کشمیر پالیسی میں جوہری تبدیلی

میر واعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی، مظفر وانی اور مجید ڈار اس طرف تو سید صلاح الدین، مسعود اظہر، حافظ سعید اور الیاس کاشمیری اور اس سوچ کے حامل مذہبی شدت پسند دوسری طرف سے کشمیریوں کو لیڈ کرتے۔

شوپیاں، پلوامہ، اننت ناگ، بارہ مولا جیسے شہر اور علاقے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے سانس نہیں لے سکتے تھے اور پاکستان میں سرکاری طور پر مظاہرے جماعت اسلامی یا لشکر والے مرتب کرتے۔ دونوں طرف کے مظاہروں میں بنیادی فرق، خواتین کی موجودگی اور عدم شرکت، اور ساتھ ساتھ جذباتی ماحول اور سرکاری نظم و ضبط کا اظہار ہوتا۔ انڈین کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوتی اور پاکستانی کشمیر میں داڑھی اور مسواک والے ترتیب سے مظاہرے کرتے۔

پاکستانی خبر نامہ انڈین کشمیر میں جاری جدوجہد کی خبروں اور آپٹکس کے بغیر نامکمل ہوتا۔ پاکستان میں ایسی سیاسی جماعت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی جو آزاد متحدہ کشمیر کی حامی ہو یا کشمیر بزور شمشیر کا قائل نہ ہو۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ، غیر محسوس طریقے سے، شمشیر کے حامی غائب کردیے گئے اور مشال ملک اہمیت اختیار کرگئی، جس کا شوہر متحدہ آزاد کشمیر کا حامی ہے اور انڈیا کی ایک جیل میں پھانسی گھاٹ کا رہائشی ہے۔ خاتون کو گزشتہ عبوری حکومت کی کابینہ میں انسانی حقوق کا سرکاری عہدہ دیا گیا تھا۔

اتنی ساری جوہری تبدیلیاں دیکھنے کے بعد کیا میرا یہ سمجھنا صحیح ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے؟ یہ تبدیلی عمران خان کے دور حکومت میں باجوہ ڈاکٹرین کے تحت لائی گئی تھی، جب ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد عمران خان نے بڑے ورلڈ کپ لانے کی خوشخبری سنائی تھی۔ اور ابھینندن کو مودی کو جتوانے کیلئے تحفے میں دیا تھا۔
موجودہ صورت حال میں، میری نظر میں پاکستان کیلئے بہترین حکمت عملی یہ ہوگی کہ ہمارے کشمیر میں ایک ایسی قوم پرستانہ تحریک اٹھائی جائے جو دوسری طرف کے کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملائے اور متحدہ آزاد کشمیر کیلئے جدوجہد شروع کرے۔ پاکستان اسے آزاد ملک تسلیم کرتا ہوا، دوسری طرف کے کشمیر کو ساتھ ملانے اور آزاد کرانے کیلئے ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرے۔

کشمیریوں کو ہر قسم کی مدد دیں اور خود سامنے نہ ائے اور بیرون ملک بہت اچھی پوزیشنوں پر موجود کشمیری، اس نئی سیاسی اور مزاحمتی صورتحال کو عالمی فورموں پر اٹھاکر انڈیا کو عالمی رائے عامہ کے سامنے ولن ثابت کریں۔ پاکستان کے اس عملی کردار کو اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں مثالی بناکر پیش کریں۔ اور دنیا کو قائل کریں کہ انڈیا کشمیر میں قابض قوت ہے۔ کامیابی ملے گی تو نئے متحدہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہوں گے۔ کشمیر کی جغرافیائی اہمیّت کو دیکھتے ہوئے، باہمی مسابقت میں، چین، امریکہ اور روس ہر صورت میں مثبت مداخلت کی خواہش رکھیں گے۔ جو مقصد بذریعہ شمشیر حاصل کرنا ممکن نہ ہو سکا، وہ بذریعہ تدبیر ممکن ہو جائے گی۔

کشمیر بھارت سے واپس چھیننا، بغیر جنگ کیے، اس کے لئے سازگار ماحول بنانا، سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھرپور محاذ کھولنا، اور کشمیریوں کو ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد کرنا، پاکستان کی نئی سٹریٹیجی کے اہم نکات ہوں گے۔ آزاد کشمیر میں رواں انتشار، کشمیر کی خودمختاری، آزادی یا کسی سیاسی مطالبہ کی وجہ سے شروع نہیں ہوئی۔ بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج پاکستان بھر میں شروع ہوئی، جس کی وجہ سے مہنگائی ختم ہوئی نہ بجلی سستی کردی گئی۔ اور جس تیزی سے یہ احتجاج پورے ملک میں پھیلا تھا، اتنی تیزی سے خود بخود معدوم بھی ہو گیا۔

