ولایت فقیہ کا جنازہ اور ٹرمپ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 18 / جولائی / 2026
قسط3)
بلا شبہ ایران میں لبرل سیکولر ذہن کے حاملین شیعہ عوام تعداد میں راسخ العقیدہ لوگوں سے کم نہیں، زیادہ ہیں۔ بیرونی ممالک میں آباد بڑی ایرانی کمیونٹی کی بھرپور حمایت بھی انہیں حاصل ہے لیکن ان لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان اسلامی جہادی ملاؤں جیسی عقیدت حاصل کر سکتے ہیں، نہ ان کی طرح اپنی جانیں قربان کرتے ہوئے رتبہ شہادت پر فائز ہو سکتے ہیں۔
وہ شاید اخروی جنت کی بجائے اپنی موجودہ دنیا کو بہشت بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور اسلامی پاسداران کی طرح زندگیاں قربان نہیں کرنا چاہتے۔ اس پس منظر کے باوجود ایرانی رجیم کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ آج اکیسویں صدی سے گزر رہے ہیں، کوئی ساتویں یا آٹھویں صدی عیسوی کے باسی نہیں ہیں۔ مذہب کا جنونی ہتھیار آخر کب تک چلے گا؟ آج آپ کی قوم کو خون ریزی و جنونیت کی نہیں ایک پرسکون خوشحال زندگی کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ جیسے غیر ذمہ دار لیڈر کی حماقتوں سے بلا شبہ آپ لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے، لیکن تلخ زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔ آپ اپنے انقلاب کو دیگر سنی یا شیعہ اقوام میں برآمد کرنے کی لاحاصل خواہشات سے دستبردار ہو جائیں۔ یہود یا اسرائیل دشمنی کا خبط اپنے اذہان سے کھرچ ڈالیں۔ حماس اور حزب اللہ جیسی جنونی و خونی پراکسیوں سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اپنی خلیجی سنی عرب اقوام کے ساتھ مخاصمت کو ختم کرتے ہوئے ساتویں نہیں اکیسویں صدی کے تقاضوں کا ادراک کریں۔
جیسے تیسے اپنے تحفظات کے باوجود اگر وہ خامنائی کے جنازے میں نئی شروعات کے ساتھ آ ہی گئے تھے تو آپ لوگوں کو دلجوئی کی بجائے طنزیہ اسلوب اپناتے ہوئے، قرآنی آیات کے ذریعے دل شکنی کا پیغام نہیں دینا چاہیے تھا۔ اگر آئے مہمانوں کو آپ یہ طعنے دیں کہ آپ لوگ اہل ایمان کے نہیں کفر کے ساتھی ہیں، ترکوں کو کہیں کہ تم لوگ پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جیسے ہیں۔ آیات کی یہ مار مارتے ہوئے آپ لوگ ذرا وہ منظر نامہ ضرور ملاحظہ فرمائیں، جب دمشق کی اموی مسجد میں لٹے پٹے کربلا کے حسینی قافلے کو اپنے پاس آنے پر اس نوع کی آیات سنائی جا رہی تھیں، وتعز من تشا وتذل من تشا یعنی قرآنی آیات کے ذریعے اہل بیت کو یہ جتلایا جا رہا تھا کہ خدا نے جسے چاہا ہے اسے عزت دے دی ہے اور جسے چاہا ہے اسے ذلت دے دی ہے۔
آج آپ مانتے ہیں کہ امویوں کا اپنے مطلب کی مطابقت میں قرآنی آیات کا منفی استعمال غلط تھا، اگر یہ طعنے بازی تب غلط تھی تو آج بھی غلط ہے۔ آپ لوگوں کو امویوں کی روایات پر ہرگز نہیں چلنا چاہیے تھا، جن کے خلاف آپ لوگ چودہ صدیوں سے بولتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اہل بیت سے سیاسی مخالفت کو مذہبی مخاصمت میں بدلنے کی کوشش کی، اب آپ لوگوں کو ان کے برعکس رویہ اپناتے ہوئے نفرت کی بجائے محبت اور دلجوئی کی زبان اپنانی چاہیے۔
خلیجی عرب ممالک میں سے آپ ملاحظہ فرمائیں متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے جنازے میں شرکت سے صاف انکار کر دیا۔ دیگر عرب ممالک کا بھی بس یہی معاملہ رہا، آ جا کے اگر سعودی عرب اور قطر نے اپنے وفود سپریم لیڈر کے جنازے میں بھیجے تو انہیں پہلے آیتوں کی مار ماری گئی اور پھر ہرمز میں گزرتے ہوئے انہی کے جہازوں پر میزائل مارے گئے۔ اس طرح تو خطے میں امن و سلامتی یا مذہبی و سیاسی یکجہتی ہرگز قائم نہیں ہو سکتی۔ اس کوتاہ اندیشی کی آؤٹ پٹ کیا نکلی ہے؟ آپ لوگوں کو امن معاہدے سے وہ ثمرات ملنے جا رہے تھے جن سے ایرانی عوام کی معاشی بدحالی کا کچھ نہ کچھ مداوا ہو سکتا تھا، اب اس کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ گلف کے جو عرب ممالک آپ کی طرف بہتر تعلقات کے لیے ہاتھ بڑھا رہے تھے، خود آپ نے انہیں جھٹک دیا ہے۔ امریکی پریزیڈنٹ کو بہانہ مل گیا ہے کہ وہ اپنے دستخطوں سے کیے ہوئے معاہدے کو ختم کرنے کے بیانات دینا شروع کر دے۔ اب اگر خدا نخواستہ پھر جنگ چھڑی تو بلا شبہ آپ اسرائیل پر بھی میزائل داغیں گے اور اپنے ہمسایہ عرب ملکوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہوئے انہیں سبق سکھلائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے آپ کو کیا ملے گا؟
سنتالیس برسوں سے مصائب و مسائل اور دکھوں میں گرفتار نو کروڑ ایرانی عوام کو کیا مل جائے گا؟ یہ کہ ان کا ایرانی ریال مزید ڈی ویلیو ہو جائے، ان کے معاشی دکھ مزید بڑھ جائیں، کسی بھی قوم کو پیہم اس نوع کے جنگی جنون میں رکھا جائے تو اس کے منفی اثرات نئی نسلوں تک کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ افراتفری و انارکی میں کچھ بھی ہو، ترقی و خوشحالی نہیں ہو سکتی۔ آج الحمدللہ رہبر اعلیٰ سید علی خامنائی کی اپنے کنبے کے ساتھ اپنے شہر مقدس میں تدفین ہو گئی ہے۔ لیکن یہ کوئی آئیڈیل صورت حال تو نہیں۔ امام خامنائی اور ان کے کنبے کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا ہے، یہ خوشی کی نہیں دکھ کی بات ہے۔ اسے گلوریفائی کرنا مزید افسوسناک ہے۔
خدا کرے کسی کو کبھی ایسی چوٹ نہ پہنچے۔ سرخ جھنڈوں کے جھرمٹ سے آپ نے اپنے لوگوں میں انتقام کی جو آگ بھری ہے، یہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا سر لیے بغیر ٹھنڈی نہ ہوگی۔ اب امام مہدی سے بھی زیادہ کسی مختار ثقفی کے ظہور کا انتظار رہے گا۔