سر سبز یورکشائر میں دو ڈاکٹر اورہم
- تحریر فہیم اختر
- جمعہ 17 / جولائی / 2026
مجھے بچپن ہی سے نئے مقامات دیکھنے، مختلف تہذیبوں سے واقف ہونے اور نئے لوگوں سے ملنے کا بے حد شوق رہا ہے۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ہر سفر انسان کو صرف ایک نئی منزل تک نہیں پہنچاتا بلکہ اسے نئے تجربات، نئی سوچ اور نئی دوستیوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نئے مقام پر جانے کا موقع ملتا ہے تو دل ایک انجانی خوشی اور تجسس سے بھر جاتا ہے۔اسی شوق کی تکمیل کا ایک خوبصورت موقع اس وقت ملا جب کلکتہ کے معروف سرجن ڈاکٹر ایم این حق کی محبت بھری دعوت موصول ہوئی۔ انہوں نے یورکشائر کے علاقے مینسٹون میں قیام پذیر ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر خندیکر ابو حسین سے ملاقات کی دعوت دی۔ یہ محض ایک سفر نہیں تھا بلکہ علم، دوستی، یادوں اور خوبصورت مناظر سے بھرپور چند ایسے دن تھے جو ہمیشہ ذہن کے دریچوں میں روشن رہیں گے۔
ہفتہ، 27 جون کی صبح ہم لندن کے معروف کنگز کراس اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوئے۔ تقریباً تین گھنٹے کا سفر انگلینڈ کے دیہی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے طے ہوا۔ کھڑکی کے باہر سرسبز کھیت، نرم ڈھلوانیں، چھوٹے چھوٹے دیہات، درختوں کی قطاریں اور یورکشائر کی دلکش وادیاں مسلسل ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتی رہیں۔ لیڈز پہنچنے پر ڈاکٹر خندیکر ابو حسین خود استقبال کے لیے موجود تھے۔ وہاں سے ایک اور ٹرین کے ذریعے ہم مینسٹون پہنچے، پھر ان کی گاڑی میں سوار ہو کر ہوٹل ہیلون روانہ ہوئے۔پورے راستے ڈاکٹر خندیکر ابو حسین کی شگفتہ گفتگو، ان کے طبی تجربات، کلکتہ کی یادیں اور برطانیہ میں گزرے طویل عرصے کے دلچسپ واقعات سفر کو مزید خوشگوار بناتے رہے۔ ڈاکٹر خندیکر ابو حسین نے کلکتہ نیشنل میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور انگلینڈ سے ایف آر سی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک سینئر ریٹائرڈ آرتھوپیڈک سرجن ہیں جنہوں نے اپنی پوری عملی زندگی طب کے شعبے کے لیے وقف کر دی۔
ہوٹل ہیلون نہایت پُرسکون ماحول میں واقع تھا۔ اس کے قریب وسیع و عریض گولف گراؤنڈ اپنی سرسبزی، خاموشی اور خوبصورتی کے باعث دل کو بے حد بھایا۔ شام کے وقت وہاں چہل قدمی کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ انسان کو اپنے دامن میں سمیٹ رہی ہو۔ ٹھنڈی ہوا، سبزہ، پرندوں کی آوازیں اور دور تک پھیلے مناظر دیر تک ذہن پر نقش رہے۔ہفتے کی شام مینسٹون کے ممبئی ویلج ریسٹورنٹ میں لذیذ ہندوستانی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے، جبکہ اتوار کو لیڈز کے ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں روایتی پائے اور گرم گرم نان نے دیارِ غیر میں اپنے وطن کی خوشبو تازہ کر دی۔
ڈاکٹر خندیکر ابو حسین کا تعلق مغربی بنگال کے تاریخی شہر مرشد آباد کے قریب واقع سالار سے ہے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مولانا آزاد کالج، کلکتہ سے بھی حاصل کی تھی۔ میرے لیے یہ ایک غیر معمولی خوشی کا لمحہ تھا، کیونکہ میں بھی اسی عظیم درسگاہ کا طالب علم رہا ہوں اور وہاں جنرل سیکریٹری منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں۔ یوں محسوس ہوا کہ برسوں کا فاصلہ چند لمحوں میں سمٹ آیا ہو۔