نورین خان کا افسوسناک بیان

عمران خان کی بہن نورین خان نے گزشتہ مئی میں پاک بھارت جنگ کے بارے میں بیان دے کر  اپنی سادہ لوحی اور لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔  اس موضوع کی حساسیت اور تحریک انصاف  کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ بیان ان کے بھائی کے مقصد اور  مؤقف کو کمزور کرنے  کا  باعث بنے گا۔

 اس قسم کے بیان تحریک انصاف کے بارے میں اس سرکاری نقطہ نظر کو مضبوط کریں گے کہ عمران خان، ان کے اہل خاندان اور حامی درحقیقت فرد کو ریاست پر ترجیح دیتے   ہیں۔ اگر عمران خان  کو سیاسی طور سے  اقتدار حاصل نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک پاکستان کی بھی کوئی  اہمیت و حیثیت نہیں ہے۔ یہ تاثر صرف کسی سیاسی پارٹی ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی پاکستانی شہری کے لیے باعث شرم  ہونا چاہئے۔ نورین خان کا یہ دعویٰ  کسی عقلی  استدلال پر پورا نہیں اترتا کہ  ’پاک بھارت جنگافواجِ پاکستان اور مودی کا گٹھ جوڑ تھا۔ بھارت نے اسرائیل کے کہنے پر پاکستان پر حملہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے  والا تھا‘۔     نورین خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مودی کے ساتھ مل کر ڈراما کیا گیا۔ مودی چاہتا تو دو منٹ میں انہيں فکس کر دیتا۔ وہ اس لیے رکا کہ اسرائيل ان کے پیچھے تھا۔انہوں نے پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کروانا تھا۔ ٹرمپ بھی اسی لیے ان کی تعریفیں کرتا ہے، ورنہ آپ کا کیا خیال ہے، یہ ٹرمپ کو اچھے لگتے ہيں‘۔

نورین خان کی دلیل یہ ہے کہ پاکستان  سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے  ’جنگ کا ڈرامہ‘ رچایا گیا تھا اور پاکستانی فوج کو  ’نام نہاد فتح‘ دلوائی گئی تھی تاکہ پاکستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ تو سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا  ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی دس بیس سالہ منصوبہ  کا حصہ تھی؟ کیوں کہ پاکستان نے تو ابھی تک نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے معاملات طے کرانے کے دوران اس قسم کی افواہیں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان بھی شاید ان ممالک میں شامل ہے جو ابراہم اکارڈ میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دور  ہ واشنگٹن کے دوران ایسی خبروں کی واشگاف الفاظ میں تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کے بارے میں اپنی رائے تبدیل نہیں کرے گا جب تک اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی۔ اس  واشگاف اعلان کے بعد کوئی دشمن ہی  اس سوال پرپاکستانی حکومت کی نیک نیتی اور پالیسی کے بارے میں حرف زنی کی کوشش کرسکتا ہے۔

نورین خان نے  ایک  ٹیوب چینل  پر اس انٹرویو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے  بھارتی وزیر اعظم ایک بہت بڑے ملک کے  حکمران  ہیں اور پاکستانی فوج کو دو منٹ میں سبق سکھا سکتے ہیں۔ لیکن نورین خان سمجھتی ہیں کہ  انہوں نے پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے مقصد سے   گزشتہ مئی کی چار روزہ جنگ میں اپنی فوج کو لگام دے رکھی اور پاکستان کو کامیابی حاصل کرنے دی تاکہ ان کا اور امریکہ کا یہ  ’عظیم مقصد‘ پورا ہوسکے۔ اگریہی  ان کا  یہ مؤقف درست  ہے تو  پھر انہیں یہ ’انکشافات‘ بیان کرنے کی بجائے خود  سے سوال کرنا چاہئے کہ آخر پاکستان میں ایسی کون سی بڑی بات ہے کہ بھارت کا وزیر اعظم  ملی بھگت سے اپنے ہی ملک کی مٹی پلید کرالیتا ہے اور قومی وقار خاک میں ملاتا ہے اور امریکی صدر ایسے پاکستانی لیڈروں کے حق میں بیان دیتے ہیں جنہیں وہ ’ہرگز پسند نہیں کرتے‘۔ کاش نورین خان کا یہ حسن ظن درست  ہوتا اور عمران خان کو ’عظیم لیڈر‘ سمجھنے والے ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کے بعد واقعی  ان کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا کوئی طریقہ  اختیار کرتے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف  سے واشنگٹن میں  لابی فرموں کو کثیر ادائیگیوں کے باوجود امریکی حکومت نے پاکستان کےساتھ اس موضوع پر بات کرنے  کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

