انتہاپسند بیانیوں کا نیا تصادم
- تحریر خورشید ندیم
- ہفتہ 18 / جولائی / 2026
ہماری نئی نسل میں کم ہی ہوگا جس نے طارق علی کا نام سنا ہو۔ طارق علی اُس نظریاتی کشمکش کا ایک متحرک کردار تھے جو اب طاقِ نسیاں کی نذر ہو چکی۔ یہ اسلام اور اشتراکیت کی کشمکش تھی۔ اس میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے رزم گاہ تھے۔
طارق علی بائیں بازو کی نمائندگی کرتے تھے۔ دوسرا فریق اسلامی جمعیت طلبہ تھی۔ یہ کشمکش تمام ہوئی اور بایاں بازو قصہ پارینہ بنا۔ اگر اس کا کوئی نمائندہ زندہ ہے تو اس نے لبرل ازم کا چولا پہن رکھا ہے۔ جمعیت البتہ اسی شناخت کے ساتھ زندہ ہے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب ایک کشمکش ختم ہو چکی اور ایک فریق اپنی صف لپیٹ چکا تو دوسرا فریق کیسے زندہ ہے یا اس کی زندگی کا جواز کیا ہے؟ اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ آج مجھے طارق علی یاد آئے تو اس نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں۔ ان کو یاد کرنے کی ایک خاص وجہ ہے۔
جب القاعدہ اور امریکہ کی لڑائی عروج پر تھی تو ان کی ایک کتاب شائع ہو ئی: انتہاپسند بیانیوں کا تصادم (Clash of Fundamentalisms) یہ عنوان ہی بتا رہا ہے کہ کتاب کا مضمون کیا ہو گا۔ ان کے نزدیک ایک انتہا پسندی ،دوسری انتہا پسندی سے متصادم تھی۔ امریکہ اور مغرب نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اپنے نوآبا دیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ’نادیدہ تشدد‘ کا ارتکاب کیا۔ القاعدہ اس کا ردِعمل ہے جو عمل کی طرح انتہا پسندانہ ہے۔ طارق علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور مغرب ہیں جنہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلم انتہا پسندوں کو اسلحہ فراہم کیا اور تشدد کا راستہ دکھایا۔ اپنے نظریاتی پس منظر کے ساتھ، وہ یہاں افغانستان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ میرا اضافہ یہ ہے کہ القاعدہ نے اس ورلڈ آرڈر کو ماننے سے انکار کیا جس پر دنیا نے اجماع کر لیا تھا۔ امریکہ نے بھی یہی کیا جب وہ عراق پر حملہ آور ہوا۔ القاعدہ کا بنیادی مطالبہ غلط نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل جائے۔ القاعدہ کو مگر انتہاپسند اور دہشت گرد مانا گیا۔ وجہ مطالبہ نہیں، طریقہ کار تھا۔
مشرقِ وسطیٰ آج پھر دو انتہاپسند بیانیوں کا رزم گاہ بن گیا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں میں سے کوئی ایک فریق ایسا نہیں جس نے جلتی پر پانی ڈالا ہو۔ دونوں تیل ڈال رہے ہیں۔ کوئی فریق جنگ کے شعلوں کو کم کر نے کی کوشش نہیں کر رہا۔ زیادہ متاثر ایران ہے جس کی سرزمین میدانِ جنگ بنی ہوئی ہے۔ امریکہ کا نقصان معاشی ہے،جانی یا سماجی نہیں۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ایران امن کی طرف لپکے، بطورِ خاص اُس وقت جب معاہدۂ اسلام آباد نے اسے ایک شاندار موقع بھی فراہم کر دیا ہے۔ اس معاہدے سے ایران نے بہت کچھ حاصل کیا۔ ہر منصف مزاج نے امریکہ کو جارح قرار دیا جس سے ایران کو ایک اخلاقی برتری ملی۔ یہ تاثر قائم ہوا کہ امریکہ ایران کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسرائیل کو ہر محاذ پر پسپائی اختیارکرنا پڑی۔ پاکستان جیسا ملک کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے تین سو بلین ڈالر فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔ ایران کے اثاثے واپس ملنے کا امکان روشن ہو گیا۔ عرب ممالک بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ دکھائی دیے۔
عقلِ عام کا تقاضا یہ تھا کہ ان کامیابیوں کو سمیٹا جاتا۔ اگر صدر ٹرمپ کی طرف سے کوئی احمقانہ بات کی گئی تو ایسی باتوں کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا جیسے یورپی ممالک کی قیادت نے کیا ہے۔ اُن پر صدر ٹرمپ نے بارہا تنقید کی لیکن انہوں نے قرآن مجید کو نہ مانتے ہوئے بھی اس کی ہدایت پر عمل کیا کہ جب معاملہ جاہلوں سے آن پڑے تو گریز سب سے بہتر حکمتِ عملی ہے۔ ایران والے تو ماشا اللہ قرآن مجید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ ان ہفوات سے درگزر کرتے اور اس خیر کو سمیٹنے کی کوشش کرتے جو اس معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔
