کرنا مذہبی تقدس اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اشتعال انگیزی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے 14 جولائی کے احتجاج میں طلبہ و طالبات کو اسکول اور کالج کے یونیفارم میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ 15 جولائی کے لانگ مارچ میں طلبہ کو یونیفارم میں مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی۔ قانون کی عمل داری یقینی بنانا اور معصوم شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ 

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات مقررہ انتخابی شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔  انتخابات کے شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔  آزاد، منصفانہ، شفاف اور پُرامن انتخابات کے لیے تمام انتظامی اور سیکیورٹی تیاریاں مکمل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عوام جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں۔ عوام اشتعال انگیز پروپیگنڈے، افواہوں اور تفرقہ انگیز بیانیے کو مسترد کریں۔  

حکومت اور ریاستی ادارے ہر قیمت پر امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائیں گے