صدر ٹرمپ نے ایران سے سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کیے: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کر رہے اور کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’صدر ایران کو اس وقت جوابدہ ٹھہرائیں گے جب وہ امریکہ سے کیے گئے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ سفارت کاری کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صدر کو پیغام دیا ہے کہ وہ اب بھی کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔ ’ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں، لیکن صدر یہ ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کرے اور اس کی کوئی قیمت نہ چکائے۔‘
جون میں طے پانے والی نازک جنگ بندی ایران پر امریکی حملوں کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں تہران پر کئی حملے کیے ہیں جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو امریکہ حملوں کا دائرہ وسیع کر کے بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی فوج کے مطابق جمعرات کو بھی ایران پر حملے کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمال (سینٹ کام) نے جمعے کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’آج رات مشرقی امریکی وقت کے مطابق 9 بج کر 40 منٹ پر سینٹ کام نے ایران کے خلاف حملوں کی اپنی تازہ بڑی کارروائی مکمل کر لی۔‘
بیان کے مطابق امریکی افواج، جن میں لڑاکا طیارے، فضائی ڈرون اور جنگی بحری جہاز شامل تھے، نے انتہائی درست نشانے والے ہتھیاروں کے ذریعے ایران کے درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، فوجی رسد کا بنیادی ڈھانچہ اور بحری صلاحیتیں شامل تھیں۔ یہ ایران پر امریکی حملوں کی مسلسل چھٹی رات تھی۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ ’50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں اور وہ مکمل چوکسی، بھرپور جنگی استعداد اور ہر وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘ حملوں کے دوران ہی صدر ٹرمپ نے ایران سے ایک امریکی شہری کی رہائی کو ’نیک نیتی کا اشارہ‘ قرار دیتے ہوئے تہران کا شکریہ ادا کیا تھا، جسے ممکنہ سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے وکیل جیرڈ جینسر کے مطابق رہائی پانے والی خاتون ڈینا کراری ہیں جو دسمبر 2024 سے ’بے بنیاد الزامات‘ کے تحت ایران میں پھنس گئی تھیں اور اب امریکہ واپس جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز حالیہ کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور عالمی تیل و گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ جون میں امریکہ اور ایران کے معاہدے کے بعد اس آبی گزرگاہ کو مختصر مدت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا، لیکن تہران نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ ’امریکی جارحیت ختم ہونے تک‘ اسے دوبارہ بند رکھا جائے گا۔ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر بھی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ’کسی معاہدے کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب اس کی شقیں مؤثر ہوں اور ان پر عمل درآمد ہو رہا ہو۔‘ اس دوران امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسداران نے بھی بحرین، کویت ، اردن اور عراق پر حملے کیے ہیں۔