دورانِ گفتگو ڈاکٹر خندیکر ابو حسین نے اپنی زندگی کا ایک ایسا پہلو بھی نہایت درد مندی سے بیان کیا جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی، شہرت اور مصروفیات کے باوجود انہیں ہمیشہ اس بات کا افسوس رہا کہ قرآنِ مجید کو سمجھ کر پڑھنے اور اسلامی تعلیمات سے گہری واقفیت حاصل کرنے کا موقع انہیں بہت دیر سے ملا۔ گفتگو کے ایک مرحلے پر انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھ سے کہا:”مجھے آپ سے جلن ہوتی ہے“۔میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ’کاش! مجھے بھی بچپن ہی سے قرآن پڑھنے، اس کے ترجمے کو سمجھنے اور اسلامی تعلیمات سے آشنائی کا موقع ملا ہوتا۔ افسوس کہ جب میں سینتالیس برس کا ہوا تب مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف دنیاوی مصروفیات میں گزار دیا۔“ ان کے لہجے میں ندامت بھی تھی اور عزم بھی۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ باقاعدگی سے قرآنِ مجید کو ترجمے اور مفہوم کے ساتھ پڑھتے ہیں، اس کی تعلیمات پر غور کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے کہا کہ اب انہیں اس بات پر فخر ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابیاں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ ان کی یہ بات میرے دل پر گہرا اثر چھوڑ گئی کہ انسان کے لیے ہدایت کا دروازہ جب بھی کھلے، وہی اس کی حقیقی کامیابی کا آغاز ہوتا ہے۔
اس پورے سفر میں ڈاکٹر ایم این حق کی محبت، خلوص اور خوش مزاجی ہر لمحہ نمایاں رہی۔ وہ خود بھی اس مختصر سیاحت اور ملاقات سے بے حد خوش تھے۔ ہماری گفتگو میں طب، تعلیم، تاریخ، کلکتہ کی یادیں، برطانیہ کی زندگی اور سماجی موضوعات شامل رہے، جس نے اس سفر کو صرف ایک تفریحی دورہ نہیں بلکہ ایک علمی اور فکری نشست بھی بنا دیا۔اس سفر میں ڈاکٹر ایم این حق کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو بھی میرے سامنے آیا۔ڈاکٹر ایم این حق کی شخصیت صرف ایک کامیاب سرجن تک محدود نہیں بلکہ وہ طب، تعلیم، سماجی خدمت اور ملی سرگرمیوں کا ایک روشن استعارہ ہیں۔ وہ ایک سینئر جنرل لیپروسکوپک سرجن اور لیزر پروکٹولوجسٹ ہیں اور کلکتہ کے معروف جی ڈی ہسپتال اینڈ ڈائیبیٹیز انسٹی ٹیوٹ میں شعبہ سرجری کے سابق ایمیریتس سربراہ رہ چکے ہیں۔ جبکہ اسلامیہ ہسپتال کے اعزازی سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ طب کے میدان میں نمایاں خدمات کے ساتھ ساتھ وہ سماجی اور تعلیمی شعبوں میں بھی نہایت فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (خضرپور برانچ) کے صدر، کلکتہ خلافت کمیٹی کے نائب صدر، ویسٹ بنگال اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق رکن اور متعدد ملی و رفاہی اداروں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے ڈاکٹر ایم این حق پبلک اسکول بھی قائم کیا، جو ان کی دور اندیشی اور قوم کی نئی نسل کے لیے فکر مندی کا مظہر ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک کامیاب معالج، درد مند سماجی کارکن، مخلص قائد اور اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والے صاحبِ ذوق انسان کی تمام خوبیاں یکجا نظر آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ طبی حلقوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور علمی دنیا میں بھی بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ تاہم گفتگو کے دوران ان کے لہجے میں ایک درد بھی نمایاں تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض