ایرانی کشتی اور جذبات کا سمندر
- تحریر مجیب الرحمن شامی
- اتوار 12 / جولائی / 2026
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہادت کے ایک سوتیس دن بعد مشہد لے جا کر روضہ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ایک سو پچاس ایکڑ پر محیط اس روضے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ اس کے سارے دروازے بند کر دیئے گئے تھے کہ احاطہ بھر چکا تھا لیکن دروازوں کے باہر بھی سر ہی سر تھے۔
پورا شہر جنازگاہ بن گیا تھا اور اپنے رہنما کے لئے دست بدعا تھا۔ شہید کی میت شیشے کے ایک بلند تابوت میں رکھی گئی تھی، ان کے ساتھ ان کے داماد، بیٹی، بہو اور 14ماہ کی پوتی کے تابوت بھی دھرے تھے کہ جنہیں ان کے ساتھ ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ابتدا ہی میں یہ سفاکانہ واردات کر ڈالی گئی تھی۔ حملہ آوروں کا پختہ خیال تھا کہ اس کے بعد ایران کا ریاستی ڈھانچہ تتربتر ہو جائے گا۔ لوگ اقتدار کے ایوانوں پر چڑھ دوڑیں گے، ان پر قبضہ کرکے آیت اللہ حضرات کی ’غلامی‘ سے نجات کا اعلان کر دیں گے اور ایران میں کوئی کٹھ پتلی حکمران لابٹھایا جائے گا۔مرحوم شاہ ایران کے صاحبزادے علی رضا پہلوی اس کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ وہ امریکہ میں بیٹھ کر خود کو ایرانی عوام کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کررہے تھے۔ میڈیا میں شور مچا ہوا تھا،ان کی صدارت میں گویا ایران کے عوام کو نیا خمینی ملنے والا تھا، جس طرح برسوں پہلے بیرون ملک سے فاتحانہ شان کے ساتھ آیت اللہ خمینی واپس تہران آئے تھے اور پورے ایران نے ان کے قدموں پر اپنے آپ کو نچھاور کر دیا تھا۔ شاہ ایران اوران کے حواریوں کے لئے زمین پر کوئی جگہ نہیں رہی تھی، اسی طرح شاہ کے بیٹے جو اپنی تاجپوشی آپ ہی کرکے بیٹھے ہوئے ہیں، واپسی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ ایرانی عوام کے ’نجات دہندہ‘ بن کر نازل ہونے کے منصوبے کی تفصیلات طے کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ علی خامنہ ای کی شہادت نے پانسہ پلٹ دیا۔ حقائق کو طشت ازبام کر دیا۔امریکہ اور اسرائیل کی آنکھیں کھلی کی کھلی ہی نہ رہیں،پھٹ بھی گئیں۔ وہ اپنا آپ دیکھنے پر بھی قادر نہ رہے، ٹامک ٹوئیاں مارنے اور اپنے آپ کو سنبھالنے لگے۔ شکست کے داغ نہ مٹائے مٹ رہے تھے، نہ چھپائے چھپ رہے تھے۔
امریکی صدر ٹرمپ وینزویلا پر چھاپہ مار کر مسرور تھے، وہاں حکومت کی تبدیلی کرکے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے دعوؤں میں جھوم رہے تھے۔ ان کا اگلا ترنوالہ ایران اور اس کی زمینوں میں چھپی تیل کی دولت تھی لیکن ایران کے عوام اپنی ریاست اور حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئے، اپنے انقلاب کی حفاظت کے لئے آہنی دیوار بن گئے۔ سپریم لیڈر کی شہادت ان کے عزم اور حوصلے کو شکست نہ دے سکی، انہیں نئی توانائی بخش گئی۔ان کے بیٹے کو ان کی جگہ بٹھایا گیا۔ ڈھانچہ بدستور منظم رہا اور دشمنوں کی سرکوبی کے لئے سرگرم ہو گیا۔ سیاسی اور فوجی قیادت نے یک جان اور یک آواز ہو کر حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔
صدر ٹرمپ دہائی دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ میں نمبرون پر ہیں۔ ایران نے ان کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مجھے نشانہ بنایاگیا تو ایران پر انتہائی شدید بمباری ہوگی۔ امریکی فوجیں بے پناہ قوت سے ایران پرحملہ آور ہوں گی اور اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی۔ وہ بھول رہے ہیں کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی انتہائی گھٹیا اور قابل نفرین حرکت انہی کے زیر قیادت اور انہی کی بدولت کی گئی تھی۔کسی بھی جنگ میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا مسلّمہ عالمی روایت ہے۔ متحارب فوجیں ایک دوسرے سے نبردآزما ہوتی ہیں لیکن فوجی اور سیاسی قیادتوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہیں۔ عالمی جنگوں میں بھی ایسی کارروائیاں نہیں کی گئی تھیں لیکن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنا کر جنگی ’اخلاقیات‘ کا بھی گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد اگر کسی جوابی کارروائی میں صدر ٹرمپ یا وزیراعظم نیتن یاہو کو نشانہ بنایاجائے تو اس کی مذمت ان کے ممالک کس منہ سے کریں گے؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ پر حملے کی تائید یا حوصلہ افزائی کی جائے، یقیناً یہ ایک نامناسب کارروائی ہو گی لیکن جس بدعت کا آغاز انہوں نے کیا ہے، اپنے حوالے سے وہ اسے ظلمِ عظیم کیسے قرار دے سکتے ہیں؟
