کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟

اپنے یاں کی روایت ہے کہ یہاں سکون زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم سکون کو سیاسی طوفانوں کے مابین،  وقفے کے طور پر جانتے ہیں۔ ایک بحران گزرتا ہے تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔

اپنا المیہ یہ ہے کہ ایک اندھیری رات کٹتی ہے تو پھر بھی سورج نہیں نکلتا، روشنی نہیں ہوتی۔ افواہوں میں رہنے والے لوگ، خدشوں میں پنپنے والے دانشور، خطرات میں تفکر کرنے والے اہلِ عقل،  موقع دیکھتے ہیں تو خبر تخلیق کرتے ہیں، تجزیے تجویز کرتے ہیں۔ خواب کو حقیقت بناتے ہیں۔ خواہش کو حالات بتاتے ہیں۔ ’اچانک‘ ہی بہت کچھ ہونے لگا ہے۔  لگتا ہے بساط الٹنے لگی ہے۔ بازی پلٹنے لگی ہے۔ بہت سے محاذ کھل گئے ہیں۔ بہت سی جنگیں درون و برونِ خانہ درپیش ہیں۔ ’سب کچھ ٹھیک‘ کا نعرہ مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی محاذ پر گڑبڑ کی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ طالع آزما اسی لمحے کے منتظر تھے۔ ان کے بقول ریت کی دیوار کے مقدر میں انہدام لکھا ہوتا ہے۔ ظلم کی رات کو ڈھلنا ہوتا ہے۔ کڑے سے کڑے وقت کو گزرنا ہوتا ہے۔

کشمیر میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا جن اب بوتل میں بند نہیں ہو رہا۔ جنہوں نے اس جن کو آزاد کروایا، وہی اب اس سے نجات کی دعا کر رہے ہیں۔ حقوق کے لیے چلائی گئی تحریکوں کا المیہ یہی ہوتا ہے کہ ان کو ہائی جیک کر لیا جاتا ہے۔ بات اتنی ہوتی نہیں، جتنا بتنگڑ بن جاتا ہے۔ واقعہ اتنا نہیں ہوتا، جتنا شور پڑ جاتا ہے۔ سستی بجلی طلب کرنے والوں کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔ یہ لوگ وہ نعرے لگا رہے ہیں جن سے وادی کے لوگوں کی سماعتیں نامانوس ہیں۔ کہا جاتا ہے ستائیس جولائی کے انتخابات ہی حل ہیں۔ عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں زمامِ کار دینا ہی دانش ہے لیکن کیا اس فیصلے تک پہنچنے میں بہت دیر ہو گئی ہے؟ کیا بیانیے کی جنگ کشمیر میں ڈھیر ہو گئی ہے؟

گزشتہ ہفتے مولانا کے بیان نے چینلوں پر سب سے زیادہ ’رش‘ لیا۔ مولانا سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ ساری عمر کبھی کوئی ناشائستہ جملہ، کوئی ناگفتہ بات ان کی زبان سے نہیں نکلی۔ زبان پھسلنے کا رواج ان کے ہاں ہے ہی نہیں۔ وہ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں۔ ٹھوک بجا کر بیان دیتے ہیں۔ انہوں نے جو بات کہی ہے، اس کی مذمت تو کی جا سکتی ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بات سہواً  سرزد ہو گئی ۔ طرہ یہ کہ ان کی جماعت کے لوگ جس طرح مولانا کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں، اس سے بھی خوش فہمیاں دور ہو گئیں۔ مولانا برہم بھی ہیں اور مصر بھی۔ شہدا کی حرمت سے مولانا سے زیادہ کون واقف ہو گا؟ سوال یہ نہیں کہ مولانا نے ایسا بیان کیوں دیا؟ سوال یہ ہے کہ مولانا نے یہ بات کس کو سنائی؟ کس کو بتائی؟  کس کی کارکردگی سے وہ عاجز ہیں؟ ناراضی کسی فرد سے ہے یا ادارے سے؟ مخاطب کون ہے اور مقابل کون؟ یہ سمجھ آ جائے تو بات سلجھ جائے مگر جب تک رسی کا سرا نہ ملے تو گول گول گھومنے سے حل نہیں ملتا، ’گنجل‘ پڑ جاتے ہیں۔

بلوچستان کے معاملے میں شیر جوان روز قربانیاں دے رہے ہیں۔ آپریشن جاری ہےمگر دہشتگردوں کے حملے نہیں رک رہے ہیں۔ افغانستان سے ان کی کمک ختم نہیں ہو رہی۔ بھارت سے ان کی امداد بند نہیں ہو رہی۔ شجیع افواج وطن کا پوری قوت سے دفاع کر رہی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف فوج کی شجاعت کا نہیں، سیاست کے زورِ بازو کا بھی ہے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، بسا اوقات وہ بلوچستان کے سیاسی محاذ پر تنہا محسوس ہوتے ہیں۔ سیاسی میدان میں مراعات لینے والے خاموش ہیں اور ایک شخص تنہا میدان سیاست میں پورے لشکر کی جنگ لڑ رہا ہے۔

