گھمبیر تر ہوتے ایران امریکہ معاملات
- تحریر نصرت جاوید
- بدھ 15 / جولائی / 2026
دل خوش فہم کو یقین تھا کہ امریکہ اور ایران جان چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو پچھاڑ نہیں سکتے۔ مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کی تلاش ہی واحد راستہ بچا ہے۔ وسوسوں بھرا ذہن مگر اس سوچ پر سوال اٹھاتا رہا۔ پیشہ وارانہ فرائض نبھانے کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے چند سفر ان سوالات کو منطقی بنیادیں بھی فراہم کرتے رہے۔
میرے نہایت قابل احترام دوستوں کی اکثریت تاہم مصر رہی کہ بالآخر معاشی مفادات اور مجبوریاں ہی فریقین کو اپنی تاریخی عصبیت بھلاکر کسی نہ کسی نوعیت کے سمجھوتے کو مجبور کردیں گی اور میرے پاس ان کے تجزیے جھٹلانے کو ٹھوس دلائل میسر نہیں تھے۔امریکہ کے ساتھ پاکستان،قطر اور چند بردار ممالک کی معاونت سے سوئٹزرلینڈ میں تیار ہوئی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران نے میرے دوستوں کو درست ثابت کردیا۔ مذکورہ یادداشت کی بدولت ایران پر 47 برس سے نافد ہوئی اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کا آغاز نظر آیا۔ امریکہ نے اس کی بحری ناکہ بندی ختم کردی۔ اسے عالمی منڈی میں اپنا تیل اور گیس فروخت کرنے کی مہلت بھی میسر ہوگئی۔ امید تھی کہ مذاکراتی عمل بالآخر ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنادے گا۔ عالمی منڈی میں خلیجی ممالک کے علاوہ ایران کا تیل اور گیس بھی بکنا شروع ہوجائیں گے۔ قدرتی وسائل کی بازار میں فراوانی مسابقت کی دوڑ کی بدولت تیل اور گیس کی قیمتوں کو پاکستان جیسے غریب ممالک کے لئے قابل برداشت بنا دے گی اور یوں ہمارے ہاں کئی برسوں سے مسلط ہوئی مہنگائی اور کسادبازاری کا خاتمہ ہوگا۔
خود پر ہوئے حملے سے جانبر ہونے کی وجہ سے ایران نے مگر دریافت یہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کامل کنٹرول اسے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی صف میں کھڑاکرسکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت کی شق(5) اس کی دانست میں ایران کی آبنائے ہرمز پر برتری تسلیم کرتی نظر آئی۔ غالباًاسی باعث مذکورہ شق نے ایران کو یہ حق دیا کہ وہ ٹول ٹیکس نما راہداری وصول کئے بغیر کم از کم ایک ماہ کے لئے آبنائے ہرمز کے ان حصوں سے جہازوں کی نقل وحرکت یقینی بنائے گا جو اس کے ساحلوں کو چھوتی ہیں۔اپنے تئیں ایران کی آبنائے ہرمز کی گزرگاہ سے ہوئی تجارت پر اپنا اجارہ سوئٹزرلینڈ میں تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے ذریعے تسلیم کروالینے کے بعد 28 فروری اور یکم مارچ کی درمیانی رات اسرائیلی اور امریکی حملے سے شہید ہوئے رہبراعلیٰ کی چار ماہ کے طویل وقفے کے بعد تدفین کا فیصلہ ہوا۔ تدفین کے مراحل سات روز تک پھیلادئے گئے۔ ان کے دوران رہبر اعلیٰ کے تابوت کو تہران سے قم اور وہاں سے عراق کے نجف اور کربلا لے جانے کے بعد بالآخر ایران کے روحانی مرکز مشہد پہنچایا گیا۔ سات روز تک پھیلے اس سفر کے دوران سوگواران کے ہجوم انتقام کا مطالبہ کرتے رہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل سے مفاہمت کے بجائے خون کا بدلہ خون سے لینے کے متقاضی سنائی دئے۔ ہمارے عجلت پسند دوست مگر پر اعتماد رہے کہ جذباتی فضا میں بلند ہوتے نعرے چند دنوں بعد اپنا اثر کھودیں گے۔
