سب دیہاڑی لگا رہے ہیں
- تحریر خالد مسعود خان
- جمعرات 16 / جولائی / 2026
اپنی مرضی اور آزادی سے لکھنے اور اس کے چھپنے کے درمیان ڈر نہیں دیگرمجبوریاں حائل ہیں۔ جب توجہ ،کیا بات لکھنی ہے سے زیادہ اس بات پر ہو کہ کیا نہیں لکھنا تو بھلا پھر لکھنے کا خاک مزہ رہ جاتا ہے۔
سو یہ مسافر جب کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا کی دہری مشقت سے تنگ آجاتا ہے تو پھر ان موضوعات پر لکھنا شروع کر دیتا ہے جس میں سوچ کا پنچھی لامتناہی پرواز کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ جانور، درخت، جنگل،قدرت کی صناعی، مظاہرِ فطرت اور کھو جانے والی چیزوں کا ’پِٹ سیاپا‘ اس مسافر کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ آپ کہیں گے ان جنگلوں، پرندوں، جانوروں اور رب کی حسین دنیا کے بارے لکھتے لکھتے درمیان میں یہ بے جوڑ ’پِٹ سیاپا‘ کیسے آ سکتا ہے ؟ یہ تو مخمل میں ٹاٹ کے پیوند سے بھی زیادہ بدنما جوڑ ہے۔ لیکن مسافر کیا کرے ۔
یہ بات درست ہے کہ کھو جانے والی چیز کا خواہ دیر سے ہی سہی، بالآخر صبر آ جاتا ہے لیکن جب وہی کھوئی ہوئی چیز بار بار، گھڑی گھڑی آپ کے سامنے آ جائے تو بھلا صبر تا دیر کیسے قائم رہ سکتا ہے ؟ اب دنیا دیکھنے کا شوقین یہ مسافر دورانِ سفر اپنی آنکھیں اور دل و دماغ کی کھڑکیاں بند تو نہیں رکھ سکتا۔ سو اپنی کھوئی ہوئی میراث کو دیکھتا ہے تو اس کے دل سے ہوک اٹھتی ہے اور پھر قلم اسے لفظ و حرف کا قالب عطا کرنے چل پڑتا ہے۔ ایک دوست کا ملتان سے فون آیا تو پوچھنے لگا کہ گزشتہ سے پیوستہ کالم میں تم نے لاس اینجلس میں پولیس کے ہاتھوں مرنے والے کسی پالتو کتے کا ذکر کیا تھا۔ کیا ادھر لوگوں کو اور کوئی کام نہیں اور میڈیا کے پاس بھی کوئی کام کی خبر نہیں کہ اب پولیس کے ہاتھوں ایک پالتو کتے کو گولی لگنے کا واقعہ اتنا اہم ہو گیا ہے۔ پھر از راہِ تجسس خود ہی پوچھنے لگا کہ دراصل یہ معاملہ ہے کیا ؟
میں نے کہا: ہمارے ہاں انسانی جان دراصل اتنی بے وقعت اور ارزاں ہو چکی ہے کہ اب وہ تقریباً اپنی خبریت ہی کھو چکی ہے۔ ہمارے ہاں انسان کتے کی موت مرتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اس کے مقابلے میں ادھر کتے مرتے ہیں تو خبر میڈیا کی زینت بنتی ہے جبکہ سول سوسائٹی اسے سوشل میڈیا پر بھگتا کر فارغ کرنے کے بجائے باقاعدہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتی ہے۔ایک شعر ضیاالحق ہنگامہ سے منسوب ہے اور کتے کی موت مرنے والے اردو محاورے کے برعکس دوسری صورتحال کا عکاس ہے:
ایک کتا دوسرے کتے سے یہ کہنے لگا
بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا
میری مارسیل نیویارک کی رہائشی تھی اور روزگار کے سلسلے میں 2014 میں لاس اینجلس منتقل ہو گئی۔ وہ نیویارک میں رہائش پذیری کے دوران سے ہی نیویارک کی باسکٹ بال ٹیم ’نیویارک نکس‘ کی زبردست مداح تھی۔ اس کی اپنی ٹیم سے محبت لاس اینجلس شفٹ ہو جانے کے باوجود جاری رہی۔ اس روز نیویارک نکس کا فائنل مقابلہ سان انٹونیو سپرز کے ساتھ تھا جو نکس نے جیت کر تریپن سال بعد این بی اے چمپئن شپ اپنے نام کر لی۔ خاتون نے اپنے اپارٹمنٹ میں اپنی ٹیم کی جیت پر زور زور سے نعرے مارتے ہوئے رقص کرنا شروع کر دیا جس پر پڑوسیوں کو لگا کہ ساتھ والے اپارٹمنٹ میں کچھ گڑبڑ ہے جو پڑوسن یوں شور مچا رہی ہے۔ انہوں نے خوشی اور مسرت سے مچائے جانے والے شور کو خطرہ سمجھتے ہوئے فوری طور پولیس کو اطلاع کر دی۔ ہماری پولیس کے برعکس جو واردات کی بروقت اطلاع ملنے کے باوجود گھنٹوں وقوعہ پر نہیں آتی تاوقتیکہ اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ ملزمان واردات کر کے محفوظ مقام تک نہیں پہنچ گئے ہیں، لاس اینجلس پولیس چند ہی منٹ میں وہاں پہنچ گئی۔