پاک بھارت جنگ کے حوالے سے نورین خان کے بیان کا حقیقی  مقصد پاک فوج کو بے توقیر اور کم تر ثابت کرنا  معلوم ہوتا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے  احتجاج اور  تشدد آمیز مظاہروں کے بارے میں بھی ایسا ہی   مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ فالس فلیگ آپریشن تھا تاکہ تحریک انصاف پر الزام لگا کر اس کے لیڈروں کو قید اور پارٹی پر پابندی لگائی جاسکے۔  تحریک انصاف کا کوئی لیڈر اپنے اس بے بنیاد مؤقف کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ تاہم یہ معاملہ پھر بھی ملک کے اندر رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں تھا۔ تحریک انصاف نے غلط سیاسی طریقے اختیار  کرکے ، ان کی بھاری قیمت بھی ادا  کی ہے لیکن نورین خان  نے پاک بھارت جنگ کے بارے میں بے بنیاد اور مضحکہ خیز بیان دے کر  اسی  ملک کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی وہ خود بھی شہری ہیں۔ انہیں تو یہ بتانا  چاہئے کہ کیا وہ پاکستانی ہونے پر شرمندہ ہیں اور کیا کسی ملک سے محبت محض ایک شخص کے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کی بنیاد پر طے ہوسکتی ہے؟

عمران خان نے کبھی پاک فوج کے خلاف بیان بازی نہیں کی  ۔ لیکن بدحواسی کے عالم میں ان کی بہن  ایسے بیان دینے کا سبب بنی ہیں جسے ملک دشمنی قرار دیا جاسکتا ہے۔  عمران خان تو آج بھی پاک فوج سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔   البتہ فیلڈ عاصم منیر کی سربراہی میں پاک فوج ان سے یا تحریک انصاف  سے معاملات طے نہیں  کرنا چاہتی۔  اس طرح  عمران خان اور تحریک انصاف کا تنازعہ فوج کے ساتھ نہیں بلکہ  اس کے ایک افسر کے ساتھ  ہے۔ نورین خان کا بیان عمران خان کی سیاسی پوزیشن کے برعکس اور تحریک انصاف کی حکمت عملی سے متصادم ہے۔  ایسے بیانات عمران خان یا تحریک انصاف کے مؤقف کو کمزور کریں گے۔ یہ صورت حال ملک میں سیاسی جد و جہد اور شہری آزادیوں کے مقصد کو نقصان پہنچائے گی۔

بہتر ہوگا کہ نورین خان اور عمران خان کے دیگر ہمدرد اس مشکل گھڑی میں ایسے  من گھڑت بیانات دینے سے گریز کریں  کیوں کہ ان سے ملکی سیاست  پر لوگوں کا اعتبار کمزور ہوگا۔ یہ بے یقینی  دیگر سیاست دانوں کی طرح عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے بھی  نقصان دہ ہوگی۔   دوسری طرف ایسے افسوسناک مگر بچگانہ بیانات کو اچھالنے اور ان پر مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع کرنے  کی بجائے انہیں نظر انداز کرنے کا  طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔  بے بنیاد بیانات خود ہی اپنی نامعقولیت کی وجہ سے  بے اثر اور غیر اہم ہوجاتے ہیں۔