مولوی صاحب
- تحریر عطاالحق قاسمی
- اتوار 12 / جولائی / 2026
گزشتہ روز ہم نے ایک مولانا کو سر راہے روکا اور انہیں بصد اصرار ایک قہوہ خانے میں لے گئے۔ مولانا سے ہمارے دیرینہ عقیدت مندانہ تعلقات ہیں۔
ہم نے چائے کا آرڈر دیا اور چائے آنے پر ایک کپ مولانا اور ایک کپ اپنی طرف سرکاتے ہوئے کہا ’حضرت! بہت دنوں سے جی چاہتا تھا کہ آپ کی صحبت سے فیض اٹھایا جائے مگر مکروہاتِ دنیا سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ خداوند تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج چند لمحے آپ کی صحبت میں میسر آئے‘۔ مولانا نے فرمایا ’من آنم کہ من دانم‘ آپ کیوں اس گنہگار کو کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں۔ ہم نے کہا ’حضرت! آپ کا انکسار آپ کی عظمت کی دلیل ہے۔ بہرحال ممنون ہوں کہ آپ نے چند لمحے اپنے قیمتی وقت میں سے اس ہیچمدان کو بھی عطا فرمائے ۔
مولانا نے فرمایا ’اللّٰہ تعالیٰ آپ کو حسن نیت کا اجر عطا فرمائے، مگر ایسی کون سی بات تھی کہ آپ نے اس ننگ اسلاف کو یاد کیا‘۔ ہم نے عرض کیا ’یا حضرت ! آپ خود کو ننگ اسلاف نہ کہیں ورنہ کچھ ناسمجھ لوگ وفور عقیدت میں آپ کے اس کہے کو بھی سچ تصور کر بیٹھیں گے۔ ویسے نئے دور کے بعض نئے مسائل کے بارے میں آپ سے رہنمائی حاصل کرنا تھی۔ اس لئے آپ کو زحمت دی ‘۔ فرمانے لگے ’ آپ کن مسائل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں‘۔ عرض کیا ’کفار نے کچھ ایسی ایجادات کی ہیں کہ جن سے بہت پیچیدہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں، مثلاً اس ایک کیمرے کی وجہ سے گھر گھر میں بت خانے کھل گئے ہیں، کوئی اخبار ایسا نہیں، جس میں مردوں اور عورتوں کی تصویریں شائع نہ ہوتی ہوں۔ حضرت نے فرمایا زندہ چیزوں کی تصویر بنانا حرام ہے لہٰذا جملہ مومنین کو چاہیے کہ وہ اس سے اجتناب کریں۔ علما کا سواد اعظم تصویر کشی کو متفقہ طور پر خلاف شرع سمجھتا ہے۔
ہم نے کہا ’یا حضرت! نامور علما میں سے شاید ہی کوئی عالم ایسا ہو جس کی تصویر اخبار میں شائع نہ ہوتی ہو ، حضرت نے فرمایا ’یہ تصویریں ان کی بے خبری میں کھینچی گئی ہوں گی‘۔ ہم نے عرض کیا، نہیں حضرت! انہوں نے یہ تصویریں با قاعدہ پوز بنا کر کھنچوائی ہیں، بلکہ بعض سیاسی جماعتوں سے وابستہ جید علما تو اخبار والوں سے خفا ہو جاتے ہیں اگر ان کے بیان کے ساتھ ان کی تصویر شائع نہ کی جائے۔ اس پر حضرت نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’ یہ ان کے ایمان کی کمزوری ہے‘۔ پھر ہم نے عرض کیا ’قبلہ گاہی! دور حاضر کی ایک ایجاد ریڈیو بھی ہے جس کی وجہ سے گھر گھر میں استاد جی پہنچ گئے ہیں۔ یہاں سے مخرب الاخلاق گانے نشر ہوتے ہیں، طبلہ سارنگی کی آوازیں آتی رہتی ہیں اور پائل کی چھم چھم سنائی دیتی ہے]۔ مولانا نے فرمایا ’ یہ سب کچھ خلاف شرع ہے چنانچہ گھروں میں ریڈیو رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے‘۔ عرض کیا ’مگر حضور یہ ریڈیو رکھنا بھی پڑتا ہے کیونکہ یہاں سے علما کی دلپذیر تقریریں نشر ہوتی ہیں‘‘ بولے ’بس وہ تقریریں سن لیا کریں‘۔ عرض کیا، مگر یہ تقریریں ٹھمریوں اور گانوں کے درمیان پھنسی ہوتی ہیں اور اتنی اعلیٰ پائے کی دینی نوعیت کی تقریریں سننے کیلئے یہ اناؤنسمنٹ بھی سننا پڑتی ہے کہ ابھی آپ نے استاد ماٹھے خاں سے راگ ملہار سنا۔ اب مولا نا سرکار علی سے اخلاق حسنہ پر تقریر سماعت فرمائیں۔ بلکہ بعض اوقات تو اناؤنسر کی مخبوط الحواسی سے اناؤنسمنٹ الٹ پلٹ بھی ہو جاتی ہے۔ اس پر حضرت نے ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا ’ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہم لوگوں کو چاہئے کہ ایسی دکان سے آب زم زم بھی نہ خریدیں جہاں شراب بھی فروخت ہوتی ہو‘۔ عرض کیا ، پھر گھر میں ریڈیو رکھنے کے بارے میں آپ کا حتمی ارشاد کیا ہے؟ فرمایا ’گھر میں ریڈیو اور ریڈیو میں علما نہیں ہونے چاہئیں جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ایمان کی کمزوری کا ثبوت دیتے ہیں‘۔
