ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست

ملک میں اس وقت مولانا فضل الرحمان کے بیان اور مفتی تقی عثمانی کے ایک فتوے کا چرچا ہے۔ ایک  کا زہروزیروں کے مذمتی بیانات اور سرکاری صحافیوں کے کالموں کے ذریعے نکالنے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ کرپٹو کرنسی  کے خلاف  فتوے کو  حکومتی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ’ورچوئیل ریگولیٹرری اتھارٹی ‘ کے چئرمین بلال بن ثاقب نے ملاقاتوں اور ’رحم‘ کی اپیلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

دونوں معاملات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سرکاری ادارے قانون کے مطابق مؤقف اختیار کرنے یا مولانا فضل الرحمان کے بیان اور مفتی تقی عثمانی کے فتوے کو نظر انداز کرنے  کے اہل بھی نہیں ہیں۔ سرکاری سطح پر  مذہب کے نام پر  سیاست اور کاروبار کرنے والی دو شخصیات کو دی جانے والی اسی غیر ضروری اہمیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں مذہبی انتہاپسندی، عقائد کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی گمراہی اور اس کے بل بوتے پر اپنی قیمت وصول کرنے والے عناصر کو طاقت ور بنانے میں ملک کا موجودہ نظام کیسے اور کیوں کر ان اصولوں سے انحراف کا سبب بن رہا ہے جو عام شہری کے حقوق کا ضامن ہیں اور ملک میں تقریر و تحریر کی آزادی فراہم کرتے ہیں۔

ان دونوں معاملہ کا جائزہ لینے سے پہلے اس بیان اور فتویٰ کا مختصر ذکر ضروری ہے جن کی وجہ سے اس وقت ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا مباحث  کا آغاز ہؤا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے جون کے دوران  اپنے دیگر پانچ علما کے ساتھ  کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین  کے سوال پر کرپٹو کرنسی کے بارے میں حرام ہونے کا فتویٰ جاری کیا۔  سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا دینی کتب  کی  قیمت یا ہدیہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے  ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی اینڈ کمپنی نے جو فتویٰ جاری کیا ،اس  میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی چونکہ مال کی شرعی صفت پر پوری نہیں اترتی ، اس لیے اس کے ذریعے لین دین حرام ہے اور ایسی کوئی بھی خریداری  ناجائز ہوگی۔

یہ تو خیریت ہوئی کہ یہ سوال نہیں کیا گیا کہ ’سائل کے پاس کچھ کرپٹو کرنسی  کے اثاثے موجود ہیں۔ وہ ان اثاثوں سے مفتی صاحبان کی نگرانی میں چلنے والے دینی مدارس کی اعانت کرکے ثواب دارین حاصل کرنا چاہتا ہے، کیا شرعی طور سے ایسا کرنا جائز ہوگا‘۔ یہ بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس طریقے سے  کسی دینی ادارے کوملنے والے وسائل  وصول کرتے ہوئے کوئی مفتی اس کی ’حقیقت‘ جانچنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔ تاہم سوال دینی کتب کی خریداری کے بارے میں تھا، اس لیے اسے آسانی سے حرام قرار دے کر ملکی حکومت کو بے بس کرنے کی شعوری کوشش کی گئی جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک طرف ٹرمپ خاندان کو راضی کرنے کا جتن کررہی ہے تو دوسری طرف بعض زعما اس کاروبار  سے اپنی دولت میں اضافہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

