بس اور بے بسی

دنیا کے ہر شخص کے بارے میں، میں دعویٰ نہیں کرسکتا برصغیر کے لوگوں کے بارے میں کسی حد تک میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم پیدائشی طور پر بڑی غلط فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔

اگر بات بڑھ جائے تو غلط فہمی کو خوش فہمی سمجھ بیٹھتے ہیں ان لوگوں کی فہرست میں آپ اور میں بھی شامل ہیں۔ انکار کرنے سے کام نہیں چلے گا ۔ میری طرح آپ بھی بڑی غلط فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ بغیر کسی جھجک کے آپ میری طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ ذرا سی مجھے چھوٹ دیجئے پھر دیکھئے کہ میں کیسے کیسے ہوشربا کام آپ کو کرکے دکھا سکتا ہوں۔ میں بغیر ڈور کے پتنگ اڑا سکتا ہوں۔ چاہوں تو بغیر ڈور کے دوسروں کی پتنگ کو کاٹ سکتا ہوں۔ چاہوں تو پیٹرول کے بجائے پانی سے گاڑی یعنی کارچلا کر دکھا سکتا ہوں۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے میرے ہم زاد نے سچ مچ پانی سے موٹر چلا کر سب کو دکھادیا تھا ۔ نامور لوگوں کو پانی سے کار چلا کر سیر سپاٹے کروائے گئے۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ حاکمان وقت کو ہم زاد کے پیٹرول کے بغیر پانی سے کار چلانے کا کارنامہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ سنا ہے کہ ہم زاد کے اس کارنامے سے ملک کے سائنس دان آگ بگولا ہوگئے تھے۔ طیش میں آکر انہوں نے ملک میں تیل اور گیس تلاش کرنے کا کام بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ پیٹرول کے بجائے پانی سے گاڑی چلانے والے ہم زاد کی مجھ سے دعا سلام نہیں تھی۔ وہ نہ مجھے جانتا تھا اور نہ میں اسے جانتا تھا اگر میرے پاس گاڑی ہوتی اور پراسرار ہم زاد پیٹرول کے بجائے میری گاڑی پانی سے چلاتا تو پھر شاید ہماری گاڑھی چھنتی۔ مگر میرے پاس وہ والی گاڑی نہیں ہے جو پیٹرول سے چلتی ہے میری گاڑی مٹی کے تیل یعنی گاسلیٹ سے بھی نہیں چلتی ۔ میری گاڑی کسی قسم کے آبی ذرائع سے نہیں چلتی۔ میری گاڑی دو پہیوں والی ہے مگر موٹرسائیکل نہیں ہے۔ میری گاڑی کا نام ہے سائیکل بغیر پیٹرول بغیر پانی بغیرگاسلیٹ کے چلتی ہے۔ اس لئے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پراسرار ہم زاد نے سچ مچ پیٹرول کے بجائے پانی سے موٹر چلائی تھی۔

آدمی بڑی عجیب و غریب چیز ہے وہ سمجھتا ہے جو چاہے وہ کرسکتا ہے۔ سب کچھ اس کے بس میں ہے وہ کبھی بھی خود کو بے بس محسوس نہیں کرسکتا۔ پیٹرول کیا چیز ہے وہ چاہے تو پھونک سے بھی گاڑی چلا سکتا ہے ۔ ایک سنی سنائی کہانی میں نے آپ کو سنا دی ہے جواخباروں میں شہ سرخیوں کے ساتھ چلی تھی۔ مگر سائنسدانوں کا رویہ مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ پیٹرول کے بجائے پانی سے گاڑی چلانے کی بات سن کر وہ آگ بگولا کیوں ہوگئے تھے؟ وہ کیا اس ایجاد میں پیٹرول کی عظمت ، شان و شوکت کی نفی دیکھتے تھے ؟ میں کسی سائنسدان کو ذاتی طور پر نہیں جانتا اس لئے کچھ کہہ نہیں سکتا ۔

انسان اپنی ذات میں بڑا ضدی ہے ایک بار اگر وہ کچھ کرنے کی ٹھان لےتو پھر وہ اپنا کارنامہ کرکے دکھاتا ہے۔ ایک مرتبہ آدمی نے پرندوں کی طرح اڑنے کی ٹھان لی۔ ضد میں آکر اس نے اپنی جان کی بازی لگا دی ۔ ایک سے ایک جنونی اپنی جان سے ہاتھ دھوتا رہا ۔ اس کی جگہ دوسرا کوئی شخص لے لیتا ۔ شتر مرغ کے پروں کی مدد سے اڑنے کی کوشش کی ہڈی پسلی تڑوا بیٹھا۔ تب اس نے محسوس کیا کہ شتر مرغ اڑ نہیں سکتا ۔ بیشمار لوگوں کے بھینٹ چڑھ جانے کے بعد آخر کار رائٹ برادرز کے نام سے دو لوگوں نے چھوٹا سا ہوائی جہاز بنالیا۔ وہ دن اور آج کا دن آدمی اڑ سکتا ہے وہ دبئی سے نیویارک دس پندرہ گھنٹے کی پرواز کے بعد بخیر و خوبی پہنچ سکتا ہے ۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ تیر کمان سے لے کر میزائل بنانے میں اس نے کمال کر دکھایا ہے۔ کیا کچھ اس نے آج تک ایجاد نہیں کیا ہے؟ مگر ایک فرد کی حیثیت سے وہ ذاتی کامرانی غیر معمولی کارنامے کرنے سے محروم رہا ہے ۔

مثلاً دنیا میں واحد یوسین بولٹ ہے جو آٹھ سیکنڈوں میں ایک سو میٹر دوڑ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو ہر بنی بشر کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ انفرادی کارنامے ہیں ۔ ٹیسٹ میچ میں تین سو رنز بنانے والے بہت سے بیٹسمین دیکھے اور سنے ہوں گے۔ آپ ان میں سر ڈان بریڈمین کا نام شامل کرسکتے ہیں۔ مگر انیس سو اٹھاون میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ساڑ ھے چار دن لگاتار بیٹنگ کرنے والے حنیف محمد جیسا کارنامہ کسی دوسرے کھلاڑی نے کرکے نہیں دکھایا ہے ۔ ہم اپنے ہیروز کو یاد کرتے ہیں ان کے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں مگر ہم بذات خود ان جیسا بن نہیں سکتے ۔ میں صرف کھیل ، کھلاڑی آرٹ اور آرٹسوں کی بات کر رہا ہوں لاکھ کوششوں کے باوجود آپ حنیف محمد نہیں بن سکتے۔ آپ امتیاز احمد جیسا وکٹ کیپر بیٹسمین نہیں بن سکتے ۔آپ فضل محمود نہیں بن سکتے۔

آپ محمد رفیع نہیں بن سکتے، آپ دلیپ کمار نہیں بن سکتے، آپ بہت کچھ نہیں بن سکتے بہت کچھ آپ کے بس میں نہیں ہے… بہت مختصر جو آپ کے بس میں ہے اس پر اکتفا کیجئے!

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)