پیٹرول کی قیمت سوہانِ روح بن چکی ہے۔ حکومت کی کارکردگی صرف اس بات تک محدود ہے کہ اب پیٹرول کا بم ہفتہ وار نہیں بلکہ روزانہ عوام کے سر پر پھٹے گا۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ بھوک اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے سفارتی سربلندیاں اور عسکری کامرانیاں دھندلا رہی ہیں۔ مہنگائی سے لوگ اب چیخ نہیں رہے، خاموش ہو گئے ہیں۔ چپ سادھ لی ہے۔ یہ خامشی کسی طوفان کی دلیل بھی ہو سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ میرے ایڈیٹر رہے ہیں۔ دل میں ان کا بہت احترام ہے۔ ان کے کالموں میں بھی اب نظام سے اکتاہٹ واضح نظر آ رہی ہے۔ سسٹم کے لپٹنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ وہ بھی ونڈر بوائے کے منتظر ہیں لیکن خود ایک کالم نگار ہوتے ہوئے مجھے یہ کہنے کا حق ہے کہ کالم نگار اگرچہ اہم ہوتے ہیں، یہ سوچ کی تشکیل کرتے ہیں، درست راہ تجویز کرتے ہیں، بیانیہ تخلیق کرتے ہیں، مگر ان کے حکم سے حکومتیں نہیں گرتیں۔ تخت نہیں الٹتے۔

وکلا نے بھی تلواریں سونت لی ہیں۔ لانگ مارچ کی دھمکیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ ابھی یہ قوم گزشتہ وکلا تحریک کے زخم چاٹ رہی ہے کہ وکلا کی جانب سے نئے انقلاب کی آوازیں آنا شروع ہو چکی ہیں۔ جس طرح مشرف کے دور میں وکلا کی تحریک ہائی جیک ہوئی، جس طرح آئین کے حق میں نعرے لگانے والے ارب پتی ہوئے، جس طرح آگ لگانے والوں کو  اعلیٰ عدالتی عہدے تفویض ہوئے، اس طرح کی تحریک کے لیے اب کوئی تیار نہیں۔ ایک سوراخ سے دوسری دفعہ ڈسے جانے کی کسی میں تاب نہیں۔

پی ٹی آئی کے محاذ پر محترمہ نورین نیازی کے بیان نے محبِ وطنوں کے دل میں آگ لگا دی۔ پی ٹی آئی سیاسی جماعت کے طور پر نامراد ہو چکی ہے، مگر جہاں موقع ملتا ہے، اس ملک کی اساس پر ضرب لگاتی ہے۔ بیرونِ ملک کشمیریوں کا احتجاج ہو، ملک میں کہیں اختلاف ہو، پولیس کی کہیں ناکامی ہو، پی ٹی آئی اس کو ریاست کی ناکامی سے تعبیر کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ مقامِ افسوس ہے کہ تحریک انصاف میں بہت سے شرپسند کسی سانحے کے منتظر رہتے ہیں۔ جلتی پر آگ لگاتے ہیں اور الزام ریاست کو دیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سب اچھا نہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ سب بُرا نہیں۔ گلاس اگر آدھا خالی ہے تو آدھا بھرا ہوا بھی ہے۔ انتشار پھیلانے والی قوتیں اگر موجود ہیں تو ان کو زیرِ دام لانے والے بھی ابھی حیات ہیں۔ ریاست کے خلاف کام کرنے والی قوتیں اگر سرگرم ہیں تو ریاست کا احترام کروانے والے بھی ابھی موجود ہیں۔ چند باتوں سے یہ سمجھنا کہ بات ختم ہو گئی ہے، مناسب نہیں۔

ملکوں کے حالات ایک دم درست نہیں ہوتے۔ وقت دینا پڑتا ہے۔ تحمل سے کام لینا پڑتا ہے۔ یقین رکھنا اور یقین کرنا پڑتا ہے۔ یاد رکھیں، جو قیادت بھارت جیسی بے مہار طاقت کو شکست دے سکتی ہے، بین الاقوامی سطح پر ثالثی میں سبز پرچم بلند کر سکتی ہے، نو مئی کے انتشاریوں سے نمٹ سکتی ہے، وہ  ملک کے مسائل بھی حل کر سکتی ہے۔ بس اس نشے کو توڑنے کی ضرورت ہے کہ کچھ ہونے والا ہے، اس لیے کہ کچھ نہیں ہونے والا۔

(بشکریہ: وی نیوز)