امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار پاسداران کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کمانڈر اِن چیف یعنی امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھویں رات کیے جانے والے حملوں کے دوران امریکی افواج نے ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی اور فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران امریکی فوج نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔
دریں اثنا ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے شہری علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں ’آپریشن لائٹننگ‘ کے 17ویں مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
اس کارروائی میں ایک بار پھر کویت میں واقع کیمپ الادیری میں امریکی ’اسلحہ گودام‘ اور علی السالم ایئر بیس پر ’ساز و سامان اور اہلکاروں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد سے کویت میں امریکی ٹھکانے ایرانی حملوں کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔
اس دوران امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سلامتی کی صورتِ حال کو بدستور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ٹریول ایڈوائزری یا سفری ہدایت نامے میں امریکی شہریوں کو بدستور احتیاط سے کام لینے اور تازہ پیش رفت سے آگاہ رہنے کے لیے خبروں پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر علاقوں میں واقع امریکی سفارتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’ایران کے حامی گروہ بیرونِ ملک امریکی مفادات یا دنیا بھر میں امریکہ اور امریکی شہریوں سے وابستہ مقامات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