ولایت فقیہ کا جنازہ اور ٹرمپ

(قسط 2)
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل مغرب کے لیے ایک ڈکٹیٹر کو اتنا بڑا پروٹوکول ناقابل فہم کیوں ہے؟ کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سینتالیس برسوں سے ایران میں ولایت فقیہ کی صورت ایک نوع کی مذہبی ڈکٹیٹرشپ چھائی ہوئی ہے، جس کے سامنے نو کروڑ ایرانی عوام کے نمائندہ صدر اور منتخب پارلیمنٹ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔

اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس رجیم کے خلاف بارہا ملکی سطح پر شدید ترین احتجاج ہو چکے ہیں، جنہیں جبر کے آہنی ہاتھوں سے کچلا جاتا رہا ہے۔ آخری احتجاج میں غیر جانبدار ذرائع کی رپورٹ کے مطابق سیدھی گولیاں چلاتے ہوئے پنتالیس ہزار ایرانی عوام لقمہ اجل بنا دیے گئے۔ جتنے لوگوں کو ایران میں پھانسیاں دی گئیں، ان کے اعداد و شمار بھی ہوشربا ہیں۔ ایرانی رجیم کی جہادی پراکسیوں اور انقلابی جنونی امنگوں کے باعث تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ایرانی قوم مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ پندرہ لاکھ ایرانی ریال سے محض ایک امریکی ڈالر خریدا جا سکتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ منتخب ایرانی صدر کو ولایت فقیہ کے سامنے روتے ہوئے اپنا استعفیٰ رکھنا پڑا کہ امن ڈیل قبول کریں ورنہ میں اپنے عوام کو بھوکوں مرتے نہیں دیکھ سکتا، اس نمائشی عہدے کو چھوڑتا ہوں۔ یہ الگ بحث ہے کہ مذہبی جنونی جوش بھڑکا کر بھوک کیا، موت کو بھی گلوریفائی کیا جاتا ہے، شاید اسی منظرنامے کو سامنے رکھ کر ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال لاہوری نے دہائیوں قبل امامت کی حقیقت ان الفاظ میں بیان کی تھی:
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

ٹرمپ کا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے دم توڑتی سسکتی ولایت فقیہ پر بم پھوڑ کر اسے عوامی نظروں میں سانحہ کربلا جیسی نئی ہمدردی و نئی زندگی بخش دی ہے۔ لوگ خامنائی کی شہادت کو شہید کربلا اور اس کی معصوم پوتی کو علی اصغر کی شہادت جیسا دیکھ رہے ہیں۔ اپنی جس رجیم سے ایرانی عوام عاجز آئے ہوئے تھے، تمہارے ظالمانہ بیرونی حملے نے اسے مقام کربلا کی عظمتوں سے روشناس کروا دیا ہے۔ بانی انقلاب امام خمینی نے 1979 میں دنیائے مسیحیت کے پیشوا پوپ جان پال کو ایک خط کے جواب میں یہ لکھا تھا کہ آپ لوگوں کو ہم شیعہ مسلمانوں کی تاریخ کا علم نہیں ہے جو خون سے لبریز ہے۔ ہم موت سے نہیں ڈرتے، بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ شہادتیں ہمارا فخر اور ہماری پہچان ہیں۔ آج ایران کے راسخ العقیدہ طبقے نے اپنے عمل سے یہ سب ثابت کر دیا ہے، حملہ آوروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ شیعہ عقیدہ امامت میں امام کی کیا عظمت اور کیا مقام ہے۔ آج اگرچہ ان کے پاس بارھویں امام مہدی نہیں ہیں جن کی آمد کے وہ منتظر ہیں، لیکن وہ جسے نائب الامام قرار دے دیتے ہیں، اس عظیم گدی کی وجہ سے وہ اسی عظمت اور پروٹوکول کی عقیدت کا حق دار گردانا جاتا ہے۔

غیر شیعہ لوگوں یا اہل مغرب کو تمام تر خامیوں کے باوجود، شیعہ مذہب میں خمینی یا خامنائی کی پذیرائی عجیب لگتی ہے، ہمارے بہت سے لوگوں نے یہ خیال کیا تھا کہ خامنائی بھی اسی طرح کا ایک ڈکٹیٹر ہے جس طرح عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں کرنل قذافی تھا۔ درویش کا ماننا ہے کہ وہ چاہے ان سے بڑا ڈکٹیٹر بن جائے لیکن جب تک شیعہ عوام میں اس کی حیثیت مرجع کی ہے، راسخ العقیدہ یا مذہبی الذہن شیعہ خواتین و حضرات میں اس کی عقیدت کم نہیں ہو سکتی، چاہے اسے منتخب کرنے والے محض ایک سو شیعہ علما ہوں یا محدود سے آیت اللہ صاحبان۔

صدیوں سے شیعان علی کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ان کے آئمہ سیاسی جدوجہد میں جانیں قربان کرتے رہے، مگر ان کے حصے میں سوائے شہادتوں کے کچھ نہ آیا۔ صرف مصر میں ایک مدت تک فاطمی حکمرانی ملی، مگر سنی کرد صلاح الدین ایوبی نے اس کا بھی کام تمام کر ڈالا۔ اب اتنی حسرتوں کے بعد مذہبی مرجع کی ولایت فقیہ پوری طاقت کے ساتھ ایران میں قائم ہوئی ہے تو بھلا وہ اسے اتنی آسانی سے کیسے جانے دیں گے؟ رد انقلاب کے لیے بہت بھاری، ہمہ گیر، ہمہ پہلو جدوجہد کرنی پڑے گی۔ جن لوگوں کو ٹیررازم کے حوالے سے دلائل کے ساتھ ایرانی رجیم یا ولایت فقیہ پر شدید ترین اعتراضات ہیں اور وہ سپریم لیڈر کی متشدد پراکسیاں دیکھتے ہوئے انہیں سنی ٹیررسٹ اسامہ بن لادن یا اسماعیل ہنیہ جیسا ٹیررسٹ یا لبنانی حزب اللہ کے حسن نصراللہ جیسا متشدد لیڈر سمجھتے ہیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو وہ اپنے اذہان سے اس نوع کی غلط فہمی نکال دیں، ولایت فقیہ کے معنی ہیں ایک ریلیجس جیورسٹ کی حکمرانی اتھارٹی یا بادشاہت۔ دوسرے الفاظ میں وہ ایک شخص نہیں بلکہ شیعہ علما اور آیت اللہ صاحبان کا نمائندہ ایسا طاقتور ادارہ ہے جس کی جڑیں مذہبی الذہن شیعہ لوگوں کے دل و دماغ میں پیوست ہیں۔ جو منتخب صدر اور منتخب مجلس (پارلیمنٹ) کے فیصلوں کو بھی ویٹو کر سکتا ہے۔ ایک طرح سے وہ مولا علی کا ہی نہیں مولائے کائنات کا نمائندہ ہے، جس کا فرمان عین دین ہے (جاری ہے)