امریکا کے مسلسل تیسرے روز حملے، ایران کا بحرین اور اردن امریکی تنصیبات پر وار

  • منگل 14 / جولائی / 2026

امریکا نے ایران پر مسلسل تیسری رات پانچ گھنٹوں تک حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید دو تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے مقامی وقت کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی حملوں کا آغاز کیا۔

سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرنے اور ان کی اس صلاحیت کو کمزور بنانے کے لئے کئے جا رہے ہیں جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں شہریوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے حملے مکمل کر لیے، ایران کے ساحلی دفاعی نظاموں، میزائل،ڈرون اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔

سینٹکام کے مطابق ایران میں بوشہر، چاہ بہار ، جسک، کونارک ، ابو موسیٰ اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائیاں پانچ گھنٹے تک جاری رہیں، جن میں امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پچاس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، اردن میں فوجی اڈے، اماراتی ٹینکروں اور امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ نے امریکی دشمن کے بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا۔

اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اردنی فضائی حدود میں داخل ہوئے، دفاعی نظام نے 4 میزائلوں کو ناکارہ بنایا۔ میزائل حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، مختلف مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے، ملبہ ہٹانے کے لیے رائل انجینئرنگ کور تعینات کر دی گئی۔

پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔حملے میں فوجی اڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر کو آگ لگ گئی۔یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی ریڈار سسٹمز بشمول پیٹریاٹ سسٹم اور کنٹرول سینٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا، حملے ایران کی جاری جوابی فوجی مہم کا حصہ ہے، ایران کی جوابی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔

پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے دو ٹینکرزکو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ان ٹینکرز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، نیویگیشن سسٹمز بند کر کے بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے آبنائے ہرمز میں جارح دشمن کے ساتھ تعاون آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کا باعث بنے گا اور عالمی توانائی بحران پیدا کرے گا۔

متحدہ عرب امارات نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ دو آئل ٹینکر، مومباسا اور باہیا، آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