پولیس نے پڑوسیوں کی اطلاع کے مطابق بتائے گئے گھر کا دروازہ بجایا۔ دروازہ کھلنے پر اس خاتون کا دوسالہ کتا جیمسن،جس نے نیویارک نکس کی جرسی پہنی ہوئی تھی اپنی مالکن کے جشن مسرت سے خود بھی خاصا خوش اور پُرجوش تھا بھاگ کر باہر آیا اور بقول مالکن پولیس کی جانب دوستانہ انداز میں لپکا تاہم پولیس نے اس کے دوستانہ انداز میں اپنی جانب بڑھنے کو خطرے کا باعث سمجھا اور اس پالتو کتے کو گولی مار دی۔ میری مارسیل کے مطابق اسے لگا کہ جیمسن کو دو گولیاں ماری گئی ہیں تاہم متعلقہ پولیس اہلکار کے باڈی کیم (جسم پر لگا ہوا کیمرہ) کا جائزہ لینے کے بعد پتا لگا کہ اسے دو نہیں،چار گولیاں ماری گئی تھیں۔ اب پورے امریکہ میں اس پر احتجاج ہو رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے بے ضرر پالتو کتے کو اس بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ کیوں مارا گیا۔ اور کتے کی موت پر قانونی چارہ جوئی کیلئے ’جسٹس فار جیمسن‘ کے نام پر فنڈ ریزنگ ہو رہی ہے۔ مورخہ 6 جولائی تک اس مہم کے نتیجے میں دو لاکھ49ہزار 179 ڈالر یعنی سات کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم اکٹھی ہو چکی ہے اور ابھی یہ مہم جاری ہے۔ یہ رقم جیمسن کی آخری رسومات، قانونی کارروائی، انصاف کے حصول، وکیلوں کی فیس اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے استعمال کی جائے گی۔
ادھر دو دو کروڑ روپے میں گاڑیوں کے گولڈن نمبر خریدنے والوں کے ملک میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دو نوجوانوں فیضان حیدر اور محمد فہیم کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع ہوئی تو اس میں چند ہزار روپے بھی اکٹھے نہ ہوئے جبکہ خون بہا میں دیت کے بیس کروڑ روپے مبینہ طور پر خود حکومت پاکستان نے ادا کیے تھے۔ یعنی قاتل کو قانونی کارروائی سے بچانے کیلئے خون بہا مبینہ طور پر حکومت نے ادا کیا۔ جس ریاست نے اپنے بے گناہ شہریوں کے خون کی حفاظت کرنا تھی ،اس نے اپنے مقتولین کا خون بیچا اور اس کی ادائیگی بھی خود کی۔ سرکار کو اتنی جرأت بھی نہ ہوئی کہ اپنے غیر سرکاری آقا سے اپنے مجرم کے جرم کے عوضانے میں دیت کی رقم ہی مانگ سکتی۔ مقتولین کا خون بہا مقتولین کے ورثا کو مقتولین کی محافظ ہونے کی ذمہ دار ریاست نے اپنے پلّے سے ادا کیا۔ اگر ہماری حکومتیں امریکی قاتل کے جرم کا خوں بہا ادا کر سکتی ہیں تو امیروں، رئیسوں اور طاقتوروں کے بگڑے ہوئے بچوں کی گاڑیوں تلے روندے جانے والے خاک نشینوں کا خون بہا کیوں ادا نہیں کر سکتیں؟ امریکی قاتل کی دیت کے عوض رہائی اور اس سلسلے میں حکومتی ادائیگی کا یہ سارا انتظام مبینہ طور پر ایک معزز ریاستی ادارے کے سربراہ نے اپنی نگرانی میں کروایا۔
اداروں کی بات چلی تو حالیہ ایک واقعے میں جہاں ایک طرف لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، تاوان،حبس بے جا، تشدد اور زیادتی والے واقعے میں ملوث اونچے خاندان کے چشم و چراغ کو عالمی سطح پر پاکستان کی عزت و آبرو برباد کرنے کا موجب قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان دو خواتین کی برآمدگی اور بعد ازاں پولیس کی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے حق میں بیان حاصل کر کے ادارے کی کارکردگی کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔ لیکن اس سارے خرابے میں یہ کسی کو یاد نہیں رہا کہ لاہور پولیس کے اعلیٰ افسروں نے کس طرح ان خواتین کی برآمدگی کا سہرا پولیس کی فوری کارروائی، حکومت پنجاب کی بروقت ہدایات اور ڈار خاندان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت سے جوڑتے ہوئے سارا کریڈٹ لینے کی جو پریس کانفرنس کی تھی ،اس سے عالمی سطح پر پاکستانی اداروں کی کتنی بھد اڑی اور اس کا ملکی عزت و آبرو پر کیا منفی اثر پڑا ہے۔ کسی کو اندازہ ہے کہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر اس پریس کانفرنس کے حوالے سے چلنے والی خبر کے برعکس برآمدگی کی اصل حقیقت کھلنے پر ادارے اور اس کے اعلیٰ افسران کی جو ساکھ متاثر ہوئی ہے اس کے اثرات کتنے نقصان دہ ہیں۔
لیکن یہاں کسی کو ملکی عزت،قومی آبرو اور ریاستی ساکھ کی پروا نہیں۔ سب دیہاڑی لگا رہے ہیں اور کسی کو رتی برابر پروا نہیں۔ نہ سول سوسائٹی کو،نہ مقتدرہ کو، نہ افسرشاہی کو اور نہ ہی حکمرانوں کو۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)