زوال کی نشانیاں
- تحریر حامد میر
- جمعرات 16 / جولائی / 2026
پاکستان کے سیاسی منظر پر آج کل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ باعث تشویش ہیں۔ حکومت اور اس کے اداروں کا سارا زور میڈیا مینجمنٹ پر ہے۔ صاحبانِ اختیار کا خیال ہے کہ اگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو قابو کر لیا جائے تو ملکی حالات قابو میں آ جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر حکومت کے مخالفین کی درگت بنانے کیلئے سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال ہورہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کئی اینکرز کو ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا اور مزید اینکرز غائب ہونے والے ہیں لیکن کیا اس میڈیا مینجمنٹ سے پاکستان کے حالات میں کوئی بہتری نظر آئی ہے؟ کسی صحافی کو نوکری سے نکالنا یا کسی ٹی وی اینکر کو اسکرین سے غائب کرنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ کسی ناپسندیدہ وکیل یا انسانی حقوق کے کارکن کو ملک دشمن قرار دے کر جیل میں ٹھونسنا بھی اس حکومت کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ لیکن کیا ان پابندیوں اور گرفتاریوں سے پاکستان میں کوئی سیاسی استحکام پیدا ہوا؟ کیا دہشت گردی ختم ہو گئی؟ کیا غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کر لیا؟
کل میں مسلم لیگ (ن) کے کچھ وزرا کی مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پریس کانفرنسیں اور بیانات دیکھ رہا تھا تو مجھے اکتوبر 2019 میں شہباز شریف کی طرف سے کی جانے والی ایک تقریر یاد آنے لگی۔ یہ تقریر شہباز شریف نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ مولانا کے پہلو میں کھڑے ہو کر شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان کےریاستی اداروں نے جتنا تعاون عمران خان کی حکومت کےساتھ کیا ہے اگر اس کا دسواں حصہ ہمیں مل جائے تو ہم صرف چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا تھا اور جب وہ ایک بڑا جلوس لے کر اسلام آباد میں داخل ہو گئے تو عمران خان کی حکومت اندر باہر سے ہل کر رہ گئی تھی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سمیت پیپلز پارٹی کے کئی رہنمابھی جیلوں میں تھے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو موقع مل گیا کہ مولانا کے کندھوں پر چڑھ کر عمران خان کو مکّے دکھائیں۔ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں خان صاحب کو خوب مُکّے دکھائے۔
صرف چند دن کے اندر اندر اس جلسے کا نتیجہ سامنے آ گیا۔ نومبر 2019 کے وسط میں نواز شریف جیل سے نکلے اور ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سیدھے لندن پہنچ گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نواز شریف بہت بیمار ہیں اور علاج کے بعد تین ہفتے میں واپس آ جائیں گے۔ ہمیں غلط بتایا گیا تھا۔ نواز شریف تین ہفتے میں واپس نہیں آئے بلکہ لندن پہنچنے کے تین مہینے کے اندر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کروایا جس کے تحت اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع منظور کر دی گئی۔ پھر ستمبر 2020 میں بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس اے پی سی میں ایک نیا اپوزیشن الائنس معرض وجود میں آیا جس کا نام پی ڈی ایم رکھا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر مولانا فضل الرحمٰن کوپی ڈی ایم کا سربراہ بنا دیا گیا۔ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ اکتوبر 2020 میں گوجرانوالہ میں ہوا۔