ایسا بہت کم ہوا ہے کہ پاکستان اور کشمیر میں مہنگائی کے خلاف ایک ساتھ کوئی احتجاج شروع ہؤا ہو۔ کشمیر کے اپنے حالات اور وہاں کی سیاست کا منفرد رویہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ حیرت ناک ہے کہ پاکستان میں شروع کی گئی احتجاجی تحریک کشمیر پہنچی او کمزور ہونے کا نام نہیں لیتی۔ کبھی کوئی احتجاج کشمیر میں ہوتی بھی رہی ہو تو اس کی سرخیل کوئی پرو پاکستانی جماعت ہوتی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کشمیر میں کوئی قوم پرست جماعت پورے کشمیر کو بھڑکا کر بند کردے۔ جس سے تاثر بنتا ہے کہ مذہبی جماعتوں کی غیر موجودگی میں اتنا بڑا احتجاج پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے۔ اگر حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں تو بہتر ہوگا نئی پالیسی کے تحت کشمیر کو بھارت سے واپس چھیننا، بغیر جنگ کیے اس کے لئے سازگار ماحول بنانا، سیاسی اور سفارتی میدانوں میں بھرپور محاذ کھولنا، اور دونوں طرف کے کشمیریوں کو ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد کرنا، پاکستان کی نئی سٹریٹیجی کے اہم نکات ہونے چاہئے۔

یہ شہباز شریف کی گزشتہ حکومت تھی، جس کے کچھ فیصلوں کے بعد مظفر آباد، پونچھ کی طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر سے متصل پاکستانی علاقوں استور اور سکردو میں بھی، یہ احتجاجی تحریک پنپنے لگی تھی۔ جو کشمیر کی طرح مہنگائی کی پیدوار نہیں تھی بلکہ شہباز حکومت نے جاتے جاتے، مسلکی بنیادوں پر، بلا ضرورت متنازعہ قانون سازی کرکے جان بوجھ کر پیدا کردی تھی۔ جس کو اس وقت کچھ تجزیہ نگار شمالی علاقوں کے مذکورہ انتشار کو چین اور امریکہ کے درمیان عالمی تنازعہ کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاکہ سی پیک کا راستہ مخدوش کیا جائے لیکن ایسا ہوتا تو پھر پاکستانی پارلیمنٹ سے مسلکی بنیادوں پر مبنی مذکورہ قانون سازی کا کیا جواز ہوگا؟

ایک تو پاکستان نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ان گروہوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھا دیا ہے جو مذہبی پہچان رکھتے ہیں، جو کشمیر بزور شمشیر کا نعرہ لگا کر، اسے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خاطر آزاد کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ساتھ اپنے کیے پر پچھتاوا ظاہر کرنے کے باوجود یاسین ملک پر بھارت میں مقدمہ چلایا جانا بے تکا ہے۔ تو بغیر کسی میرٹ کے یاسین ملک کی بیوی کا پاکستان کی نگران کابینہ میں، نامزدگی کی کوئی توضیح، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ سات دہائیوں پر مشتمل کوششوں کی ناکامی کے بعد موجود دوسرے آپشنز پر کام کیا جائے۔
مہنگے آٹے اور بھاری بجلی کے بلوں سے پیدا کیا گیا پاکستانی کشمیر میں جاری بظاہر مہنگائی کے خلاف احتجاج، اس احتجاج سے سرکاری مذہبی جماعتوں کی دوری، بھارت میں دوبارہ گرفتار یاسین ملک، اور پاکستان کی سابقہ عبوری حکومت میں شامل اس کی بیوی، ایسے کافی نکات ہیں، جو باہم ملائے جائیں تو لگتا ہے کہ پاکستان اپنی پرانی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر تیار ہوگیا ہے۔
اس صورت حال کو دیکھ کر کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان کشمیر پر اپنا بیانیہ کھو چکا ہے۔ اس لیے کشمیر میں قوم پرست چھاتے جا رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہی پاکستان کا نیا بیانیہ ہے جو کشمیر میں ایوالو ہونے دیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان چاہتا ہے کہ وہ اس نئے بیانیہ سے خود کو دور رکھے بلکہ اس کی شدید مخالفت کرے۔

اس نئی سٹریٹجی سے پاکستان کے تمام مفادات یعنی پانی، سرحد، جغرافیہ، چین کے ساتھ رابطہ اور سارا کشمیر بیک وقت، سب محفوظ ہوجاتے ہیں، جو وہ ماضی میں ہزار کوششوں اور کئی جنگوں کے باوجود حاصل اور محفوظ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)