مولانا فضل الرحمان : اثاثے سے باغی تک کا سفر

اسلام آباد میں جمیعت علمائے اسلام  سے تعلق رکھنے والے وکلا کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ دنوں قصور میں  فوجیوں کی تنخواہوں کے حوالے سے دیے گئے بیان پر کسی شرمندگی کا اظہار کرنے سے انکار کیا ہے۔  ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی شہدا کی قدر کرتے ہیں ۔ ان کی تنقید فوج یا اس کے سپاہیوں پر نہیں بلکہ اس قیادت پر ہے  جو ملک میں غیر آئینی اقدامات کا سبب بن رہی ہے۔

یوں  انہوں نے بالواسطہ طور سے ہی سہی اپنے اصل مؤقف سے پیچھے ہٹنا  ہی مناسب سمجھا ہے۔ ورنہ قصور میں تقریر کے دوران انہوں نے جو الفاظ ادا کیے تھے، ان کے بارے انتہائی غیر جانبدار اور محتاط تجزیہ نگار بھی یہی مانتے ہیں کہ ان میں کوئی ابہام نہیں  تھا بلکہ مولانا جو عام طور سے ناپ تول کر بات کرنے کے عادی ہیں، اس معاملہ میں ٹھوکر کھاگئے یا ان کی زبان پھسل گئی۔ ایسی صورت میں کوئی بھی ذمہ دار لیڈر اپنی غلطی قبول کرکے اس کی اصلاح کرلے گا لیکن پاکستانی سیاست میں ایسا سیاسی کلچر فروغ نہیں پاسکا جس میں کوئی لیڈر کبھی اپنی غلطی مانے یا اس کے ساتھی یہ تسلیم کریں کہ ان کے رہنما  سے بھی کوئی غلطی  سرزد ہوسکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کو سیاست میں ساری زندگی گزارنے کی وجہ سے بخوبی اندازہ ہوگا کہ انہوں نے شہیدوں کو تنخواہ  لے کر لڑنے کا جو طعنہ دیا تھا ، وہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑ  کے مترادف تھا۔   اخلاقی طور سے کم تر ایسی گفتگو  کی توقع کسی سیاسی لیڈر سے تو کجا  کسی عام شخص  سے بھی نہیں  کی جاتی۔ بلکہ کسی عام آدمی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے خیالات کا اظہار کیا ہوتا تو اسے ابھی تک ’نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی‘ کا نوٹس موصول ہوچکا ہوتا  یا مقدمہ قائم کرکے قانونی کارروائی کا  آغاز کردیا جاتا۔ مولانا کی بدزبانی کا جواب تو چند وزیروں کے مذمتی بیانات کے ذریعے ہی دیا گیا ہے کیوں کہ مولانا بہر حال ان حلقوں کے چہیتے رہے ہیں  جنہیں عرف عام میں طاقت ور حلقوں کے ’اثاثے‘ بھی  کہا جاتا ہے اور جنہیں بروقت ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔

مولانا اس وقت  فوج  کی سیاست میں مداخلت اور آئینی جمہوریت کے جس اصول کی  دہائی دے رہے ہیں، ماضی میں وہ خود اس اصول کو روندتے ہوئے اقتدار کے مزے بھی لیتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ مان لینے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ مولانا کی ناراضی درحقیقت آئین کی بالادستی یا دھاندلی کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ انہیں  شاید موجودہ نظام میں مناسب اہمیت نہ ملنے کا غم ستاتا ہے حالانکہ انہوں نے  تحریک انصاف کی حکومت گرانے اور موجودہ نظام لانے میں  ہر ممکن تعاون فراہم کیا تھا۔

مولانا  زیرک سیاست دان کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے  پاکستانی سیاسی مزاج کے مطابق غلطی ماننے کی بجائے  بالواسطہ طور سے شہیدوں کے رتبے و مقام کا اعتراف کرکے اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے متعدد ساتھیوں کی شہادت کا تذکرہ کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوں شہید کو اعلیٰ رتبہ دیتے ہوئے درحقیقت وہ اس بیان سے  پسپائی اختیار کررہے ہیں کہ اگر کوئی فوجی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارا جاتا ہے تو اس کا کسی پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ وہ اس کی  تنخواہ وصول کرتا  رہاہے۔ اب وہی شہید مولانا کے لیے ڈھال بن چکے ہیں اور  انہوں نے فوجی قیادت پر  تنقید کے حق کا حوالہ دے کر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں ملک و قوم کا محسن بتایا۔ البتہ ستم ظریفی ہے کہ  اس کنونشن کی بعض رپورٹس  کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے فوجی قیادت پر الزام لگایا ہے کہ وہ شہیدوں کی آڑ میں  غیر آئینی اقدام کررہے ہیں جنہیں وہ کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔

