مہنگائی کے شکنجے میں آئے عوام
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 21 / جولائی / 2026
بارہا اعتراف کیا ہے کہ علم معاشیات کی مبادیات سے بھی نابلد ہوں۔ محدود آمدنی کا تنخواہ دار ہوتے ہوئے مہنگائی کی شدت مگر روزمرہ زندگی کی ضروریات کی بدولت محسوس کرسکتا ہوں۔ طلب ورسد کی منطق سے زیادہ ہمارے کاروباری طبقے کی ہوس منافع میری دانست میں مہنگائی کا بنیادی سبب ہے۔
سرکار کو وادی سندھ کا باشندہ ہوتے ہوئے’مائی باپ‘ تصور کرنا میری جبلت میں شامل ہے۔ بچپن سے جن بادشاہوں کی تعریفیں پہلے داستانوں اور بعدازاں کتابوں میں پڑھیں اپنے مخبروں سے روزمرہّ ضرورت کی اجناس کے نرخ جاننے کو بے چین رہا کرتے تھے۔ بسااوقات بازار میں ہوس منافع کو قابو میں رکھنے کے لئے سرکار مائی باپ بذاتِ خود روزمرہّ ضرورت کی اشیاءکا تعین کرتی۔ انہیں شہر کی دیواروں پر چسپاں کیا جاتا۔بازاروں میں ڈھونڈورچی بھی شاہی فرمان سے آگاہ رکھتے۔
برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوس منافع نے جب 1857میں غدر بھڑکایا تو وہاں کی ملکہ نے مقامی بادشاہوں کی جگہ لی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مادر وطن یعنی برطانیہ کی نگرانی میں برصغیر پاک وہند میں قائم حکومت کی انتظامی مشینری بھی قیمتوں پر کڑی نگاہ رکھتی تھی۔
زیادہ سے زیادہ مالیہ کی وصولی کی وجہ سے برطانوی ہند کے اضلاع کے حتمی افسران کو کلکٹر یعنی مالیہ اکٹھاکرنے والا افسر پکارا جاتاتھا۔ 1857کے بعد ملکہ کی متعارف کردہ حکومت میں یہ عہدہ بتدریج کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کہلوانے لگا۔ سپیشل برانچ کے چٹ کپڑی (سفید پوش) یا وردی کے بجائے عام شہری لباس پہنے سپاہی محلوں کی دوکانوں پر اشیاء کی قیمتوں پر نگاہ رکھتے۔ مہنگائی کے شکوے اعلیٰ حکام کو فی الفور پہنچادئے جاتے۔ روزمرہّ زندگی کے لئے لازمی اشیاء کے نرخوں کے اس نظام کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے بھارتی بنگال کے مشہور محقق ڈاکٹر امرتا سین نے برطانوی دور کے دوران بنگال کے قحط کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سمجھایا تھا کہ اشیائے خورونوش کی نایابی قحط کا اصل سبب نہیں ہوتی، بنیادی وجہ حکومتی نااہلی تھی۔ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں اس نے سرکاری ریکارڈ میں درج ہوئے اعدادوشمار کے ذریعے دل دہلادینے والا انکشاف کیا کہ جس برس بنگال میں قحط نازل ہوا اس برس چاول کے علاوہ دیگر غذائی اجناس کی پیداوار غیر معمولی تو نہیں مگر معمول سے زیادہ تھی۔ اس کے باوجود ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں گھرانے بھوک سے نڈھال ہوئے موت سے ہم کنار ہوئے۔
طلب ورسد کی منطق حکومتی نااہلی کی وجہ سے کیوں قابل عمل نہیں رہتی؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو تو فقط یاد کرلیں کہ رواں برس کے اپریل میں ہمارے ہاں جو گندم کٹی ہے وہ نسبتاً برے موسم اور سیلاب کے باوجود معمول سے زیادہ رہی ہے۔ کاشت کار کو مناسب دام دے کر حکومت نے اس کی وافر مقدار خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ نئی فصل کی کاشت کے لئے نقدی کی تلاش نے کاشت کار کو مجبور کیا کہ وہ آڑھتی کو اپنی پیداوار حکومت کے مقرر کردہ نرخوں سے نسبتاً زیادہ قیمت پر بیچ دے۔ گندم کی کٹائی ہوئے 3ماہ بھی نہیں گزرے ہیں لیکن ملک بھر کے تمام شہروں میں آٹے کی قیمت آسمانوں کو چھونا شروع ہوگئی ہے۔ آج سے 6ماہ قبل تک مجھے علم نہیں تھا کہ 20کلوکا تھیلا کتنے روپوں میں خریدا جاتا ہے۔ گزشتہ چار ہفتوں سے مگر اپنی بیوی کی ملازم سے بحث سے اندازہ ہوا کہ چند ہی مہینوں میں 20کلو کے تھیلے میں گرانقدر اضافہ ہوچکا ہے۔
