ایران کی پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی خواہش
پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت تقریباً تین ارب ڈالرز ہے، اسے بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانا چاہیے۔
سکندر مومنی کا یہ بیان ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے۔ ارنا کے مطابق پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مشترکہ معاہدوں، خصوصاً جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔
ارنا کے مطابق سکندر مومنی نے کہا کہ تجارتی توسیع کے منصوبوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران پاکستان سرحد سے روزانہ کم از کم دو ہزار ٹرک یا کارگو کنٹینرز کی آمد و رفت ممکن بنائی جائے۔
ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ سکندر مومنی کے وفد میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے متعدد اعلیٰ حکام کے علاوہ کسٹمز انتظامیہ اور وزارتِ خارجہ، پیٹرولیم، صنعت، کان کنی و تجارت، اقتصادی امور و خزانہ، زراعت، اور سڑکوں و شہری ترقی کی وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
سکندر مومنی نے یادگارِ شہداپر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ کو پاکستان مونومنٹ کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی، انہوں نے یادگارِ شہدا اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی و قومی اہمیت کو سراہا، جبکہ شکر پڑیاں سے اسلام آباد شہر اور مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کا بھی مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا، ڈی آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