نہیں مولانا صاحب نہیں

جوشِ خطابت میں جب ہوشِ خطابت نہ رہے تو ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو اپنے ہی موقف کے ضرب کاری اور دوسروں کے لئے دلآزاری کا باعث بنتی ہیں ۔اور جب ایسی بات ایک منجھے ہوئے خطیب یا مقرر کی زبان سے نکلے تو زیادہ حیرت ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن سے بھی ایک ایسی ہی بات سر زد ہو گئی ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں من و عن تسلیم نہیں کی جاتی چہ جائیکہ ایک اسلامی ملک میں کہ جہاں فلسفہ   شہادت باقاعدہ ایک ایمان کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔مولانا نام لئے بغیر فوج پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ اگر فوج کے افسر و جوان شہید ہوتے ہیں تو ہم پر کیا احسان ہے، ا نہیں تو تنخواہ ہی ملک کے لئے لڑنے کی ملتی ہے۔یقیناً  فوج کا کام ملک کی حفاظت کرنا اور اُس کے دفاع کی خاطر لڑنا ہوتا ہے مگر جب کوئی فوجی اس لڑائی میں شہید ہوتا ہے تو اُس کی قربانی کو اعلیٰ قربانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ کبھی نہیں کہا جاتا  کہ تنخواہ اسی بات کی ملتی تھی اس لئے شہید ہو گیا ہے تو کوئی بڑی بات نہیں۔

دنیا کی کسی فوج میں بھرتی کے لئے جو اشتہار دیا جاتا ہے اُس میں کہیں یہ نہیں لکھا ہوتا کہ اگر آپ اتنی تنخواہ کے لئے اپنی جان قربان کرنا چاہتے ہیں تو فوج میں شامل ہو جائیں۔یہ فوجیوں اور جانثاروں کا جذبہ ہوتا ہے جو انہیں ایسے وقت میں کہ جب وطن کی حفاظت کے لئے دشمن کا سامنا ہو لڑتے ہوئے جان قربان کرنے پر اُکساتا  ہے۔ دنیا میں ایسی کون سی تنخواہ ہے جو جان جیسی انمول شے کو خرید سکے۔ مولانا فضل الرحمن غالباً دیپالپور کے جلسے میں کافی حد تک جذبات میں بہہ گئے۔ یہ دلیل وہ نہ بھی دیتے تو اُن کی کئی باتوں میں اتنا وزن موجود ہے کہ انہیں توجہ سے سنا جاتا۔ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اِس وقت ملک کے حالات پر افسردہ ہیں۔ہر طرف ایک شورش کی آوازیں ہیں،بلوچستان تو بالکل ایک سرزمین بے آئین اور گورننس سے محروم صوبہ بنتا جا رہا ہے۔ آئے روز کے واقعات اور حکومتی رٹ کا فقدان بڑے بڑے سوالات کو جنم دے  رہے ہیں۔روایتی بیانات سے اس آگ پر ہم کیسے قابو پا سکتے ہیں۔

وہاں سب سے بڑا خلا سیاسی قوتوں کی عدم فعالیت ہے یا انہیں عدم فعال کر دیا گیا ہے۔ٹھیک ہے وہاں بیرونی مداخلت بھی ہے،بھارت بھی اپنی شرپسندی جاری  رکھے ہوئے ہے۔گمراہ گروپوں نے بھی محاذ کھڑا کیا ہوا ہے،مگر سوال یہ ہے کہ ریاست نے یہ کیوں سوچ لیا ہے ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنا ہے۔ ٹھیک ہے آپ طاقت کے ذریعے ضرور حل کریں لیکن اس کے لئے بلوچستان کی سیاسی قوتوں کو تو ساتھ ملائیں۔انہیں تو اعتماد میں لیں۔ اگر سیاسی قوتیں بھی ساتھ نہ ہوں،عوام بھی بے اعتمادی کا شکار ہو جائیں تو پھر صرف طاقت کیسے کام آئے گی۔مولانا اگر اِس حوالے سے بات کرتے ہیں تو اُن کی بات کو سنا  جانا چاہئے،بلکہ اُن کے ذریعے کسی سیاسی مکالمے کو آگے بڑھانے کی راہ نکالنی چاہئے۔