ہم نے کہا ’مولانا ایک الجھن اور بھی ہے‘۔ فرمایا وہ کیا ، عرض کیا ٹیلی ویژن معاشرے میں بہت فساد پیدا کر رہا ہے۔ اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمانے لگے ’یہ بھی تصویرکشی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کا دیکھنا حرام ہے‘۔ عرض کیا، یا حضرت! اس میں ایک قباحت اور بھی ہے۔ فرمایا ’ وہ کیا ؟‘ عرض کیا ، جو خواتین و حضرات اس کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں، انہیں اسکرین پر آنے سے پہلے میک اپ مین سے با قاعدہ میک اپ کروانا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ مردوں کو بھی سرخی پاؤڈر لگایا جاتا ہے؟ فرمایا ’مردوں کیلئے تو خصوصاً بہت نازیبا بات ہے‘۔ ہم نے کہا حضرت ! ریکارڈنگ سے پہلے میک اپ روم میں ان علما کا میک اپ بھی کیا جاتا ہے جو دینی پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں چنانچہ ایک کرسی پر ڈرامے کی کوئی اداکارہ بیٹھی میک اپ کروارہی ہوتی ہے اور اس کی برابر والی کرسی پر کسی عالم دین کا میک اپ ہو رہا ہوتا ہے ۔ فرمایا ’یہ ایمان کی کمزوری ہے‘۔
عرض کیا ، یا حضرت! فلموں میں بہت عریاں مناظر ہوتے ہیں۔ تشدد دکھایا جاتا ہے نئی نسل کو بے راہ روی کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ فرمانے لگے’ اس میں کیا شبہ ہے ہماری بیشتر معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کی جڑ سینما ہے‘۔ ہم نے کہا ، اس میں سیکھنے کیلئے بھی بہت کچھ ہے۔ فرمایا ’اس سے کیا ہوتا ہے کنوئیں سے سو بو کے پانی بھی نکالا جائے لیکن اگر کتا کنوئیں ہی میں رہے تو کنواں پاک نہیں ہوتا۔ جو چیز شرعی طور پر حرام ہے، وہ حرام ہی رہے گی‘۔ عرض کیا ، مولانا! سنسر بورڈ میں علما بھی ہوتے ہیں، چنانچہ اگر فلم میں کوئی عریاں سین ہو تو اسے بار بار چلا کر دیکھا جاتا ہے تاکہ فلم میں اس کا نام و نشان تک نہ رہنے دیا جائے۔ فرمایا ’ یہ بھی ایمان کی کمزوری ہے‘۔ ایسے ہی سوالوں کے جواب مولوی صاحب کے پاس سوشل میڈیا کے حوالے سے تھے۔
ہم نے گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے کہا ، مولانا آپ کو چائے کیسی لگی؟ فرمایا ’ بہت عمدہ چائے ہے‘۔ ہم نے پوچھا ریستوران کیسا ہے؟ فرمانے لگے بہت صاف ستھرا ہے آج آپ کے طفیل یہ ریستوران دیکھنے کا موقع ملا۔ آئندہ یہیں آیا کروں گا! ہم نے کہا ’ حضرت ایک بات آخر میں اور عرض کرنا چاہتا ہوں ؟ فرمانے لگے’کہیے کہیے ‘۔ عرض کیا ، میں نے علما سے سنا ہے کہ بازاروں میں کھانا پینا شرعی طور پر ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ بلکہ بازاروں میں کھانے پینے والوں کی گواہی بھی قابل قبول نہیں ہوتی ۔ اس حوالے سے صرف ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں، گھبرا کر فرمایا ’ کہو کہو‘۔ عرض کیا ’مختلف مسائل کے حوالے سے جو آپ نے ابھی ابھی آرا دی ہیں، متذکرہ اصول کی روشنی میں، میں آپ کی ان گواہیوں کو معتبر نہیں سمجھتا۔ لہٰذا جو امور میں آپ کے ساتھ زیر بحث لایا ہوں، وہ میں کسی جید اور باعمل عالم سے ڈسکس کروں گا ، خدا حافظ‘ ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)