ایران نے مفاہمتی یادداشت معطل کردی
ایران کے قانونی امور کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں معطل کر دیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق غریب آبادی نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو معطل کر دیا ہے۔ امریکہ نے اس مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی اور انہیں معطل کر دیا۔ ہم نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔ ہم ان پر عمل درآمد نہیں کر رہے اور اس وقت اپنی توجہ ملک کے دفاع پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق درجنوں فضائی ایندھن بردار طیارے اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور منصوبوں میں ایران کے بجلی گھروں، اہم انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر آبنائے ہرمز کھلوانا ہے، امریکا ایران کو جوہری مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔ایگزیوس نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چند روز میں مزید امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن آئندہ دنوں میں جنگ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا تھاکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
ادھر پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے ممالک مناسب جواب کے لیے تیار رہیں۔ امریکی فوجی اڈے رکھنے والے ممالک شہری دفاع کے اقدامات فعال کریں، شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور رکھیں۔ایران میں طاقت کے اہم ترین مرکز سمجھے جانے والے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈے رکھنے والے ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ امن کی بحالی تک جواب دیا جائے گا۔