سات دنوں تک پھیلی رسوماتِ تدفین کے دوران امریکہ بین الاقوامی تیل بردار کمپنیوں کو اکساتا رہا کہ آبنائے ہرمز سے ایران کی فراہم کردہ گزرگاہ کے بجائے ان کے جہاز اومان کے ساحلوں کو چھوتے جنوبی راستوں سے گزریں۔ ان راستوں کو مگر قطر اور سعودی عرب کے فراہم کردہ تیل اور گیس بحر ہند کے پانیوں تک لے جانے کے لئے استعمال کیا گیا تو ایران نے ان پر ڈرون اور میزائل حملے شروع کردئے۔ آبنائے ہرمز پر اپنا کامل کنٹرول بھلانے کو ایک لمحے کو بھی آمادہ نہ ہوا۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا حق ملکیت یاد دلانے کے لئے جو جارحانہ رویہ اختیار کیا اس نے امریکہ کو بھی یاد دلایا کہ بحرہند کے پانیوں کے ذریعے ہوئی تجارت کا وہ1947کے بعد سے حتمی اجارہ دار اور ضامن رہا ہے اور اس سے قبل برطانوی سامراج کو یہ اختیار کم از کم دوسو برس تک میسر رہا تھا۔ اس نے ایران کو ’’سبق سکھانے‘‘ کے لئے فضائی حملے شروع کئے تو ایران نے ایک نہیں کئی خلیجی ممالک بلکہ اردن تک بھی اپنے میزائل اچھالنا شروع کردئیے۔ سوئٹزرلینڈ میں تیار ہوئے مفاہمتی معاہدے کے ساتھ اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوگئے والا معاملہ ہوگیا۔
پیر 13جولائی کو مگر جنگ کا دائرہ مزید پھیل گیا۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری تقسیم اور خانہ جنگی جسے ہم بھول چکے تھے ایک بار پھر نمودار ہوگئی ہے۔ اس ملک کی اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ حکومت کو حوثی باغیوں نے جنوبی یمن دھکیل کر وہیں تک محدود کررکھا ہے۔ شمالی یمن اور اس کا ڈھائی ہزار سال سے آباد دارلحکومت صنعا شہر بھی حوثیوں کے قبضے میں ہے۔ حوثی ایران کے قریبی حلیف ہیں۔ ان کی بنائی حکومت کا ایک وفد رہبر اعلیٰ کی تدفین میں شرکت کے لئے مشہد گیا تھا۔ وہاں سے اسے ایران کے فراہم کردہ طیارے کے ذریعے صنعا لوٹنا تھا۔ جنوبی یمن میں قائم حکومت نے مگر صنعا ایئرپورٹ پر میزائل اچھالتے ہوئے اسے ناقابل استعمال بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایران نے اس فیصلے کا سعودی عرب کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کی جنوبی یمن کے قریب واقع فوجی تنصیبات پر میزائل گرانا شروع کردئے۔ خلیج میں جنگ گویا اب ایران ا ور امریکہ تک ہی محدود نہیں رہی ہے۔ سعودی عرب اور ایران بھی خم ٹھونک کر میدانِ جنگ میں اتر آئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران سعودی عرب نے خاموشی سے دنیا کو تیل کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں پر انحصار شروع کردیا تھا۔ پائپ لائنوں کے ذریعے اپنا 70فیصد تیل وہ یعنوب شہر پہنچا کر بحری جہازوں کو منتقل کرناشروع ہوگیا۔ اس شہر کی بندرگاہ سے نکلے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحر ہند کے پانیوں میں رواں رہتے ہیں۔ بحر ہند تک رسائی کے لئے مگر یمن کے باب المندب سے گزرنا ضروری ہے جو اکثر حوثیوں کی جانب سے اچھالے میزائلوں کی زد میں رہا ہے۔ حوثیوں کے خلیجی جنگ میں متحرک ہوجانے کے بعد عالمی منڈیوں تک سعودی تیل اور گیس کی فراہمی دشوار تر ہوجائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لئے تیل کی قیمتیں اب قابل برداشت نہ رہ پائیں گی۔ معاملات دل خوش فہم کی توقعات کے قطعاً برعکس گھمبیر سے گھمبیر تر ہورہے ہیں اور وسوسوں بھرے دل کو تسلی دینے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)