بلیو پاسپورٹ، اشرافیہ کا نیا دکھ

اک عمر گزر گئی، لکھتے دیکھتے، سنتے، مگر کبھی یہ دیکھنے کو نہیں ملا کہ سیاست کی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں نے کبھی اپنے ووٹرز یا عوام کو اپنی ترجیح کا مرکز بنایا ہو۔ سب کچھ اپنے لئے مانگنے اور سوچنے والے عوامی نمائندے تو نہیں ہو سکتے۔ مراعات اپنے لئے،تنخواہوں میں چھ سو گنا اضافہ اپنی خاطر، تاحیات سہولتیں اپنی آل اولاد کے لئے بجلی، گیس، پٹرول،موبائل سب مفت۔

 یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں اتنی بھی شرم نہیں آتی، جتنی خواجہ آصف نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر یاد دلائی تھی۔اب اس نمائندہ ایلیٹ کلاس کا ایک اور سیاپا شروع ہو گیا ہے۔ہر کوئی بلیو پاسپورٹ مانگ رہا ہے، اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی فیملی کے لئے بھی۔ موجودہ نمائندوں کے لئے ہی نہیں ریٹائر ہوجانے والوں کے لئے بھی۔ جب سے دوڑ لگی ہے میں سوچ رہا ہوں جس طرح ہماری حرکتوں کی وجہ سے گرین پاسپورٹ دنیا میں آخری نمبروں پر ہے ، اسی طرح اس بلیو پاسپورٹ کی بھی درگت بن جانی ہے۔ جب اس پاسپورٹ کے حامل افراد بیرون ملک جاکے گل کھلائیں گے تو بلیو پاسپورٹ بھی ایک تماشا بن جائے گا۔ پہلے سنتے تھے کہ بلیو پاسپورٹ اعلیٰ سطح کے حکومتی عہدیداروں اور بڑی عدالتوں کے ججوں کو ملتا ہے۔ بیورو کریسی بھی سیکرٹری کی سطح کے افسروں کے لئے بلیو پاسپورٹ لے اڑتی تھی۔ بہت کڑا معیار اور نگرانی تھی، جس کے بعد یہ پاسپورٹ جاری ہوتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں بلیو پاسپورٹ جاری کئے جا چکے ہیں اور جواب ریلا آنے لگا ہے اس کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں نے یہ ضرور سوچنا ہے کہ انہیں وہ استثنا دیا جائے یا نہیں کیونکہ انہی لوگوں نے ایسی کئی حرکتیں کرنی ہیں جو سفارتی حوالے سے بے ضابطگی کے زمرے میں آتی ہیں۔ بلوچستان کے ایک صوبائی وزیر کے بیٹے نے تو بلیو پاسپورٹ پر یورپی ملک جا کے وہاں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے دی ہے۔

میرے نزدیک یہ اس ذہنیت کی وجہ سے ہے جو ہمیشہ سے ہماری سیاسی قیادت اور نمائندگان نے پاکستانی عوام کے خلاف اپنائی ہوئی ہے۔ عام پاکستانی کو ہر معاملے میں اپنے سے کمتر سمجھنا اور اپنے وی وی آئی پی کلچر کو برقرار رکھنا یا عام پاکستانیوں اور ان کے درمیان ایک فاصلہ موجود رہے، ان کے لئے سڑکیں علیحدہ چاہئیں، کوئی ان کی گاڑی کے آگے گاڑی چلانے کی غلطی کر بیٹھے تو ان کے گارڈز گاڑی والے کو گھیر کے وہ سبق سکھاتے ہیں، جس کے بعد وہ ساری زندگی ویگو ڈالے والوں سے ڈر ڈر کے گزارتا ہے۔ ایک نئی گھٹیا روایت یہ شروع ہو گئی ہے کہ پہلے بات رکن اسمبلی کی موت تک رہتی تھی۔ اب یہ نئی واردات ڈالی گئی ہے کہ تاحیات کا راستہ نکال لیا گیا۔مراعات جب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہیں تو وہ تاحیات ہی کہلاتی ہیں، اس معاملے میں سارے اختلافات اور امتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔ مراعات کے دربار میں سبھی ایک ہو جاتے ہیں۔ اپوزیشن کا انکار رہتا ہے اور نہ برسراقتدار لوگوں کو عوام سے کوئی شرم آتی ہے جن لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں ان کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے ان سے دوری اختیار کی جائے۔

 آج یہ منظر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کی طرف سے سلیوٹ نہ مارنے پر تحریک استحقاق پیش کی جاتی ہے۔ اسے کمیٹی میں بلا کے ذلیل کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے کبھی عوام کے ساتھ ان کے سلوک پر تحریک استحقاق پیش نہیں کی، ان کے ساتھ وہ جو چاہے کرتے رہیں انہیں رتی بھر فرق نہیں پڑتا۔ ہاں ان کی انا کے مطابق افسران کا سواگت نہ کرے تو ان کے پاؤں میں گویا کیل چُبھ جاتا ہے۔ ٹریفک وارڈن ان کی گاڑی کی خلاف ورزی پر روکنے کی جرات کر بیٹھے تو اس اور اس کے افسر کی خیر نہیں، ان کے حلقے میں عوام کے ساتھ یہ وارڈن جو مرضی کرتے رہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بل گیٹس قطار میں لگ کے اپنے لئے برگر لے سکتا ہے جو دنیا کا امیر ترین شخص ہے لیکن یہاں گاڑی سے اترے بغیر کوئی دکاندار انہیں شے نہ دے تو بندے بھیج کے اس کی طبیعت صاف کرانا ان کا جنون بن جاتا ہے۔پنجاب کے پنشنرز دہائیاں دیتے رہ گئے کہ صوبے میں   پنشنرز کی پنشن میں کم از کم مرکزی حکومت جتنا اضافہ تو ضرور کیا جائے کیونکہ پنجاب کے سابق ملازمین سوتیلے نہیں ہیں۔ مجال ہے ارکان اسمبلی نے اس ضمن میں اسمبلی کے اندر کوئی آواز اٹھائی ہو، کوئی قرارداد پیش کی ہو، ہاں اگر ان کی اپنی تنخواہیں اور مراعات نہ بڑھائی گئی ہوتیں تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔

اب اس مخلوق کو جس کا تو اب انتخاب بھی مشکوک ہو چکا ہے، بلیو پاسپورٹ اس لئے چاہیے کہ وہ عوام کی طرح گرین پاسپورٹ پر سفر نہیں کرنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں جب کسی ملک میں جاکے اتریں تو امیگریشن عملے کو پتہ چلے یہ کوئی عام پاکستانی نہیں بلکہ وی آئی پی پاکستانی ہے۔ بلیو پاسپورٹ فیملی کو کیسے دیا جا سکتا ہے  وہ تو سرکاری استحقاق نہیں رکھتے۔ فیملی کا کوئی فرد اگر کسی منفی سرگرمی میں ملوث ہو کر پکڑا جاتا ہے تو اس کا پاکستان کے امیج اور بلیو پاسپورٹ پر کیا اثر پڑے گا؟

ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت نامور ادیبوں،شاعروں،بڑے صحافیوں، صنعت کاروں، سماجی ورکروں، طب اور تعلیم کے شعبوں میں اعلیٰ ترین خدمات سرانجام دینے والوں کو بلیو پاسپورٹ کا حقدار قرار دے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ مقابل وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک ایسے لوگوں اور ایسی خوبیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)