جلسہ گاہ کے بائیں جانب میڈیا کیلئے پریس گیلری بنائی گئی تھی جہاں میں بھی موجود تھا۔ اس جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے جنرل باجوہ اور فوج کے خلاف جن الفاظ میں نعرے بازی کی وہ آج بھی ناقابل بیان ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں پی ڈی ایم کے جلسوں نے زور پکڑا تو جنرل باجوہ نے عمران خان کو غیر مقبول قرار دینا شروع کر دیا اور عمران خان نے جنرل باجوہ سے جان چھڑانے کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔ ان دونوں میں غلط فہمیوں کا فائدہ اٹھا کر جنرل فیض حمید آرمی چیف بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ عمران خان نے جنرل فیض کے ذریعے حکومت چلانی شروع کر دی۔ ایک دفعہ پھر اپوزیشن کے کئی اہم رہنما جیل میں ڈال دیئے گئے۔ میڈیا پر پابندیاں بڑھا دی گئیں۔ 2021 میں مجھ پر بھی طویل عرصے کیلئے پابندی لگا دی گئی۔ لیکن ان پابندیوں اور گرفتاریوں کا خان صاحب کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
مارچ 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ گئی اور چند دن کے اندر اندر شہباز شریف وزیراعظم بن گئے۔ ان کی کابینہ میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی شامل تھی۔ نومبر 2022 میں جنرل عاصم منیر آرمی چیف بن گئے اور اس کے بعد ریاستی اداروں نے شہباز شریف کے ساتھ دس فیصد نہیں بلکہ سو فیصد تعاون شروع کر دیا۔ پھر اسی حکومت نے نواز شریف کی پاکستان واپسی اور ان پر مقدمات ختم کرنے کا راستہ ہموار کیا۔ فروری 2024 کے الیکشن کے بعد شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم بن گئے۔ ریاستی اداروں کا سو فیصد ان کے ساتھ تعاون جاری رہا۔ کیا شہباز شریف صرف چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ پورا کر سکے؟ اس حقیقت میں شک نہیں کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچا لیا گیا لیکن ملک سے سیاسی عدم استحکام ختم کیوں نہیں ہو سکا؟
حکومت کیلئے سب سے بڑا خطرہ عمران خان تھے۔ وہ تو طویل عرصہ سے جیل میں ہیں۔ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ابھی تک کوئی دباؤ بھی نہیں ڈال سکی۔ پی ٹی ایم پر پابندی لگا دی گئی۔ ٹی ایل پی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کی وکیل ایمان مزاری بھی جیل میں ہے ۔ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعد میڈیا پر حکومت کا کنٹرول مزید مضبوط ہو چکا ہے۔ لیکن اس کنٹرول کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امن کی صورتحال پر کنٹرول کیوں قائم نہ ہو سکا؟ آزاد کشمیر میں آج کل جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس کا تعلق حکومت کی گورننس سے نہیں؟ 2021 میں عمران خان یہ سمجھتے تھے کہ انہیں حکومت سے کوئی نہیں نکال سکتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں۔ آج پانچ سال بعد خان صاحب جیل میں ہیں اور انہیں حکومت میں لانے والے کہیں نظر نہیں آتے۔ آج شاید شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کا کوئی متبادل نہیں لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔
وہ مولانا فضل الرحمٰن جن کے کندھوں پر چڑھ کر شہباز شریف مُکّے لہرایا کرتے تھے، آج شہباز شریف کے ساتھی انہی مولانا کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے جس بیان کی مذمت کی جا رہی ہے وہ بیان مولانا نہ دیتے تو بہتر تھا لیکن کل کو مسلم لیگ (ن) پر برا وقت آیا تو شہباز شریف کو انہی مولانا فضل الرحمٰن کے کندھے دوبارہ یاد آئیں گے۔ مسلم لیگ (ن) مت بھولے کہ وفاق میں حکمران ہوتے ہوئے بھی اسے گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی۔ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو گلگت بلتستان میں ہوا تو پھر اس کے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہو گا۔ وہ ایسا سیاسی بوجھ تو نہیں بنتی جا رہی جسے اتار پھینکنا ضروری ہو جائے گا؟
مسلم لیگ ن کے زوال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اندرونی لڑائیاں بنیں گی جو اب سامنے آنے والی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے معاملات بھی کافی خراب ہیں جو دونوں کیلئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ پھر بھی کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے تو فیصل واؤڈا کی حکومت پر تنقیدکا ایک تنقیدی جائزہ کافی ہے۔ نجانے انہیں آج کے حکمران کل کو کسی اپوزیشن الائنس کے کنٹینر یا کسی جیل میں اکٹھے کیوں نظر آ رہے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)