درامن میں آتش زدگی کے بعد عوام اور اداروں کا ذمہ دارانہ رویہ

سترہ جولائی کی دوپہر کو ناروے کے شہر درامن میں ایک ایسی شدید آگ بھڑکی جس نے آناً فاناً ایک بہت بڑے رہائشی علاقہ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ آگ سے ایک سو گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو ئےاور اس طرح پل بھر میں سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے۔

آگ کی شدت اور بربادی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے صدی کی آگ کہا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے ایک سو سال میں ناروے میں اتنے بڑے پیمانے پر آگ سے ہونے والے نقصانات کے کوئی شواہد نہیں۔ ابھی اس آگ کے بھڑکنے اور اتنے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے اسباب کا پتہ لگایا جارہاہے اور متعلقہ ادارے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ لیکن اس قومی المیہ کو دیکھتے ہوئے چند دوسرے پہلو بھی اُبھر کر سامنے آئے ہیں جو قابل توجہ ہیں اور جس نے نارویجن معاشرے کی کچھ مثبت اقدار کو ایک بار پھر آشکار کیا ہے۔

یہ اقدار اجتماعیت، بھائی چارہ اور انسان ہمدردی کی مظہر ہیں۔ جس کا مظاہرہ مشکل کی اس گھڑی میں درامن شہر میں پیش آنے والے اس المیہ کے دوران دیکھنے کو ملا، جب ہر سطح پر ان متاثرین کا سہارا بننے کے لیے ایک خلقت امڈ آئی۔ جہاں نارویجن رضاکارانہ جذبہ پیش پیش تھے، تو وہیں ریاستی ادارے بھی اپنی پوری استعداد کے ساتھ کمر بستہ ہو کر میدان میں تھے۔ ریاست جس کو کہا جاتا ہے کہ ماں کی طرح ہونی چاہیے تو اس حادثہ کے دوران نارویجن ریاستی ماں کی ممتا نے چھاؤں کا سائبان تان کر تمام متاثرین کو اپنے سایہ آغوش میں لے کر یہ ثابت کیا کہ نارویجن ریاست ایک فعال اور شہریوں کی محافظ ریاست ہے۔ اور وہ بلند آواز میں جیسی کہہ رہی ہو ہاں میں ہوں نا تم کیوں فکرمند ہو۔

ناروے کی سرزمین پر دہائیوں کے بعد پیش آنے والے اتنے بڑے سانحہ نے نارویجن عوام اور ریاست کی انسان دوستی کے چہرے کو نکھارتے ہوئے سماجی اور سرکاری نظام نے اپنی عوام دوستی اور خدمتگاری کی سچائی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ اتنے بڑے المناک سانحہ پر افسوس و ملال کے علاوہ کہیں سے کسی افراتفری شور و غوغا اور الزام تراشیوں کی بازگشت سننے کو نہیں ملی، جس کی وجہ عوام کا ریاستی نظام کی فعالیت اور دیانت پر اعتماد ہے۔ جہاں ہر خبر متاثرین سے اظہار ہمدردی تسلی اور دلجوئی کا منظر کشی کرتی دکھائی دی تو وہیں متاثرین کی طرف سے موصول امدادی سہولیات پر طمانیت کی باز گشت بھی سنائی دیتی رہی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ کے فرائض سے عہدہ برا ہونے پر پوری اُتری ہے۔

جائے حادثہ کے قرب جوارکے باسیوں نے اپنے گھروں کے دروازے ان متاثرین کے لیے کھول دیے اور ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لیتا دکھائی دیا۔ لیکن اس سارے حادثے کے پیش آنے پر جو چیز واضع نمایاں ہو کر سامنے آئی وہ ناروے کا ریاستی نظام ہے جو سب کے تحفظ کا ضامن ہے۔ گو انسان دوستی اور بھائی چارے کے جذبہ کے تحت پورا درامن شہر ان متاثرین کی مدد کے لیے امڈ آیا لیکن اس سارے بحران کو سنبھالنے کے لیے سرکاری مشینری بھرپور انداز میں حرکت میں آئی جس نے اپنے ذمہ داری کو پورے کرتے ہوئے اپنے وجود کی اہمیت کو منوایا اور یہ ثابت کیا کہ ریاست کس طرح بحران میں اپنے شہریوں کو سنبھال کر ان کے دکھ کا مداوا کرتی ہے۔ ناروے ریاست جمہوری اصولوں پر استوار ایک مثالی ریاست ہے جس میں عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری آئین کے تحت مقامی حکومتوں کو حاصل ہے، جو سرکاری وسائل کی دستیابی کے ساتھ عملی فلاح کو عوام تک پہنچاتی ہیں۔ مقامی حکومت یا پھر جس کو بلدیاتی حکومت بھی کہا جاتا ہے فلاحی کاموں کو عملی طور پر مہیا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔

