سندھ طاس معاہدہ – اب آگے کیا؟

برسوں کی آبی سفارت کاری کے بعد پاکستان اور انڈیا 1960 میں سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) طے کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائیوں کے اتار چڑھاؤ سے بھرپور تعلقات کے باوجود قائم رہا، تاہم 23 اپریل 2025 کو انڈین حکومت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے ردعمل میں اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔

انڈیا نے الزام لگایا کہ اس واقعے کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ پاکستان نے اس کا ثبوت مانگا اور آزادانہ تحقیقات کی تجویز پیش کی۔ ثبوت فراہم کرنے کی بجائے، انڈین وزیرِ برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے 25 اپریل 2026 کو دھمکی دی کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان کی طرف نہیں جائے گا۔ بعد ازاں انہوں نے جون 2026 میں اعلان کیا کہ انڈیا پانی کو سرحد پار پاکستان جانے سے روکنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ اس سے قبل 2016 میں خود وزیراعظم مودی نے بھی انتباہ کیا تھا کہ ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘ ان دھمکیوں کے تناظر میں، پاکستان نے خبردار کیا کہ تینوں مغربی دریاؤں میں اس کے حصے کے پانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا رخ کی تبدیلی کو ’اعلانِ جنگ‘ سمجھا جائے گا کیونکہ اس سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کو خطرہ لاحق ہے۔

انڈیا نے پچھلے سال اپریل میں سندھ طاس معاہدہ کیوں معطل کیا؟ انڈین حکومت کی جانب سے پیش کردہ وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان سے مبینہ سرحد پار دہشت گردی سے جڑا تھا۔ واضح طور پر، انڈین حکومت پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کیے گئے عظیم الشان کام کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انڈیا خود کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے پراکسی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ پاکستان کے نزدیک، معاہدہ معطل کرنے کا انڈین فیصلہ دہشت گردی سے منسلک نہیں بلکہ پاکستان کو اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کے لیے مجبور کرنے کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔

دوسری وجہ، جو زیادہ تر انڈین فکری حلقوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے، یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر منصفانہ دستاویز تھی کیونکہ اس نے پاکستان کو پورے سندھ ندی نظام کے بہاؤ کا تقریباً 80 فیصد حصہ دے دیا۔ انڈین اس حقیقت کو آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ انہیں تینوں مشرقی دریاؤں کا 100 فیصد پانی ملتا ہے اور وہ قانوناً سندھ ندی نظام کا 20 فیصد پانی آبپاشی، بجلی کی پیداوار اور نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

اگرچہ جغرافیہ انڈیا کو دریائے سندھ اور کسی حد تک جہلم کا رخ موڑنے سے روکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے چناب کو رخ موڑنے اور پانی ذخیرہ کرنے دونوں کے لیے نشانہ بنایا ہے۔ ہماچل پردیش میں چناب کا پانی بیاس کی طرف موڑنے کے لیے ’چناب - بیاس لنک ٹنل‘ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سلال ڈیم سے مٹی نکالی جا رہی ہے۔ کئی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے منصوبہ بندی اور تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں، جن میں ساولکوٹ (1856 میگاواٹ)، پاکل ڈل (1000 میگاواٹ)، رتلے (850 میگاواٹ)، کیرو (624 میگاواٹ)، اور کوار (540 میگاواٹ شامل ہیں۔

جہلم پر انڈیا ’تلبُل نیوی گیشن‘ (وولر بیراج) اور کشن گنگا کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ لداخ کے علاقے میں دریائے سندھ پر رن آف دی ریور (بہتے پانی سے بجلی بنانے کے) کئی منصوبے زیرِ غور ہیں۔ پاکستان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے، کچھ انڈین دلیل دیتے ہیں کہ مغربی دریاؤں پر ان تمام منصوبوں سے 3.6 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی استعمال نہیں ہوگا، جس کی معاہدے کے تحت اجازت ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیونکہ انڈیا نے دائمہ سندھ طاس کمیشن کو غیر فعال کر دیا ہے اور وہ مکمل معلومات کا تبادلہ نہیں کر رہا۔ مزید برآں، یہ صرف پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کی مقدار کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پانی کے بہاؤ کے وقت اور اس کی پیش گوئی کا بھی ہے۔

پاکستان کا نہری نظام متوقع اوقات پر پہنچنے والے پانی کے بہاؤ کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ فصلوں کی بوائی کے سیزن کے دوران بہاؤ میں معمولی سی کمی بھی پاکستان کی زرعی پیداوار پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان چناب پر بڑی تعداد میں ڈیموں کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے کی انڈین کوششوں اور پانی کے بہاؤ کے بارے میں معلومات چھپانے پر شدید فکر مند ہے۔ تیسرا استدلال جو انڈیا پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان آبادیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کے لیے 2023 اور 2024 کی انڈین درخواستوں کا جواب نہیں دے رہا تھا۔

پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ تجاویز پہلے پرمننٹ کمیشن آف انڈس واٹرز کی سطح پر پیش کی جانی چاہییں جو دونوں حکومتوں کو سفارشات بھیج سکتا ہے۔ میری نظر میں، جو بھی تبدیلیاں ضروری سمجھی جائیں، انہیں معاہدے  کے ایک اختیاری پروٹوکول یا ضمیمےکا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ ایک واضح راستہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی رسائی کو جاری رکھے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ انڈین اقدامات نہ صرف اس کی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے روزگار کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