افسوس کہ ایران یہ نہ کر سکا۔ اس نے انتقام کا نعرہ لگایا اور صدر ٹرمپ کی سطح پر اتر کر اس کا جواب دیا۔ امریکہ کے ساتھ تصادم کے امکانات کو بڑھاتے ہوئے،عرب ممالک سے تعلقات کی بہتری کو اہمیت نہیں دی۔ اپنی پراکسیز کو بند نہیں کیا۔ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں ایران پر حملوں میں شدت آ گئی۔ جانوں اور املاک کے زیاں کا عمل رک نہیں سکا۔ ہرمز کے بند ہونے کا نقصان امریکہ سے زیادہ چین اور دوسرے ممالک کو ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ تجارت کا یہ راستہ کھلا رہے۔ اگر یہ صورتِ حال اسی طرح بر قرار رہی تو ایران کو جو برتری ملی تھی،وہ کم ہوتی جائے گی۔ وہ امکانات بھی اس کی ہتھیلی سے پھسلنا شروع ہو جائیں گے جو معاہدۂ اسلام آباد نے پیدا کیے۔
اس نقطہ نظر کے جواب میں یہ دلیل بے معنی ہے کہ امریکہ جارحیت کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے؟ امریکہ کواس جارحیت سے روکنا یا اس کو مزید اشتعال دلانا؟ اسرائیل اور امریکہ میں فرق ہے۔ اگر وہ ایران پر دس بم پھینکتا تھا تو ایران کے دو تین میزائل بھی اسرائیل کی سرزمین تک پہنچ جا تے تھے۔ کم سہی لیکن اسرائیل کا جانی نقصان ہو رہا تھا اور ملک حالتِ جنگ میں تھا۔ اس لیے اسرائیل کا مفاد اس میں تھا کہ جلد از جلد جنگ ختم ہو۔ امریکہ کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اس کی سرزمین محفوظ ہے۔ جنگ اگر جاری رہتی ہے تو امریکی حکومت پر عوام کا دباؤ ویسا نہیں ہو سکتا جو اسرائیلی عوام کا اپنی حکومت پر تھا۔ دوسری طرف ایرانی عوام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایرانی قوم نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس کو مزید نہیں آزمانا چاہیے۔ اس سے عوامی اضطراب میں اضافہ ہو گا۔ ایرانی قوم کے کئی برس جنگ کی نذر ہو گئے۔ آٹھ سال عراق کے ساتھ۔ پھر امریکہ کے ساتھ مسلسل تصادم کی کیفیت۔ لبنان اور شام کی خانہ جنگی میں عملی شرکت۔ پراکسیز پر اتنا اصرارکہ پاکستان جیسے خیرخواہ کے مشوروں کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ پاکستان کو مجبور ہو کر وارننگ دینا پڑی کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان اور ایران میں تصادم ہو سکتا ہے۔ ایرانی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ بہت سنجیدہ ہو چکا۔
یہ بات سیاسی قیادت تو سمجھ سکتی ہے، عسکری اندازِ نظر نہیں جو انتقام کے نعرے لگا رہا ہے۔ ایران کو انقلابی نہیں،سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ اس انقلابی سوچ نے ایران کی سیاسی قیادت کو بھی مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ریاست کے اندر موجود متبادل نظام نے صدر اور دوسرے ذمہ داران کی حیثیت کو مجروح کیا ہے۔ انقلابی سوچ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کرنے والا ہر آدمی غدار قرار پاتا ہے۔ سرخ انقلاب اور سبز انقلاب کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ اس خوف سے اصلاح پسند ایران میں کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ یہ اندیشہ بڑھ رہا ہے کہ انتہا پسندوں کا یہ تصادم مزید بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ طارق علی نے تو نہیں لکھا مگر واقعہ یہ ہے کہ سوویت یونین اور امریکہ کی کشمکش بھی انتہاپسند بیانیوں ہی کا تصادم تھا۔
تصاد م اور جنگ غیر فطری ہیں۔ ان کو محدود وقت ہی کے لیے برداشت کیا جا سکتا ہے، جیسے ہم بیماری کو برداشت کرتے ہیں۔ بیماری آ جائے تو ہم علاج میں جلدی کرتے ہیں۔ جنگ ایک بیماری ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ ایران اس سے نجات کے لیے جلدی کرے۔ وہ تصادم پسندوں کے بجائے مصلحین کی طرف رجوع کرے۔
سوئے مادر آ کہ تیمارت کند
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)