گھر میں آئے آٹے کے مقابلے میں نان بائی کہیں زیادہ واویلا مچانا شروع ہوگئے ہیں۔سرکاری نرخوں پر میسر آٹے سے بنائی روٹی کو ان کے گاہک کھانے کو آمادہ نہیں ہوتے۔ اپنے گاہکوں کو مطمئن رکھنے کے لئے نان بائی مہنگا فائن آٹا خریدنے کو مجبور ہیں۔ اس آٹے سے بنائی روٹی کو وہ 14روپے میں بیچنے کو تیار نہیں۔ آٹے کی گرانی کے علاوہ تندور کو گرم رکھنے کے لئے خریدے گیس کے سلنڈر کی قیمت خلیج میں جاری جنگ کی وجہ سے ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔ نان بائی بضد ہیں کہ گاہکوں کو معیاری آٹے کی روٹی 25روپے سے کم پر فروخت کرنا اس کے لئے گھاٹے کا سودا ہے۔
اسلام آباد کے دیہاڑی داروں کو میں اکثر کسی نہ کسی کام کے بہانے اپنے ہاں بلالیتا ہوں۔ پورے دن کی مشقت کے بعد وہ دو ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ زندہ اور محنت کے قابل رہنے کے لئے انہیں دن میں کم از کم پانچ روٹیاں تو درکار ہوں گی۔ 5 کو 25سے ضرب دیں تو 125روپے بنتے ہیں۔ روٹی کے ساتھ اسے ناشتے میں چائے اور دوپہر اور رات کو سالن بھی درکار ہوگا۔ اس حقیقت کو نگاہ میں لائیں تو روٹی کے ساتھ وہ کم از کم مزید 300روپے بھی خرچ کرتا ہوگا۔ سوال اٹھتا ہے کہ فقط زندہ اور محنت کے قابل رہنے کے لئے اپنی ذات پر 2000میں سے 500روپے روز خرچ کرنے والا بقیہ 1500روپے روزانہ سے گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل کیسے ادا کرسکتا ہے۔ فرض کیا کسی کھولی میں دیگر مزدوروں کے ساتھ رہتا ہے تب بھی دیہات میں موجود ماں باپ یا بیوی بچوں کو کتنی رقم بچاکر بھیج سکتا ہے۔ ٹھوس اعدادوشمار پر مبنی یہ سوالات مگر ہمارے میڈیا میں اٹھائے نہیں جاتے۔
جناتی انگریزی میں بھاری بھر کم اصطلاحات سے گزشتہ کئی برسوں سے زوراس امر پر دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے عوام ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ حکومت اس کی وجہ سے غیر ملکوں سے بھاری شرح سود پر قرض لینے کو مجبور ہوجاتی ہے۔ قرض دینے والے ملک اور ادارے مگر اب تھک چکے ہیں۔ ہمیں انقلابی بنیادوں پر اصلاحات درکار ہیں۔ اس کے علاوہ اصرار یہ بھی ہورہا ہے کہ غریب اور امیر، مستحق اور غیر مستحق میں فرق کئے بغیر ہماری حکومتیں بجلی،گیس اور پٹرول جیسی بنیادی ضروریات کی وہ قیمت بھی وصول کرنے میں ناکام رہیں جو ان سہولتوں کو گھروں یا پٹرول پمپوں تک پہنچانے میں خرچ ہوجاتی ہے۔ عوام میں مقبول رہنے کے لئے ووٹ کی محتاج حکومتوں نے مذکورہ اشیاکی قیمتوں پر زرتلافی یا سبسڈی فراہم کرنا شروع کردی۔ نتیجاً قومی خزانہ خالی ہونا شروع ہوگیا۔ بالآخر ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے سے رجوع کرنا پڑا۔ اس نے ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے جو کڑوی گولیاں تشخیص کی ہیں انہیں نگلنا ہی ہوگی۔ کڑوی گولی کی برکات بیان کرتے ہوئے جناتی انگریزی میں بھاری بھر کم اصطلاحات سے مجھے اور آپ کو علم معاشیات کے مبادیات سمجھاتے ’ماہرین‘ میرے اور آپ کو یہ بیان کرنے کی جرات نہیں دکھاتے کہ پاکستان کتنی بار ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے ہاں گیا۔ ہر مرتبہ جو ’کڑوی گولیاں‘ مسلط ہوئیں ،وہ ملکی معیشت کو خوشحال ومستحکم بنانے میں ناکام کیوں رہیں۔
’کڑوی گولی‘ کے نام پر ہی اب پٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ حکومت کو ’کاروباری کاموں‘ سے الگ رکھنے کے لئے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ نام نہاد خود مختار ریگولیٹر یا (ناظم) جسے اوگرا کہا جاتا ہے ہر روز ان کے نرخ طے کرے گا اور لوگ حکومت کو ان کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ حکومت کو کاروبارسے الگ رکھنے کے نام پر’آزاد معیشت‘کے پرستار مگر اس لیوی کا ذکر نہیں کرتے جو حکومت پٹرول کے فی لیٹر فروخت کی بدولت وصول کرتی ہے۔ خلیجی جنگ کی بدلتی ہوئی صورتحال واضح طورپر عندیہ دے رہی ہے کہ آئندہ والے کئی دنوں تک پٹرولیم منصوعات کی قیمت بڑھتی رہے گی۔ حکومت ممکنہ اضافے کا ذمہ لینے کو تیار نہیں۔معاملہ تیل درآمد کرنے والے اجارہ داروں کے سپردکردیا گیا ہے تاکہ وہ جی بھر کر جنگ کی بدولت بھرپور منافع کمائیں۔
کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)