مزید کچھ فتاویٰ کی درخواست ہے

کرپٹو کرنسی کے خلاف مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ پڑھا، دل باغ باغ ہو گیا۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ لب لباب فتوے کا یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ’دولت‘ نہیں ہے بلکہ یہ محض کمپیوٹر پر لکھے چند حروف ہیں۔ لہذا اگر ان کے عوض کوئی چیز خریدی جاوے گی تو وہ آپ کی نہ ہووے گی، حرام ہوگی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ اگر کمپیوٹر اسکرین پر نظر آنے والے چند فرضی نمبر حرام ہو سکتے ہیں تو ہمارے اردگرد جو گوشت پوست کے انسان، جیتے جاگتے بچے اور عورتیں نظر آ رہی ہیں، ان کے حقوق پامال کرنے والے فرضی خداؤں کے خلاف فتوے کیوں نہ دیے جائیں؟ چونکہ بندہ بھی ایک چھوٹا موٹا سا مولوی ہے اِس لیے مفتی صاحب کے تازہ فتوے سے حوصلہ پا کر میں نے سوچا ہے کہ کچھ فتوے صادر فرما دوں۔ شاید میری آخرت سنور جائے۔

پہلا فتویٰ ضبطِ تولید اور آبادی پر قابو پانے کے بارے میں ہے۔ جس طرح مولانا ظفر علی خان کو زعم تھا کہ ’زمیندار‘ کے اداریے پڑھ کر تاج برطانیہ اپنی پالیسیاں بناتی ہے، اسی طرح مجھے بھی یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ فدوی کے کالموں کی روشنی میں حکومتی فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں اِس خاکسار نے بڑھتی ہوئی آبادی پر دو چار کالم کیا لکھ مارے، حکومت کو اِس مسئلے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانی پڑ گئی۔ اچھی بات ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔

اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔ اِن حالات میں میرا فتویٰ یہ ہے کہ پاپولیشن کنٹرول نہ صرف جائز ہے بلکہ عین شرعی ہے۔ قرآن کہتا ہے ”کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے“ (البقرہ: 233 ) ۔ جب ایک باپ کے پاس چار بچوں کو کھلانے کی سکت نہیں ہے تو وہ پانچواں بچہ پیدا کر کے اس آیت کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔ فقہِ کا ایک مسلمہ اصول ہے : ”لا ضرر ولا ضرار“ (نہ خود نقصان اٹھاؤ، نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ) ۔ کیا ایک غریب ملک میں بچوں کی فوج ظفر موج پیدا کر کے انہیں سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دینا معاشرے کو نقصان پہنچانا نہیں ہے؟ جو بچہ ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں، کیونکہ آپ نے مانع حمل

طریقے استعمال کر لیے، وہاں کون سے اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہوئی؟ کیا آپ نے کسی زندہ نفس کو قتل کیا؟ اور مانع حمل کے طریقے تو چودہ سو سال پہلے کی اسلامی روایت میں بھی ملتے ہیں تو آج کے دور میں یہ فتویٰ کیوں نہیں دیا جا سکتا کہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنا قومی جرم اور شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے؟

دوسرا فتویٰ۔ آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والی خبریں آتی ہیں کہ فلاں مدرسے کے ناظم یا قاری صاحب نے معصوم بچے کے ساتھ بدفعلی کی۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں ان کے غریب والدین خدا کا دین سیکھنے کے لیے ان مولویوں کے پاس بھیجتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اُس وقت نہ کسی کو اسلامی احکامات یاد آتے ہیں اور نہ شرعی سزائیں۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ مدارس یا کسی بھی تعلیمی ادارے میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص ’محارب‘ یعنی زمین پر فساد پھیلانے والا ہے اور اسلامی شریعت کی رُو سے اس کی سزا موت یا سنگسار ہونا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے : ”ان کی بھی یہی سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں۔“ (المائدہ: 33 ) ۔ معصوم بچوں کو دین کی تعلیم کے بہانے بلا کر، ان کی بے بسی کا فائدہ اٹھانا، فساد فی الارض سے کم نہیں۔ فقہِ مالکی اور بعض دیگر فقہا کے نزدیک، ’حرابہ‘ کا قانون صرف ڈاکوؤں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ ہر اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو دھوکے یا طاقت کے زور پر کسی کی جان، مال یا عزت پر حملہ کرے۔ حیرت کی بات ہے کہ کرپٹو کرنسی کے غائبانہ ہونے پر تو فتویٰ آ گیا ہے لیکن جو قاری صاحبان بچوں کا بچپن ہی چھین لیتے ہیں، ان کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں آتا۔