ایسے میں مفتی صاحبان کو ہرگز یہ خیال نہیں آیا کہ اگر کرپٹو کرنسی صرف کمپیوٹر پر حروف کی صورت میں موجود ہونے کی وجہ سے ’مال‘ کی شرعی تعریف پر پوری نہیں اترتی تو  ایک کاغذ پر چھپے ہوئے نوٹ کیوں کر شرعی حیثیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح تو مفتی صاحبان سمیت ملک کے سب شہریوں کا ہر لین دین ’غیر اسلامی اور فتویٰ کی روشنی میں حرام‘ قرار پائے گا۔ چونکہ ملک کے دینی علما کو حجت و دلیل دینے اور اپنے دعوے کا ثبوت فراہم کرنے اور اس کا ذمہ دار بنانے کا پابند نہیں کیا گیا ، اس لیے دیگر مالی معاملات کی طرح کرپٹو کرنسی کے سوال پر بھی  مفتیوں کے فتوے  کو نظر انداز کرنے کی بجائے ملکی حکام منت سماجت اور  لالچ  و تحریص سے کام لینے کی کوشش  کرہے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ کوششیں کامیاب بھی ہوجائیں گی۔ اور  بلال بن ثاقب کی وضاحتوں اور ملاقاتوں کے دوران  خود ساختہ مفتی اعظم صاحب کو کرائی گئی یقین دہانیاں بالآخر رنگ لائیں گی۔ اور حکومت کرپٹو کے کاروبار  کو جائز اور اسلامی قرار دلوانے کے لیے مفتی صاحبان کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس سے پہلے سو دکے معاملہ  میں عثمانی برادران ’اسلامی طریقہ‘ متعارف کرواکے عالمی شہرت اور اپنے لیے ’مشاورت پر اٹھنے والی مشقت‘ کا مناسب معاوضہ وصول کرتے رہے ہیں۔ اب اللہ نے روزی کا ایک نیا دروازہ کھولنے کے اسباب پیدا کیے ہیں۔

مفتیوں اور ملاّؤں کی شریعت اور اسلام سے رغبت کا اندازہ بیرون ملک رہنے والے ان تمام پاکستانیوں کو بخوبی ہے جن سے   لگ بھگ روزانہ کی بنیادپر کسی   نہ کسی یورپی شہر و گاؤں میں نئی مسجد قائم کرنے کے لیے وسائل  فراہم کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ یہ اپیلیں کرتے ہوئے یا چندے لیتے ہوئے کبھی یہ  سوال نہیں پوچھا جاتا کہ متعلقہ شخص کے پاس یہ مال کہاں سے آیا۔ کیا  یہ جائز اور حلال طریقے سے کمایا ہؤا مال ہے یا اس پر ملکی قوانین کے مطابق ٹیکس ادا کیا گیا ہے۔ کیوں کے مسجد تعمیر کرکے نئی نسل کو مسلمان بنانے کے جوش میں ہمارے علما ان  ’معمولی باتوں‘ کو اہم نہیں سمجھتے۔ ویسے اس کا مشاہدہ تو پاکستان کے ہزاروں مدارس و مذہبی تنظیموں کی چندہ مہمات کے دوران بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف حکومت امیر تاجروں سے ٹیکس وصول کرنے کا کوئی طریقہ تلاش کرنے میں ناکام ہے لیکن دوسری طرف مدارس و دینی اداروں کی بڑی تعداد اسی  تاجر طبقہ سے کثیر مقدار میں ذکوۃ اور صدقہ و خیرات وصول کرکے اپنے کاؤنٹ بھرتی ہے۔  کسی مفتی کو اس مال کی شرعی حیثیت جانچنے کا خیال نہیں آتا۔

دوسری طرف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دوری اور سرکاری عہدوں کے فراق میں مبتلا مولانا فضل الرحمان اس وقت کسی بھی طرح  ’سرکار عالی مدار‘ کی توجہ حاصل کرنے کے جتن کررہے ہیں۔    مدلل اور خوبصورت انداز بیان میں مدعا بیان کرنے پر قادر مولانا حال ہی میں قصور میں ایک جلسے کے دوران  اپنے جوش  سے زیادہ غصے پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور  دہشت گردی  کا مقابلہ کرتے  ہوئے شہید ہونے والے فوجیوں کے بارے میں فرمایا کہ  اگر ’کچھ فوجی ایسی کارروائیوں میں ہلاک ہوتے ہیں تو انہیں  تنخواہ بھی تو اسی کام کی ملتی ہے‘۔  مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان  گو کہ تنقید سے زیادہ ‘تنبیہ‘ کے زمرے میں آتا ہے کہ  ’ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں‘ ہمیں نظر انداز نہ کیا جائے ۔ ہر اچھے برے وقت میں ہم ہی کام آتے ہیں۔ لیکن  غصے کے عالم میں گفتگو کرتے ہوئے کسی بھی عام شخص کی طرح مولانا کی زبان بھی پھسل گئی۔ اب  اسی ’غلطی‘ پر انہیں مذمتی بیانات، عدالتی مقدموں اور سرزنش کا سامنا ہے۔

