آزاد کشمیر میں لانگ مارچ کی کوشش، جھڑپوں میں مزید 10 ہلاکتیں
کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔ حکام کے مطابق مارچ سے قبل منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں دو اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تنظیم نے بدھ کی دوپہرراولاکوٹ سے مظفر آباد کے لیے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے اور حکام کے مطابق اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر پہنچ چکے ہیں۔ کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کو راولاکوٹ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شہر کو سِیل کر دیا گیا ہے اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وہاں تعینات ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس وقت راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر مظاہرین کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو کے درمیان ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کورکمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت تک دریک میں جاری دھرنے میں 40 ہزار کے قریب افراد پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید لوگ بھی دھرنے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے روالاکوٹ میں داخلے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کی ہوئی جس کے وجہ سے شہر کی صورتحال اور دھرنے کے شرکا کی تعداد کے بارے میں دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جن مطالبات کی منظوری کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے ان میں پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص اسمبلی نشستوں اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے، وزرا اور سیاسی تقرریوں میں کمی اور سرکاری وسائل کے کفایتی استعمال جیسے معاملات شامل ہیں۔
پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز راولاکوٹ اور سدنوتی کے مقام پر دو مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ شہریوں کے علاوہ رینجرز اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا ایک، ایک اہلکار بھی شامل ہے.
سدنوتی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ساڑھے چار سو کے قریب رینجرز کے اہلکار ایک قافلے کی صورت میں راولاکوٹ آ رہے تھے کہ بلوچ بیٹھک کے قریب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے قافلے کا راستہ روک کر ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی جانب سے قافلے پر فائرنگ بھی کی گئی اور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سات مظاہرین ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق مظاہرین اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کا دوسرا واقعہ راولاکوٹ میں پیش آیا جہاں حکام کے مطابق راستہ کھلوانے کے لیے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کارروائی کی تو مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن بھی مارا گیا۔