آبنائے ہرمز سے محصول وصول کرنے کے سوال پر ٹرمپ کا متضاد طرز عمل
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 14 / جولائی / 2026
اندیشہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے تنازعہ پر شروع ہونے والی جھڑپیں ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں طویل اور خطرناک جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ اگرچہ طرفین نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا لیکن ایک دوسرے کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور دھمکی آمیز زبان سے تو یہی لگتا ہے کہ اب ایران یا امریکہ افہام و تفہیم یا پائدار امن قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
اس دوران میں ایران کے 180 ارکانِ پارلیمان نے امریکی حملوں کا جواب دینے کے لیے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ارکان نے ایک خصوصی مذاکراتی کمیشن کی تشکیل، آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق قانون کی منظوری اور مسلح افواج کی مکمل حمایت پر بھی غور کیا گیا۔ واضح رہے ایرانی پارلیمان کے کل 290 ارکان ہیں۔ اس طرح ایوان کے لگ بھگ دو تہائی ارکان نے امن کی بجائے جنگ کا انتخاب کرنے کے حق میں رائے دی ہے۔ ایران کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت مفاہمت کے حق میں ہے جبکہ پاسداران انقلاب جنگ کو کامیابی کا حتمی راستہ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے گزشتہ دنوں ملک کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر ’انتقام‘ کے نعروں کا آغاز کیا گیا۔ بعد میں علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ رہبر اعلیٰ نے اپنے والد کا انتقام لینے کا وعدہ دہرایا۔ ایران کے سرکاری ترجمان اب باقاعدگی سے انتقام کو اپنے مشن کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اس پس منظر میں اگر کچھ لیڈر امریکہ کے ساتھ بدستور مذاکرات کی خواہش رکھتے بھی ہیں تو ان کے اثر و رسوخ میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک بھی کسی حد تک خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ قطر نے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دلانے اور ایران کے منجمد اثاثوں کو واگزار کرانے میں اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن حالیہ جھڑپوں کے دوران ایران نے قطر کے سابق حکمران شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے انتقال کے باوجود قطر پر حملے کیے۔ اس کے بعد دوحہ سے موصول ہونے والی بعض رپورٹوں میں اشارہ دیا گیا ہے کہ قطر اب ثالثی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آج یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد ایک سخت مذمتی بیان میں ان حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اور خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھے گا‘۔
پاکستانی وزیر اعظم کا یہ بیان اگرچہ یمن کے حوثیوں کی مذمت میں جاری ہؤا ہے لیکن اس کے ذریعے تہران پر بھی پاکستانی پوزیشن واضح کردی گئی ہے۔ خطے میں امریکی حملوں کے طول پکڑنے کی صورت میں پاسداران انقلاب پورے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی عرب ملک کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب کو اس حوالے سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر ایران کی طرف سے سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان کے لیے یک طرفہ طور سے ایران کا ساتھ دیتے رہنے اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی کوششوں کو پہلے جیسے جوش و خروش سے جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ نہ جانے ایرانی قیادت کو اس امر کا احساس ہے یانہیں لیکن دنیا میں تیزی سے اس کی حمایت ختم ہورہی ہے۔ آبنائے ہرمز کھلی رکھوانا اگرچہ اس وقت امریکہ کی عزت و وقار کا سوال بنا ہؤا ہے لیکن عالمگیر تسلط سے قطع نظر امریکہ کا اس علاقے یا آبنائے ہرمز سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ اس کے برعکس عرب ملکوں کے علاوہ پوررا یورپ، چین اور بھارت سمیت متعدد ایشائی ممالک اس آبی گزرگاہ سے ہونے والی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکہ اگر اس تنازعہ سے خود کو علیحدہ بھی کرلے تو بھی ایران کے لیے کسی بڑی مزاحمت کے بغیر آبنائے ہرمز پر تسلط برقرار رکھنا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز و ہیجان خیز بیانات بھی صورت حال کو پیچیدہ اور مشکل بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک طرف امریکہ ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو پہلے کی طرح کھلا رکھے اور کوئی محصول وصول نہ کیاجائے تو دوسری طرف ٹرمپ نے خود اعلان کیا کہ وہ اب آبنائے ہرمز پر قبضہ کرکے اسے کھول دیں گے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ان پر لدے اسباب کی قیمت کا 20 فیصد محصول کے طور پر وصول کریں گے۔ تاہم آج انہوں نے یہ محصول واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیڈروں سے بات چیت کے بعد وہ اس اعلان کو واپس لے رہے ہیں۔ اس کے بدلے عرب ممالک سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کی ’اعانت‘ کریں گے۔ امریکی صدر خواہ کبھی بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول نہ کرپاتے لیکن دنیا کی سپر پاور کے سربراہ کی طرف سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس کی سیاسی و سفارتی پوزیشن کو کمزور کرتے ہیں۔ ایسے بیانات سے ٹرمپ کی تاجرانہ و سرمایہ دارانہ ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کا کوئی منصوبہ مکمل طور سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ آبنائے ہرمز مسلمہ عالمی آبی گزرگاہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اعلان کرتے رہے ہیں کہ کسی ملک کو وہاں محصول وصول کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے باوجود ٹرمپ کے اعلان کے بعد صرف چین نے اس آبی راستے کو پر امن اور ہر طرح کی ٹریفک کے لیے کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا لیکن امریکہ کے یورپی حلیف ممالک نے اس امریکی منصوبے کو مسترد کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ حالانکہ فرانس، برطانیہ ، جرمنی سمیت تمام اہم یورپی ملک اس سوال پر ایرانی مؤقف مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی جہاز رانی کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے رہے ہیں۔
امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے یہی متضاد رویے اور دوہرا معیار دنیا بھر میں ان کے اعتبار کو کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں۔ امریکی صدر کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو امریکہ کا ’غلہ‘ بنانے کی خواہش پال رہے ہیں اور کسی سرمایہ دار کی طرح ہر سہولت کا معاوضہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ یوکرین جنگ کے حوالے سے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ یوکرینی صدر کو وائٹ ہاؤس میں بلا کر ان کی توہین کی گئی اور اسی دباؤ میں یوکرینی حکومت کو اپنے منرلز کے بارے میں امریکہ کے ساتھ 500 ارب ڈالر کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ نیٹو میں اپنے دیرینہ حلیف ممالک کے ساتھ بھی وہ حساب کتاب کرنے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ اب آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے وہ عرب ممالک کو ’بلیک میل‘ کرنے کا اعلان کررہے ہیں تاکہ وہ اس دباؤ میں سینکڑوں ارب ڈالر امریکہ میں منصوبوں پرصرف کریں۔
تاہم اس حکمت عملی کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ دعوؤں کے باوجود امریکی بحریہ ابھی تک آبنائے ہرمز پر کوئی ایسا کنٹرول حاصل نہیں کرپائی کہ عالمی بحری ٹریفک ایرانی خطرے یا کسی نقصان کے بغیر وہاں سے گزر سکے۔ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بے حد کم ہوچکی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں وہاں سے صرف چار جہاز گزرے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بلاکیڈ کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں سے ایران جانے اور وہاں سے آنے والے جہازوں کے سوا ہر جہاز اطمینان سے گزر سکتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ کرنے اور معروضی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
یہ دیکھنا تکلیف دہ حد تک دلچسپ ہوگا کہ امریکہ اور ایران اس آبی گزرگاہ پر کامل قبضہ کے حوالے سے اپنے دعوؤں پر کیسے پورا اترتے ہیں۔ البتہ اس دوران مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس بار اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