آسٹریلیا ۔ انوکھی سر زمین
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعہ 17 / جولائی / 2026
دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت کے بعد جب بھی میرا جہاز آسٹریلیا کی فضاؤں میں داخل ہوتا ہے اور نیچے نیلگوں سمندر کے کنارے پھیلے ہوئے ساحل، سبز وادیوں کے درمیان آباد شہر اور دور تک پھیلے جنگلات نظر آتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک طویل سفر کے بعد انسان اپنے گھر کی دہلیز پر لوٹ آیا ہو۔
دنیا کے بے شمار ممالک دیکھنے کے باوجود آسٹریلیا کی سرزمین میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ شاید اس لیے کہ گزشتہ تینتیس برسوں سے یہ ملک صرف میری رہائش گاہ نہیں بلکہ میری زندگی، میری یادوں، میرے مشاہدات اور میرے تجربات کا حصہ بن چکا ہے۔ آج سے تینتیس سال پہلے جب میں مستقل رہائش کے لیے آسٹریلیا آنے کی تیاری کر رہا تھا تو میرے لیے یہ ملک تقریباً ایک اجنبی دنیا تھا۔ اس زمانے میں نہ انٹرنیٹ تھا، نہ گوگل، نہ یوٹیوب اور نہ سوشل میڈیا، جہاں چند لمحوں میں کسی بھی ملک کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں۔ معلومات کا واحد ذریعہ کتابیں تھیں، اور وہ بھی محدود۔ بڑی تلاش کے بعد مجھے آسٹریلیا کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب ملی۔ آج بھی اس کے چند صفحات میرے حافظے میں محفوظ ہیں، کیونکہ اسی کتاب نے میری زندگی کے دو اہم فیصلوں پر اثر ڈالا۔
پہلی بات یہ لکھی تھی کہ سڈنی آسٹریلیا کا سب سے بڑا شہر، سب سے زیادہ ملٹی کلچرل آبادی رکھنے والا شہر اور روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے والا شہر ہے۔ شاید یہی وہ جملہ تھا جس نے میرے دل میں سڈنی میں بسنے کی خواہش پیدا کی۔ بعد کے برسوں میں جب میں نے سڈنی کو قریب سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ وہ مختصر سا جملہ حقیقت کا مکمل عکس تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک، ہر نسل، ہر زبان اور ہر مذہب کے لوگ اس شہر میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسری بات اس کتاب میں یہ لکھی تھی کہ آسٹریلیا ایک خشک براعظم ہے۔ اس ایک جملے نے میرے ذہن میں آسٹریلیا کی ایسی تصویر بنا دی تھی جیسے ہر طرف صحرا ہی صحرا ہوں گے، پانی نایاب ہوگا اور زندگی شاید سخت حالات میں گزرتی ہوگی۔ لیکن جب میں سڈنی پہنچا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چاروں طرف سرسبز پہاڑیاں، خوبصورت پارکس، گھنے جنگلات، سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں اور بارشیں دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید کتاب میں کوئی غلطی ہے۔ بعد میں جب میں نے پورے آسٹریلیا کا سفر کیا، اس کے جغرافیے کو سمجھا اور اندرونی علاقوں کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ کتاب غلط نہیں تھی، بلکہ میرا تصور نامکمل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آسٹریلیا کا بیشتر اندرونی حصہ واقعی خشک اور نیم صحرائی ہے لیکن اس کی اکثریت ساحلی شہروں میں آباد ہے، جہاں موسم، بارش اور سبزہ ایک بالکل مختلف منظر پیش کرتے ہیں۔
شروع کے چند برسوں میں میری مصروفیات روزگار تک محدود رہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، اس سرزمین کو جاننے کا شوق بڑھتا گیا۔ پھر ایک ایسا وقت آیا جب میں نے فیصلہ کیا کہ آسٹریلیا کو صرف نقشے پر نہیں بلکہ اس کی سڑکوں، قصبوں، دیہات، فارم ہاؤسز، پہاڑوں، دریاؤں اور ساحلوں کے ذریعے جانوں گا۔ اس کے بعد میری اصل سیاحت شروع ہوئی۔ میں نے صرف بڑے شہروں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ درجنوں چھوٹے قصبوں، دیہات اور دور افتادہ بستیوں تک سفر کیا۔ میں ان جگہوں پر بھی گیا جہاں شاید ایک دن میں چند گاڑیاں ہی گزرتی ہوں۔ کبھی کسی کسان کے فارم ہاؤس میں رات گزاری، کبھی کسی دور دراز قصبے کے چھوٹے سے ہوٹل میں قیام کیا، کبھی مقامی کیفے میں بیٹھ کر آسٹریلوی دیہاتیوں سے گھنٹوں گفتگو کی۔ ان ملاقاتوں نے مجھے آسٹریلیا کی وہ تصویر دکھائی جو سیاحتی بروشروں میں نظر نہیں آتی۔
