ایران مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

  • سوموار 20 / جولائی / 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے، امریکا ایران کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا۔ ایران نے بھی امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلہ کی تصدیق کی ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اب بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکا ایرانی اقدامات کے جواب میں اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے دے رہا ہے۔ ایران کے اندر معاشی بحران کے باعث پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ایران میں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران میں مذاکرات کے حامی فیصلہ سازی میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہئے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دیگر ممالک کو بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں حصہ ڈالنا چاہئے اور اس مقصد کے لیے فوجی سازوسامان، بحری وسائل یا مالی معاونت فراہم کرنی چاہئے تاکہ عالمی بحری تجارت کے تحفظ کی ذمہ داری مشترکہ طور پر ادا کی جا سکے۔

دریں اثنا ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ لڑائی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ثالثوں کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے، ہمیں امریکا کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات میں نہیں جائیں گے، اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں سفارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں اور بعض ثالثوں نے مختلف تجاویز اور پیغامات ہم تک پہنچائے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم بارہا واضح کر چکے ہیں کہ خطے کے ممالک سے ہماری کوئی دشمنی نہیں۔ لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں اور اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یہ حملے اور جارحیت جاری رہے گی، ہماری مسلح افواج بھی اس کا جواب دیتی رہیں گی۔