پاکستانی فوج کا ملکی سیاست کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان جیسے لیڈروں نے یہ روایت مستحکم کرنے کے لیے گراؤنڈ ورک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ اگر سیاست میں فوج کی مداخلت کی مخالفت پر اتر آئے ہیں تو پہلے انہیں ماضی میں اس ساز باز پر قوم اور اپنے اللہ سے معافی مانگنی چاہئے۔  یہ ایک علیحدہ اور اہم آئینی و سیاسی بحث ہے کہ فوجی اداروں یا شخصیات کو کس حد تک ملکی سیاسی فیصلوں میں حصہ دار ہونا چاہئے۔ اس بحث میں ان فوجیوں کی خدمات اور قربانیوں کو  موضوع بحث بنانا جو سرحدوں پر بے لوث طریقے سے ملک کا دفاع کرنے کے لیے تعینات ہیں یا دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ۔۔۔ ہر لحاظ سے ناجائز اور قابل مذمت رویہ ہے۔ مولانا نے اپنے اہل خاندان کو   ’تنخواہ و مراعات‘  کے لیے سیاسی راستہ  دکھایا، انہیں وردی پہن کر  فوج میں شامل ہوکر رزق کمانے کا مشورہ نہیں دیا۔ کسی بھی ملک کا فوجی محض تھوڑی سی تنخواہ یا مراعات کے لیے جان کی بازی نہیں لگاتا۔ وہ ملک و قوم کی محبت اور اس کے عشق میں جان قربان کرتا ہے ۔ ان شہیدوں کی قربانیوں کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرنے والے  لوگ خود پست اور کم تر ذہنیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے بیانوں سے شہیدوں کے رتبے اور شان و شوکت میں کمی نہیں آتی۔

تاہم پاکستانی ریاست کے ترجمانوں نے مولانا فضل الرحمان کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان پر   قانون کو راستہ اختیار کرنے کا موقع دینے کی بجائے بیانات کے ذریعے حساب برابر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے ملک میں ملاّؤں کی غیر معمولی سیاسی  طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمان کوئی روائیتی مولوی یا مفتی نہیں ہیں۔ ان کی ساری زندگی ریاست کے ساتھ تعاون اور مفادات سمیٹنے سے عبارت ہے۔ ایسے عناصر جب یک بیک ریاست کو للکارنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو  یہ  درحقیقت واضح کررہے ہوتے ہیں کہ کن عوامل کی وجہ سے ملک میں ایسی مذہبی شدت پسندی عام ہوئی ہے جس نے بعد میں  دہشت گردی اور ریاست کے خلاف بغاوت کی شکل اختیار کی ہے۔  جب تک اس  بڑی تصویر کا جائزہ لے کر مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور روزی کمانے والے عناصر کی اہمیت   کم کرنے  کے لیے  منظم کام نہیں کیا جائے گا ،بدقسمتی سے ملک میں امن و مان کی بحالی کا مقصد حاصل ہونا مشکل رہے گا۔

ریاستیں فتووں یا بیانات سے کمزور یا طاقت ور نہیں ہوتیں۔ وہ ایسے بے سر و پا بیانات سے چیلنج بھی نہیں ہوتیں۔ حکمرانوں کا خوف  ملک میں  ملاّؤں کو غیر ضروری اہمیت و طاقت دینے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک کو نارمل بنانے کے لیے  اس خوف پر قابو پانا ضروری ہے۔