یہ دلیل دنیا کے ان تمام ممالک میں زیادہ موثر ثابت ہو گی، جو دریا کے نچلے بہاؤ پر واقع ہیں اور پانی میں اپنے حصے کے حصول کے لیے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، چونکہ بین الاقوامی قانون تیزی سے اپنی ساکھ کھو رہا ہے، اس لیے انڈیا کسی سفارتی دباؤ کی پرواہ کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ قانونی دائرے میں، پاکستان نے دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔ عدالت نے 27 جون 2025 کو فیصلہ دیا کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ ایک سال بعد، 15 مئی 2026 کو عدالت نے ایک تکمیلی فیصلہ جاری کیا جس میں انڈیا کو ہدایت کی گئی کہ وہ معاہدے کی طے شدہ حدود کے علاوہ مغربی دریاؤں کے بلا رکاوٹ بہاؤ کو یقینی بنائے۔

اگرچہ اسلام آباد نے پانی کے حقوق کے تحفظ کے ان فیصلوں کا خیرمقدم کیا، لیکن انڈیا نے باضابطہ طور پر ان فیصلوں کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ عدالت غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی تھی۔ پاکستان بین الاقوامی عدالت انصاف سے بھی رجوع کر سکتا ہے، جس نے سرحد پار دریاؤں کے کئی مسائل حل کیے ہیں، تاہم، انڈیا کی جانب سے آئی سی جے کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے کا امکان نہیں ہے۔

فوجی آپشن کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ پاکستان کے لیے مختص پانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا رخ کی تبدیلی کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ چونکہ انڈیا ہٹ دھرمی سے اپنے ڈیموں اور سرنگوں کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک اور فوجی تصادم کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ کیا پاکستان کسی ایسے ڈیم یا پانی کے ذخیرے پر حملہ کر سکتا ہے جو انڈیا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنا رہا ہے؟

قانونی طور پر، 1949 کے جینیوا کنونشن کے اضافی پروٹوکول کے آرٹیکل 56 کے تحت مسلح تصادم کی صورتوں میں ڈیموں کو تحفظ حاصل ہے، تاہم اس معاملے میں، انڈیا آنے والے سالوں میں پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کے بدنیتی پر مبنی ارادے سے ڈیم بنا رہا ہے۔ اس لحاظ سے، یہ پانی سے خالی سرنگیں اور ڈیم ایک جائز ہدف بن جاتے ہیں۔ لیکن، یہ ایک ایسا سلسلہ وار ردعمل شروع کر سکتا ہے جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ڈیموں کو نشانہ بنائیں گے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک معاملہ ہے کیونکہ جنگیں شاذ و نادر ہی مسائل حل کرتی ہیں۔ انڈیا کو یہ اچھی طرح جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان کے صبر کا امتحان لینا بند کرے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

کچھ ماہرین نے بالکل مختلف رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے غیر منصفانہ ہے (نہ کہ انڈیا کے لیے) اور اس لیے پاکستان کو اس معاہدے سے نکلنے یا اس پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کرنی چاہیے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کو مشرقی دریاؤں سے کوئی پانی نہیں دیتا اور ہڈیارہ اور قصور جیسے نالے انڈیا سے آلودگی پاکستان لاتے ہیں، جس سے اس آلودگی کو ٹھکانے لگانا پاکستان کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

یہ ماہرین مزید دلیل دیتے ہیں کہ پہاڑی علاقے کی رکاوٹوں کی وجہ سے انڈیا زیادہ پانی چرانے کے قابل نہیں ہو گا۔ اگر وہ ایسا کر سکتا تو پچھلے 65 سالوں میں یقیناً کر چکا ہوتا۔ تاہم یہ دلائل غیر آزمودہ مفروضوں پر مبنی ہیں اور خطے کی جیو پولیٹکس (جغرافیائی سیاست) کو مدنظر نہیں رکھتے۔ معاہدے کو معطل کرنے کا انڈیا کا فیصلہ پاکستان کو اس کے پانی کے حصے سے محروم کر کے مجبور کرنے کی غاصبانہ ذہنیت پر مبنی ہے۔

یہ جائزہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہ صورت حال انڈیا اور پاکستان دونوں کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ جغرافیہ انڈیا کو پاکستان کا پانی مکمل طور پر روکنے کی اجازت کبھی نہیں دے گا لیکن وہ پاکستان میں فصلوں کی بوائی کے سیزن کو نقصان پہنچانے کے لیے بہاؤ میں ہیر پھیر کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ اسی ممکنہ صورت حال کے خلاف ایک تحفظ تھا۔ دونوں ممالک کے لیے اس تعطل کو دور کرنے کے لیے ایک مخصوص بیک چینل (پردے کے پیچھے سفارت کاری) قائم کرنا اہم ہوگا۔ انڈیا کو آگ سے نہیں کھیلنا چاہیے اور معاہدے کو بحال کرنا چاہیے۔ اپنی طرف سے، پاکستان کو انڈیا کے خدشات پر بات چیت کرنے اور 1960 کے بعد سے ہونے والی آبادیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر معاہدے میں ایک ضمیمہ شامل کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

پاکستان کو ملنے والے پانی کے زیادہ موثر استعمال پر بھی محنت کرنی چاہیے اور اپنے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا چاہیے۔

(مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں)۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)