شہروں کا آسٹریلیا اور دیہات کا آسٹریلیا دو الگ دنیائیں ہیں۔ سڈنی، ملبورن اور برسبین جدید شہری زندگی کی علامت ہیں، لیکن اندرونی آسٹریلیا میں آج بھی سادگی، خلوص، دیانت اور فطرت سے قربت نمایاں نظر آتی ہے۔ وہاں لوگ ایک دوسرے کو نام سے جانتے ہیں، اجنبی کو بھی مسکرا کر سلام کرتے ہیں اور اگر آپ راستہ بھول جائیں تو منزل تک پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ سرسبز دیہات سے لے کر وسیع چراگاہوں تک، میں نے آسٹریلیا کو ہر موسم میں دیکھا ہے۔ کہیں سنہری گندم کی فصلیں لہلہا رہی تھیں، کہیں ہزاروں بھیڑیں کھلے میدانوں میں چر رہی تھیں، کہیں دودھ دینے والی گائیں قطار در قطار کھڑی تھیں، تو کہیں انگوروں کے باغ دور تک پھیلے ہوئے تھے۔
مجھے آج بھی وہ راتیں یاد ہیں جب میں فارم ہاؤسز میں ٹھہرا۔ سورج غروب ہونے کے بعد پورا ماحول خاموش ہو جاتا۔ نہ گاڑیوں کا شور، نہ شہروں کی روشنی، صرف ستاروں سے بھرا آسمان، ٹھنڈی ہوا اور فطرت کی خاموش موسیقی۔ ایسے لمحات انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتے ہیں۔ پھر مجھے تسمانیہ جانے کا موقع ملا۔ چاروں اطراف سے سمندروں میں گھرا تسمانیہ آسٹریلیا کا ایک الگ ہی چہرہ ہے۔ یہاں کی فضا، موسم، پہاڑ، جنگلات، جھیلیں اور آبشاریں قدرت کے انوکھے رنگوں اور جنت نظیر خطے کا احساس دلاتی ہیں۔ قدیم درخت، صاف شفاف دریا، جنگلی حیات اور پرسکون ماحول دیکھ کر بار بار یہی خیال آتا رہا کہ قدرت نے اس چھوٹے سے جزیرے پر اپنی خوبصورتی کھل کر نچھاور کی ہے۔
ان تینتیس برسوں میں میں نے صرف آسٹریلیا کو دیکھا ہی نہیں بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ ایک عجیب ملک ہے۔ دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم، لیکن دنیا کے بڑے ترین ممالک میں شامل۔ دنیا کی قدیم ترین مسلسل زندہ ثقافت، لیکن جدید ترین معاشروں میں شمار۔ لاکھوں مربع کلومیٹر پر پھیلے صحرا لیکن بہترین زرعی پیداوار۔ صرف ڈھائی سے تین کروڑ آبادی، لیکن دنیا کی مضبوط معیشتوں میں نمایاں مقام۔ یہاں کا تقریباً ستر فیصد حصہ خشک یا نیم خشک ہے، مگر جدید آبپاشی، سائنسی تحقیق اور بہترین منصوبہ بندی نے اسے گندم، کپاس، دالوں، گوشت، دودھ اور اون پیدا کرنے والے اہم ممالک میں شامل کر دیا ہے۔
مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے وسیع ملک میں سفر کرتے ہوئے کئی کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں اور راستے میں شاید ایک بھی آبادی نظر نہیں آتی۔ بعض اوقات ایک شہر سے دوسرے شہر تک تین، چار بلکہ پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، اور درمیان میں صرف صحرا، جھاڑیاں، چراگاہیں اور کبھی کبھار کوئی فارم ہاؤس دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہی خاموشی آسٹریلیا کا حسن بھی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر کسی نے صرف سڈنی یا ملبورن دیکھا ہے تو اس نے آسٹریلیا کا صرف ایک رخ دیکھا ہے۔ اصل آسٹریلیا ان سڑکوں پر بکھرا ہوا ہے جو دور افتادہ قصبوں تک جاتی ہیں، ان فارموں میں جہاں کسان اپنی نسلوں سے محنت کر رہے ہیں، ان چھوٹے شہروں میں جہاں زندگی آج بھی سادہ اور بے تکلف ہے اور ان لوگوں میں جن کے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ نہیں بلکہ خلوص جھلکتا ہے۔
دنیا کے درجنوں ممالک کی سیاحت کے باوجود میں آج بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ آسٹریلیا کو سمجھنے کے لیے صرف یہاں آنا کافی نہیں، بلکہ اس کے اندر سفر کرنا ضروری ہے۔ اس کی مٹی کو چھونا، اس کے دیہات میں وقت گزارنا، اس کے لوگوں سے ملنا، اس کی بارشوں اور اس کے صحراؤں دونوں کو دیکھنا، تب جا کر احساس ہوتا ہے کہ یہ سرزمین صرف خوبصورت ساحلوں یا بلند عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ یہ فطرت، تہذیب، محنت، نظم و ضبط اور انسانی وقار کی ایک خوبصورت داستان ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک دیکھنے کے بعد بھی جب میں آسٹریلیا واپس آتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں صرف ایک ملک نہیں بلکہ اپنی دوسری جنم بھومی میں واپس لوٹ آیا ہوں؛ ایک ایسی سرزمین جس نے مجھے صرف رہائش ہی نہیں دی بلکہ زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ بھی عطا کیا۔