17 جولائی کو جب یہ تباہ کن حادثہ رونما ہوا تو درامن کی مقامی حکومت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے بڑی سرعت کے ساتھ حرکت میں آئی۔ پولیس اور فائر برگئیڈ نے جائے حادثہ کو سنبھالا تو ہسپتال ممکنہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی طبی امداد کے لیے چوکس ہو گئے۔ ادھر متاثرین کو سنبھالنے کے لیے سب سے پہلے فوراً ہی ایک امدادی کیمپ قائم کیا گیا جہاں پر درامن بلدیہ کے مختلف محکموں کے اہلکار پہنچے۔ تمام متاثرین کی رجسٹریشن کرتے ہوئے ان کے لیے عارضی رہائش کا بندوبست کیا گیا۔ شہر اور قرب وجوار کے تمام ہوٹلوں سے خالی کمروں کی دستیابی کا تعین کرتے ہوئے ہر متاثرہ خاندان کو ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا۔ قطع نظر کہ ہوٹل مہنگا ہے کہ سستا فوری طور پر دستیاب ہوٹل میں مقامی امدادی اتھارٹی نے کمرے بک کروالیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی تعین ہونے لگا کہ جل کر ضائع ہونے والے سامان میں کون کون سی ضروریات زندگی کی چیزیں ہیں جن کو فَوراً خرید کر متاثرین کے لیے دستیاب کیا جائے۔  فوری طور پر تمام متاثرین کے لیے طبی امداد کا انتظام کیا گیا اور اس سلسلہ میں خاص کر ذہنی امراض کے معالجین کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا کیونکہ دکھ کی اس گھڑی میں اکثر متاثرین ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جن کو حوصلہ دلانے اور ہمت برقرار رکھنے کے لیے ایسے معالجین کا کردار کلیدی بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سب لوگوں کو مقامی اداروں کی جانب سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا گیا۔

مقامی لارڈمئیر بنفس نفیس ہر وقت موقعہ پر موجود رہے۔ پولیس اور فائیر برگیڈ نے اپنی ڈیوٹی نبھائے تو طبی امداد والے اپنے کام میں لگے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دکھ تکلیف کی اس گھڑی میں کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔ اس المیہ کے دوسرے دن کہیں سے یہ خبر نہیں آئی کہ کوئی بھی متاثرہ فرد امداد سے محروم رہا ہو اور نہ ہی یہ بات سامنے آئی کہ کسی متاثرہ فرد نے ملنے والی امداد پر مایوسی یا عدم اطمینان کا اظہار کیا ہو۔ اسی طرح مشکل کی اس گھڑی میں انشورنس کمپنیوں نے بھی مثالی کردار ادا کیا۔ انہوں نے درامن میں مقامی سطح پر جا کر اپنے امدادی دفتر قائم کیے تاکہ متاثرین کو اپنے انشورنس حقوق کےلیے کسی تردد کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ کسی مشکل سے دوچار نہ ہوں ۔

اس سارے المیہ اور مشکل کی گھڑی میں باعث اطمینان بات یہ ہے کہ سرکاری نظام توقعات اور ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ جس نے یہ ثابت کیا کہ نارویجن ریاست حقیقی معنوں میں بحران کے دوران اپنے فرائض کی ادائیگی کی اہلیت رکھتی۔ یہ آزمائش صرف متاثرین کے دلوں میں ریاستی نظام کے لیے احترام اور اعتماد کی موجب ہی نہیں بنے گی بلکہ ہر دیکھنے والے شہری کو ریاستی نظام پر اعتماد کے فروغ کی بنیاد بھی فراہم کرے گی۔ جس نظام اور حکومت پر عوام کا اعتماد ہو، اس کی خوشحالی لازم ہوتی ہے۔