اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور

  • اتوار 12 / جولائی / 2026

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی ہے جس میں مشرقِِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کی راہ اپنائیں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جون 2026 میں اسلام آباد مفاہمت یادداشت پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔

دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

قطر نے ایران کی جانب سے اپنے ملک کے علاوہ اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت پر کیے گئے نئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں قطر میں تین افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے نہ صرف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق ان حملوں کا سلسلہ ایک خطرناک کشیدگی کو جنم دے رہا ہے جس سے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سیاسی اور سفارتی کاوشیں متاثر ہوں گی۔ قطر کا کہنا ہے کہ ان حملوں نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام اثرات کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا کہ قطر اپنی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے قطر جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔ قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے ایران کی جانب سے داغے میزائلوں کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کے دوران ملبہ گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ متعلقہ سکیورٹی ادارے چوبیس گھنٹے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے اور فوری ردِعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنوبی ایرانی شہروں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس نے قطر کے العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا تھا کہ قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور اس اڈے میں لڑاکا طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کے مرکز کے ساتھ ساتھ کمانڈ اور کنٹرول مرکز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

ایران کے مرکزی مذاکرات اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا۔ ہم نے آپ سے کہا تھا، یا اپنے وعدے پورے کریں یا (وعدہ خلافی کی) قیمت ادا کریں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ امریکہ اور ایران میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی۔

اس میں درج ہے کہ ’مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس آنے جانے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے انتظامات کرے گا اور یہ سہولت صرف 60 دن تک بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائے گی۔‘

اس شق کی جو تصویر باقر قالیباف نے شیئر کی، اس میں ’ایران انتظامات کرے گا‘ کے الفاظ کو نمایاں کیا گیا ہے۔

امریکی فوجی کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ نئے حملوں کا مقصد ’آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔ امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے ہتھیاروں سے ایران کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق، رواں ہفتے کے دوران کیے گئے تین حملوں میں ایران کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران پر تازہ حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس کے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ ایکس پر اپنے بیان میں امریکی وزیرِ دفاع نے امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران پر حملوں سے متعلق بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