تیسرا فتویٰ۔ پاکستان میں انصاف کا جنازہ جس قانون نے سب سے زیادہ دھوم دھام سے نکالا ہے، وہ ہے قصاص اور دیت کا قانون۔ کہنے کو تو یہ اسلامی قانون ہے، لیکن اس کا جو اطلاق ہمارے ہاں ہو رہا ہے وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے لیے ’لائسنس ٹو کِل‘ بن چکا ہے۔ شاہ رخ جتوئی کیس، ریمنڈ ڈیوس کیس، اور ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں مقتولین کے غریب ورثا کو پیسے کی چمک دکھائی گئی یا بندوق کی نوک پر ڈرایا گیا اور عدالت میں انہوں نے بیان دے دیا کہ ہم نے اللہ کی رضا کے لیے قاتل کو معاف کیا۔ فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی با اثر یا عادی قاتل پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر مقتول کے خاندان سے معافی حاصل کرتا ہے تو ریاست شرعی طور پر پابند ہے کہ وہ تعزیر کے تحت اس قاتل کو معاف نہ کرے بلکہ اسے پھانسی کی سزا دے۔

اسلامی فقہ کا یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ قصاص صرف حق العباد (بندوں کا حق) نہیں ہے بلکہ اس میں حقِ اللہ (معاشرے کا امن) بھی شامل ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کے اصولوں کے مطابق، اگر کوئی شخص معاشرے کے لیے ناسور بن چکا ہو، یا اس کا قتل عام شہریوں کے امن کو غارت کرنے والا ہو، تو حاکمِ وقت (ریاست) کو یہ پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ مقتول کے ورثا کی معافی کے باوجود قاتل کو ”سیاستِ شرعیہ“ کے تحت قتل یا قیدِ دوام کی سزا دے۔ قرآنِ پاک کہتا ہے : ”اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، اے عقل والو۔“ (البقرہ: 179 ) ۔ قصاص کا مقصد زندگی دینا ہے، قاتلوں کو تحفظ دینا نہیں۔ اگر ایک امیر آدمی قتل کر کے پیسے کے زور پر چھوٹ جاتا ہے تو معاشرے میں زندگی نہیں بلکہ موت پھیلتی ہے۔ فقہِ اسلامی کی رو سے، اگر کوئی قتل ’غیلہ‘ (دھوکے یا دہشت گردی کا قتل) ہو تو اس میں تو ورثاءکو معافی کا حق ہی حاصل نہیں ہوتا۔

چوتھا فتویٰ۔ ہمارے معاشرے کی منافقت کی سب سے بڑی مثال عورتوں کی وراثت ہے۔ جب کسی لبرل عورت کے لباس پر بات کرنی ہو، تو ہمارے غیرت مند بھائی فوراً اسلام کا پرچم لہرانے لگتے ہیں۔ لیکن جب اسی بہن یا بیٹی کو باپ کی جائیداد میں سے حصہ دینے کا وقت آتا ہے، تو ان کی ساری اسلامی غیرت ہوا ہو جاتی ہے۔ جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے انہیں یہ کہہ کر جذباتی طور پر بلیک میل کیا جاتا ہے کہ ”کیا تم بھائیوں سے جائیداد چھینو گی؟ پھر میکے کے دروازے تمہارے لیے بند ہو جائیں گے“ ۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ جو بھائی اپنی بہن کا وراثت کا شرعی حصہ مارتا ہے، اس کا نکاح، اس کی نمازیں، اس کا حج اور اس کی زکٰوۃ کسی کام کی نہیں، اور وہ شرعی طور پر ’غاصب‘ اور دوزخی ہے۔ قرآنِ مجید نے وراثت کے احکامات جتنی تفصیل اور سختی سے بیان کیے ہیں، اتنی تفصیل سے تو نماز کا طریقہ بھی بیان نہیں کیا۔ سورہ النسا میں جائیداد کے حصے مقرر کرنے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا۔“ (النسا: 13)۔  اور اس کے فوراً بعد اگلی ہی آیت میں فرمایا: ”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے گا، وہ اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔“ (النسا: 14 ) ۔ عورت کا حصہ مارنا اللہ کی حدود کو توڑنا ہے جس کی سزا ہمیشہ کی جہنم ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین پر بھی ناجائز قبضہ کیا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔“ جس ملک میں بہنوں اور بیٹیوں کا حصہ مارا جاتا ہو، وہاں کے علما اس ظلم کے خلاف جمعے کے خطبات کیوں نہیں دیتے؟ جائیداد غصب کرنے والے ان بھائیوں کے سماجی بائیکاٹ کا فتویٰ کیوں نہیں آتا؟ کرپٹو کرنسی تو ایک فرضی چیز ہے، اس سے کسی غریب کا چولہا نہیں بجھتا، لیکن عورت کی وراثت پر قبضہ کرنے سے خاندان کے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔

ہمیں ایسے فتووں کی ضرورت ہے جو ہماری اخلاقیات کو زندہ کریں، نہ کہ ایسے فتووں کی جو ہمیں ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مزید پیچھے دھکیل دیں۔ شریعت انسانوں کو سہولت دینے کے لیے آئی تھی، ان کی زندگیوں کو عقوبت خانہ بنانے کے لیے نہیں۔ و ما علینا الا البلاغ۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)