علی خامنہ ای تو اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جان دے کر دنیا بدل گئے۔ ایران پورے قد سے کھڑا ہے۔ کروڑوں افراد نے انہیں الوداع کہا ہے،کئی روز تک جاری رہنے والی ان کی آخری رسومات میں شرکت کی ہے۔اسّی سے زائد ممالک کے نمائندے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پہنچے ہیں۔ سینکڑوں میل لمبا جلوس جنازہ تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر گیاہے۔ جگہ جگہ ان کی نماز جنازہ ادا کی جاتی رہی، ان کے لئے مغفرت کی دعاؤں سے زمین اور آسمان بھر گئے۔ تہران سے روانہ ہو کر نجف اشرف اور کربلا سے ہوتا ہوا جسدخاکی مشہد پہنچا اور مٹی کی چادر اوڑھ کر محوِ خواب ہو گیا۔
شہادت اور تدفین کے درمیانی عرصے میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات شروع ہوئے، پاکستان نے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ثالثی کا موثر کردار ادا کیا۔ عارضی جنگ بندی ہوئی۔ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ دنیا بھر کے تبصرہ نگاروں نے ایران کو مبارکباد دی، اس نے حملہ آوروں کو ناکام بنا دیا تھا،وہ اس سے معاملہ فہمی پر مجبور ہوگئے تھے۔ اسرائیل میں صف ماتم بچھی اور امریکہ میں صہیونی لابی کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوئی، نیتن یاہو کی شخصیت ناپسندیدہ قرار پائی۔ ایران کی ریاست محفوظ ہے، اس کا انقلاب محفوظ ہے، اس کے عوام پُرعزم ہیں۔ وہ انتقام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب کامیابی کے نشے میں سرشار ہیں اور بلند عزائم کا اظہار کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو للکار رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کو قابو رکھنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ایران اور امریکہ ایک بار پھر الجھ گئے ہیں۔ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، لیکن بات چیت کا ارادہ بھی ظاہر کیاجا رہا ہے۔ ایران کے بہی خواہوں اور دعاگوؤں کی نظریں اس پر لگی ہیں۔ پ
اسداران انقلاب کے غم و غصے سے انہیں خوف محسوس ہو رہا ہے۔ ایران کے ہمسایہ عرب ممالک سے تعلقات مخدوش ہونے کا خطرہ پھر پیدا ہو گیا ہے۔ دعا ہے کہ ایران اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرے، حملہ آوروں کے عزائم کو ناکام بنا کراس نے جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ ہاتھ سے نہ نکلنے پائے۔ جنگ برائے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو یک جان ہوکر اپنے اور اپنے خطے کے مفادات کی حفاظت کرنی ہے، اسے امن کا گہوارہ بنانا ہے، اسرائیلی منصوبہ سازوں کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یک جان ہو کر جس طرح ایران کی حفاظت کی ہے،اسے توانائی بخشی ہے اسی طرح اب ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر مستقبل کو گرفت میں لینا ہے۔ جذبات کے سمندر میں اپنی ہی کشتی ہچکولے کھانے لگے تو اسے طاقت کا مظاہرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اب نئی نسل کے محبوب شاعر وصی شاہ کے چند اشعار سنتے، سر دھنتے اور جان و دل قربان کرتے جائیے :
دھمکیوں سے تو محبت نہیں کروا سکتے
تم ڈرا سکتے ہو عزت نہیں کروا سکتے
چاند کا نام کتابوں میں اندھیرا رکھ دو
پھر بھی تبدیل حقیقت نہیں کروا سکتے
تم ہتھیلی پہ میرا سر تو اٹھا سکتے ہو
ہاں،مگر ہاتھ پر بیعت نہیں کروا سکتے
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)