افراد ذاتی مفادات، انا پرستی اور گروہی سیاست کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف فلاحی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ قوم و ملت کی نیک نامی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ڈاکٹر حق کا خیال تھا کہ اگر اخلاص، دیانت اور باہمی اتحاد کو فروغ دیا جائے تو ہماری سماجی اور مذہبی تنظیمیں معاشرے میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی یہ گفتگو دراصل ایک ایسے درد مند انسان کے دل کی آواز تھی، جو اپنی قوم کو ترقی، اتحاد اور خدمتِ خلق کے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔
لیڈز کے قیام کے دوران پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹی کے علاقوں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ یہ منظر میرے لیے نہایت خوش آئند اور باعثِ مسرت تھا کہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ اپنی محنت، دیانت اور سماجی اقدار کے بل بوتے پر نہ صرف برطانیہ کے معاشرے میں ایک باوقار مقام حاصل کر چکے ہیں بلکہ اپنی مذہبی، ثقافتی اور خاندانی روایات کو بھی بڑی خوبصورتی سے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بازاروں میں اردو اور بنگلہ زبان کی مٹھاس سنائی دیتی تھی، حلال گوشت کی دکانیں، پاکستانی اور بنگلہ دیشی ریسٹورنٹس، مساجد، کپڑوں کی دکانیں اور ایشیائی اشیائے خور و نوش سے مزین سپر مارکیٹیں یوں محسوس کراتی تھیں جیسے دیارِ غیر میں اپنے وطن کی ایک جھلک موجود ہو۔ سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ کمیونٹی کے افراد پُرامن، خوشحال اور باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم کے بہترین مواقع میسر ہیں، نئی نسل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور بزرگ اپنی ثقافت اور مذہبی شناخت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کا زندہ ثبوت تھا کہ محنت، تعلیم اور قانون کی پاسداری انسان کو دنیا کے کسی بھی کونے میں عزت اور کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔
کچھ سفر نقشے پر طے ہوتے ہیں اور کچھ دل کے اندر۔ منزل تک پہنچنا تو ہر مسافر کا نصیب ہوتا ہے، مگر یادگار سفر وہی بنتا ہے جو راستوں، مناظر اور انسانوں کو دل میں ہمیشہ کے لیے بسا دے۔ یورکشائر، لیڈز اور مینسٹون کا یہ مختصر سفر بھی میرے لیے ایسا ہی ایک تجربہ تھا۔ ٹرین کی کھڑکی سے گزرتے سبزہ زار، خاموش دیہات، آسمان سے باتیں کرتے درخت، خوشگوار موسم، پرخلوص دوستوں کی رفاقت اور علم و محبت سے لبریز گفتگو نے ہر لمحے کو ایک نئی تازگی عطا کی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہم صرف میلوں کا سفر نہیں کر رہے بلکہ یادوں کی ایک ایسی شاہراہ پر گامزن ہیں جہاں ہر موڑ پر ایک نئی کہانی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔
لندن واپسی کے وقت دل یہی سوچتا رہا کہ زندگی میں بعض سفر اپنی مدت کے اعتبار سے مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کی یادیں عمر بھرانسان کا ساتھ دیتی ہیں۔ یورکشائر کی سرسبز وادیاں، لیڈز کی رونق، مینسٹون کی خاموش خوبصورتی، ہوٹل ہیلون کی پرسکون فضا، گولف گراؤنڈ کی شامیں، دوستوں کی بے تکلف محفلیں اور ڈاکٹر خندیکر ابو حسین اور ڈاکٹر ایم این حق کی محبت بھری میزبانی ہمیشہ دل میں زندہ رہے گی۔ یہی حسین یادیں زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید قیمتی ہوتی چلی جاتی ہیں۔