پاکستان، کینیڈا میں سرمایہ کاری اور سلامتی کے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
اسلام آباد میں کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط پر استوار ہیں اور کینیڈا میں مقیم متحرک پاکستانی برادری ان تعلقات کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، آئی ٹی، زراعت، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح ہے اور کاروباری روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ زراعت کے شعبے میں نئے پروٹوکول پر جلد دستخط کیے جائیں گے، جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی کے لیے عالمی حمایت کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں افغانستان، جموں و کشمیر سمیت علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ پاکستان نے علاقائی امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے پاکستان میں پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قریباً 20 برس بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو 80 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ کینیڈا آئندہ 10 برس میں غیر امریکی تجارت کو دوگنا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں پاکستان ایک اہم شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔
انیتا آنند نے کہا کہ 3 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد کینیڈین دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تحفظ کے نئے معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی، جس سے کاروباری برادری کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے اور کینیڈین کینولا، چنے اور دالوں کی برآمدات میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ جبکہ کینیڈا پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل اور کھیلوں کے سامان کی درآمد کا بھی خیرمقدم کرتا ہے۔ کینیڈین وزیر خارجہ نے قابل تجدید توانائی، ریکوڈک منصوبے اور دابیجی ونڈ و سولر منصوبوں میں تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کینیڈا کا اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے ایران سے متعلق مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
انیتا آنند نے پاکستان کے لیے 22 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کے نئے سیکیورٹی اقدامات اور 45 ملین ڈالر مالیت کے 3 نئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، مقامی آبادی کی استعداد کار بڑھانے، لڑکیوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سلامتی اور ترقیاتی تعاون کے فروغ سے پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