ولایت فقیہ کا جنازہ اور ٹرمپ
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 15 / جولائی / 2026
ولایت فقیہ کی گدی پر براجمان سابق ایرانی سپریم لیڈر یا رہبر آیت اللہ سید علی خامنائی کی نماز جنازہ تہران، قم، کربلا اور نجف اشرف کے بعد مشہد مقدس میں ادا کر دی گئی ہے۔ شیعہ بارہ آئمہ میں سے ایک حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے احاطہ مزار میں ان کی تدفین بھی ہو گئی ہے۔
کربلا و نجف اشرف کے حوالے سے تو سب کو معلوم ہے کہ سرزمین عراق میں شیعان علی کے نزدیک دونوں کتنے مقدس مقامات ہیں، جہاں سیدنا امام حسین علیہ السلام اور سیدنا علی علیہ السلام کے مزارات ہیں۔ جبکہ ایران میں مشہد مقدس کے بعد قم کو بھی اس حوالے سے دوسری خصوصی حیثیت حاصل ہے کہ یہاں بی بی معصومہ کا مزار مبارک ہے۔ یہ بشمول امام خمینی آیت اللہ صاحبان کی علمی آماجگاہ یا حوضہ علمی ہے۔ ان تمام مقدس مقامات پر بلا شبہ لاکھوں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، بالخصوص تہران میں تو یہ ہجوم میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔
دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص سنی اقوام اور اہل مغرب کے لیے اتنا بڑا عوامی سوگ اور گریہ و ماتم، وہ بھی کسی کی وفات کے پورے چار مہینوں بعد، باعث حیرت تھا۔ شاید اسی لیے امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ نے ان لوگوں کو اپنے محبوب لیڈر کے لیے روتے دیکھ کر کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ڈکٹیٹر کی موت کے سو دن بعد بھی لوگ سچ مچ اس کے لیے رو رہے ہوں۔ مسخرے صدر کو اس مذہبی تقدس کا اندازہ نہیں جو شیعہ مومنین اپنی مذہبی قیادتوں سے رکھتے ہیں، ورنہ وہ ہرگز یہ نہ کہتا کہ یہ سب جعلی مناظر ہیں یا یہ لوگ اصلی نہیں نقلی رو رہے ہیں۔ کاش اسے کوئی بتلائے کہ شیعان مولا علی تو چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی خاندان نبوت کے قتل و خون ریزی کو نہیں بھولے ہیں اور اولاد علی کو لگنے والے زخم آج بھی ان کے سینوں میں تازہ بہ تازہ ہیں۔ جسے شک ہے وہ آج بھی کربلا معلا میں عاشورہ محرم کے ماتم کا نظارہ کر لے بلکہ پوری دنیا میں یہ ماتم ہوتا دیکھ لے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی یہ کتنی بری حرکت ہے کہ وہ جنازے اور تدفین کے موقع پر بھی اپنی منفی ذہنیت سے باز نہیں آیا اور اس نوع کا بیان دے دیا کہ ہم کتنے اچھے لوگ ہیں کہ ہم نے اپنی دشمن ایرانی رجیم کو جنازے اور سوگ کے لیے ہفتے بھر کا ٹائم دیا ہے۔ ورنہ ہم چاہتے تو اس پر حملہ کر سکتے تھے۔ درویش کی نظر میں یہ پینتیس کروڑ امریکی عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ ٹرمپ کی وہ نیگٹیو ذہنیت بول رہی ہے جس کے مظاہر وہ ایپسٹین سکینڈل کی صورت دبائے یا چھپائے بیٹھا ہے۔
آپ پہلے امریکی پریذیڈنٹ جارج واشنگٹن سے شروع ہو جائیں، جیفرسن، ابراہم لنکن سے ہوتے ہوئے کارٹر، ریگن، کلنٹن، اوباما اور کمزور ترین پریزیڈنٹ بائیڈن تک آ جائیں۔ کہیں کوئی ایک بھی ایسی گری اپروچ نہیں ملے گی، جس کا مظاہرہ پوری دنیا آج ٹرمپ کی صورت ملاحظہ کر رہی ہے۔ یہ کیا زبان ہے کہ میں آپ کی صدیوں پرانی ایرانی تہذیب مٹا دوں گا؟ میں ایرانی پل اور انفرسٹرکچر اڑا دوں گا؟ کیوں بھائی؟ آپ کو اس کا حق کس نے دیا ہے کہ آپ سیولین انفراسٹرکچر پر حملہ کریں؟ کیا امریکی آئین و قانون آپ کو ایسی بات کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے؟ کیا جنیوا کنونشنز میں طےشدہ جنگی ضوابط آپ کو کسی بھی ایسی حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ امریکی آئین جس عظمت کا دنیا بھر میں علمبردار ہے، یو این ہیومن رائٹس چارٹر کا اصل منبع و سرچشمہ خود امریکا اور اس کے مدبر صدور و قائدین رہے ہیں۔ کیا آپ نے عظمت کے اس امریکی ورثے کو کبھی ایک نظر پڑھا بھی ہے؟
آپ کس منہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں مجتبی خامنائی کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کرنا چاہتا ہوں؟ کس برتے پر؟ آپ کے بقول اگر اس کے مرحوم باپ نے خطے میں ٹیررازم کو پرموٹ کیا تھا تو بھی معاملہ اس کی ذات تک رکھتے، مجتبی کی ماں کا قصور کیا تھا؟ علی خامنائی کی بیوی، بہو اور چودہ ماہ کی پوتی کا کیا قصور تھا؟ اسکول کی جو 160 معصوم بچیاں دوران جنگ تمہاری جنونیت کی بھینٹ چڑھی ہیں، ان پر جنیوا کنونشنز کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ ان تمام گھناؤنے جنگی جرائم کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا انہیں وجوہ سے امریکی عوام میں آپ کی قبولیت کم ترین سطح تک نہیں گر چکی ہے؟ آپ کے تمام مغربی اتحادی کیا آپ سے منہ نہیں موڑ چکے ہیں؟ آپ مشرقی ہی نہیں مغربی تہذیب کے بھی مجرم ہیں؟
درویش کو تو حیرت ان معززین پر ہے جو انسانیت کے خلاف تمہارے ان تمام جرائم کے باوجود، تمہیں نوبل امن انعام کا حقدار گردانتے ہوئے دو بار تمہاری نامزدگی کر چکے ہیں۔ آخر کس برتے پر؟ دوسری طرف وہ نہ صرف یہ کہ علی خامنائی کے جنازے میں ہاتھ اٹھائے دعائیں مانگتے اور عظمت و شان بیان کرتے پائے گئے ہیں، انہیں عظیم شہید قرار دے رہے ہیں۔ دیانتداری سے دیکھیں تو کیا یہ کربلائی مناظر نہیں ہیں کہ قاتل کے بھی ساتھ کھڑے ہیں اور مقتول کی ہمدردی میں بھی گھل رہے ہیں؟ (جاری)