ایرانی حملوں سے 2 ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگون
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ ان میں سے 96 فیصد زخمی فوجی ڈیوٹی پر واپس آچکے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا گیاتھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضا کا جائزہ لے رہی ہے، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکا ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف پہلے ہی کرچکا، ایک امریکی فوجی لاپتہ ہے، گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔اس سے پہلے ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا تھا جب کہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
امریکی فوج ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ایرانی اہداف پر رات کے وقت حملے کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو تجارتی جہازوں پر حملوں سے روکنا ہے، جبکہ ایران نے ردعمل میں اردن، کویت، بحرین اور امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے آغاز سے اب تک 413 امریکی فوجی اہلکار کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس تعداد میں اس ماہ کے زخمی شامل نہیں ہیں۔
امریکا نے مسلسل دسویں رات ایران پر بمباری کی اور ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جس کے جواب میں ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغ دیئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر حملوں کے نقصانات یا ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خلیج فارس کے ساحل پر واقع قصبے سرک کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ارنا کے مطابق آج ہونے والے دھماکوں کی صحیح جگہ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے اور بعض مقامی رپورٹس میں سمندر میں آوازیں سنائی دینے کی اطلاع ملی ہے۔دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کرمان کے علاقے رودبارِ جنوبی کی فضاؤں میں امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے کروز میزائل کو ناکارہ بنا نے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹر کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے مسلسل دسویں رات ایران پر حملے مکمل ہوگئے جس میں میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات، اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیاہے۔ ایکس پر بتایا گیا کہ ایران کے خلاف ایک اور مرحلہ وار حملے مکمل کرلیے، امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور جاری ہے۔مئی کے آغاز سے اب تک سینٹکام کی فورسز نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی ہے۔سینٹکام نے کہا کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز سے آزادانہ اور کھلے عام گزرنے والے شہری ملاحوں کے خلاف بلاجواز جارحیت پر ایران کو جواب دہ بنانے کے لیے بدستور پوری طرح تیار اور مستعد ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی اڈے پر دفاعی ریڈار سسٹم کو تباہ کیا گیا، امریکی جنگی طیاروں کے ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا، کارروائیاں دشمن کے ریڈار نظام کو ناکارہ بنانے، فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنے کے لیے کی گئیں۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں ایک امریکی تجارتی ہدف کو کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، ایرو اسپیس فورس نے متعدد کروز میزائلوں سے حملہ کر کے ایمیزون کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔ یہ حملہ دارخوین میں شہری بنیادی ڈھانچے پر امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق ایک ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں اسے نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، یہ واقعہ عمان کے علاقے لیما کے شمال مشرق میں تقریباً 8 سمندری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔کویتی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر رہا ہے۔