مولانا کا ایک شکوہ تو مدارس کی رجسٹریشن اور خود مختاری کے حوالے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مدرسوں کا آڈٹ کرنے یا وہاں کے تدریسی نظام میں مداخلت کا کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح وہ مدرسوں کو طاقت کے ایسے مراکز بنا لینا چاہتے ہیں جو صرف چند علما اور منتظمین کی نگرانی  میں رہیں اور انہی کا حکم مانیں۔  مولانا خود  اپنی تنظیم کے  تحت مدارس کو اپنی سیاسی طاقت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔  حالانکہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کے بعد ایک بیس نکاتی قومی ایکشن  پلان بنایا گیا تھا جس کے تحت  ملک میں انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے مدارس کے نصاب اور مالیات کی نگرانی  بھی شامل تھی۔  ملک کے مذہبی لیڈروں کی مزاحمت کی وجہ سے قومی ایکشن پلان کے اس حصے پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا۔ مولانا فضل الرحمان ان مذہبی لیڈروں میں شامل ہیں جو کسی بھی قیمت پر مدارس کی خود مختاری کا دفاع کرتے ہیں۔ حالانکہ مالی معاملات اور نصاب کے سوال پر شفافیت اور قومی  ہم آہنگی پیدا  کرکے بھی  مدارس آزادی اور خود مختاری سے کام کرسکتے ہیں لیکن مالی  کنٹرول  کی نگرانی کے بعد شاید منتظمین مدارس کے لیے جمع ہونے والے وسائل کو اپنے سیاسی مقاصد  کے لیے مصرف میں نہ لاسکیں۔

فضل الرحمان نے ملک میں انتہاپسندی کے خلاف دیوار بننے کی شہرت بھی حاصل کی ہے۔ وہ بلاشبہ ان مذہبی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے طالبان  کے تشدد اور ریاست کے خلاف جنگ کو مسترد کیا ہے۔   ریاست اور فوج کی حکمت عملی کے ساتھ تعاون ہی کی پالیسی کی وجہ سے انہیں  مدارس کا ایسا نیٹ ورک قائم کرنے کا موقع بھی ملا ہے جسے وہ اپنی سیاسی  و سماجی طاقت کے طور پراستعمال کرتے ہیں۔ بوجوہ وہ اس طاقت سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔ البتہ تبدیل شدہ حالات میں فوج کے ساتھ فاصلہ بڑھنے کے بعد وہ اب اپوزیشن کے لیڈر بننے کی تگ و دو کررہے ہیں۔  لیکن کیا یہ جد و جہد محض اصولوں کی بنیاد پر ہے؟ کیا مولانا   نے معاملہ کے اس پہلو پر غور کیا ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر میں جب وہ شہدا کو تنخواہ دار اور فوجی قیادت کو شہیدوں کا’مجرم‘ قرار دینے جیسے دعوے کریں گے تو اس سے کن عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی اور کون کمزور ہوگا؟

فوج کی سیاست  میں مداخلت اور دھاندلی کے ذریعے موجودہ حکومت قائم کرنے کے معاملہ میں ان کی دلیل صرف اس وقت قابل غور ہوتی اگر وہ خود ماضی میں کبھی ایسے انتظام کا حصہ نہ رہے ہوتے یا انہوں نے ایجنسیوں  کے مہرے کا کردار ادا نہ کیا ہوتا۔  ابھی دو سال پہلے چھبیسیوں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کے پر کاٹنے کے عمل میں  بھی مولانا شامل  تھے لیکن اس کے بعد انہیں  ’جمہوریت کا بخار‘ زیادہ شدت سے لاحق ہؤا ہے۔ اس کے باوجود ہر شخص کی طرح مولانا کو بھی  اپنی رائے یا وفاداری تبدیل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے تاہم   ان کی  دلیل اسی وقت قابل غور ہوسکتی ہے اگر وہ ماضی میں اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور خود کو ہمیشہ سے جمہوریت کا چیمپئن ثابت کرنے کا طرز عمل ترک کریں کیوں کہ یہ تاریخی حقائق کے برعکس  ہے اور اسے مولانا کی  محرومی کا اظہار ہی سمجھا جائے گا۔

ملک میں اگر اس وقت ایسا ہائبرڈ نظام موجود ہے جس میں اصل اختیارات فوج کے پاس ہیں تو اس کے لیے میدان ہموار کرنے کے لیے ملک  کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی پارٹی اور لیڈر نے کردار ادا کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو اس معاملہ میں استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ فوج کی مداخلت کے بغیر جمہوری حکومت اس قوم کا بنیادی حق ہے۔ لیکن اگر فوج  نے اسے پامال کیا تو سیاسی لیڈر  بھی ہر مرحلے میں اس کے دست و بازو بنتے رہے ہیں۔ اس  طریقے کو تبدیل کرنے کے لیے کم از کم سب  سیاست دانوں کو  اپنی لغزش مان کر کوئی ایسا قانونی راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کے تحت ہائبرڈ کی بجائے ملک میں جمہوری  نظام کی  داغ بیل رکھی جاسکے۔ یہ کام الزام لگانے، دوسروں کو غلط  بتانے اور خود ہیرو بننے کی کوشش کرنے سے حاصل نہیں ہوگا۔ نہ ایک تقریر اور ایک نعرے سے یہ ریاستی انتظام  منہدم ہوجائے گا۔

مولانا بسم اللہ کریں ۔ خود بھی ماضی کے ’گناہوں‘ سے تائب ہونے کا اعلان کریں اور دیگر سیاسی لیڈروں کو بھی اس پلیٹ فارم پر  جمع ہونے کی دعوت دیں۔ پھر شاید ’ووٹ کو عزت دو  ‘ اور ’ حقیقی جمہوریت‘ کی خواہش کرنے والے بھی ان کے ساتھ ملنے کا  ارادہ ظاہر کریں اور ملک میں واقعی کسی خوشگوار تبدیلی کا آغاز ہوسکے۔