مولانا فضل الرحمن نے خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ہمارے ایک دوست سینئر صحافی ظفیر آہیر نے اس حوالے سے بڑے عمدہ انداز میں چند گزارشات کی ہیں وہ لکھتے ہیں ”دو ایک دن قبل کی گئی اُن کی تقریر کے ایک بڑے حصے سے مجھے اتفاق ہے۔ مثلاً یہ کہ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے یا یہ کہ ہمیں دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری دلچسپی لینے کی بجائے اپنے ملک کے مسائل پر  توجہ دینی چاہئے۔اس طرح اُن کی یہ بات کہ اقتدار کس کے پاس  ہو گا اور کس کے پاس نہیں،اس کا فیصلہ صرف عوام کا حق ہے۔البتہ مولانا نے یہ بات کہہ کر  زیادتی کی ہے کہ پاک فوج کے جوان صرف تنخواہ کے لئے جانیں دے رہے ہیں ۔اس لئے میری مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ وہ ایسی بات نہ کہیں۔اُن جیسی صاحب ِ فہم شخصیت کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بات جذبات میں آ کر کہی گئی ہو گی۔ میری مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر دوبارہ غور کریں، کیونکہ اس سے اُن لاکھوں خاندانوں کی دلآزاری ہوئی ہے جن کے جوان بیٹے اور بھائی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔آخر میں میری گزارش طاقت کے مراکز سے بھی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو ناراض نہ کریں، جس کا جو حق بنتا ہے اُسے دیا جائے،اختلافات کو بڑھانے کی بجائے انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جائے“۔

بعض لوگوں کا خیال ہے مولانا فضل الرحمن کو اس موجودہ رجیم میں مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔اُن کی خیبرپختونخوا کی گورنری پر نظر تھی، وہ انہیں نہ دی گئی۔ طاقت کے مراکز جن کے وہ ہمیشہ منظورِ نظر  رہے،اب اُن کی طرف توجہ نہیں دے رہے جبکہ تحریک انصاف والے بھی اُن کے سخت ناقد ہیں، کیونکہ مولانا فضل الرحمن نے ہر مشکل وقت میں اس حکومتی سیٹ اَپ کا ساتھ دیا ہے۔ آئینی ترامیم کے سلسلے میں مکمل سپورٹ فراہم کی۔حکومت بنوانے میں بھی ان کا مکمل ہاتھ تھا۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں ایک انتشار موجود ہے، معیشت بیٹھ رہی ہے اور حالات کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ کی بجائے طاقت کو استعمال کیا جا رہا ہے تو اس میں ایک ایسا تضاد ہے جو اُن کے موقف کو کمزور کر دیتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن شاید سمجھتے ہیں کہ فوجی قیادت پر دباؤ بڑھائیں گے تو اُن کی طرف توجہ دی جائے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُن کے اسٹیبلشمنٹ سے مضبوط روابط رہے ہیں۔ کئی مشکل ادوار میں انہوں نے ریسکیو کرنے والی طاقت کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ میرا خیال ہے وہ کسی اضطرابی کیفیت میں آ کر اپنا پیمانہ صبر لبریز کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ خطاب میں عمومی طورپر جو باتیں کی ہیں وہ غلط نہیں مگر اُن کی وہ سب باتیں پیچھے چلی گئی ہیں اور تنخواہ لے کر جانیں دینے کی بات نمایاں ہو گئی ہے۔ میرے نزدیک انہوں نے یہ بات کر کے خود ہی اپنے مخاطب کو بریت کا پروانہ بھی جاری کر دیا ہے۔

پاکستان میں فوج ملکی معاملات میں کردار کا کوئی بڑے سے بڑا ناقد بھی یہ بات نہیں کہے گا کہ فوجی ترجمان کی اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ فوج کے افسر وجوان وطن کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں۔جانیں قربان کرنے کی تو انہیں تنخواہ ملتی ہے، نہیں مولانا صاحب نہیں یہ شہدا ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں اور انہوں نے جانیں وطن کی حفاظت کے عظیم نصب العین کی خاطر دی ہیں۔ہم  چاہیں بھی تو اُن کی قربانی کا قرض نہیں چکا سکتے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)